ہستیاں بستیاں
شہر کی رات بڑی اداس تھی۔ ہر طرف سنّاٹا پسرا ہوا تھا۔ اُن سرد راتوں میں گلی شاہراہوں کے کتّے آنکھیں مُوندے، سٙر ٹانگوں میں دیے بیٹھے تھے۔ اُس وقت محلوں کے پالتو کتے بھی اپنے آقا کی رکھوالی میں جاگ رہے تھے۔ ذرا سی آہٹ پاکر وہ بھی بھونکنے لگتے اور اُن کی بھوں […]
قلم قرطاس
1,75224 مارچ، 2019


