زندگانی جو یہ ہماری ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

فل اسکرین دیکھیں
زندگانی جو یہ ہماری ہے
پوچھ مت کس طرح گزاری ہے
اس لیے تجھ سے دوست داری ہے
دل کو امید زخم کاری ہے
آنکھ میں کچھ نہیں لہو کے سوا
وہ لہو مستقل جو جاری ہے
بے خودی نے بھلا دیا کہ یہاں
کیوں سکون اور بے قراری ہے
خشک ہو جائے شاخ دل نہ کہیں
سینہ محروم اشکباری ہے
صرف آواز سے نہ ٹوٹے گا
اے حسن! وہ سکوت طاری ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
زمرہ:مشق سخنحمود حسن مبارکپوریٹیگز:#اردو شاعری#اردو غزل#کلاسیکی شاعری#فری لانسر اردو میگزین#اردو ادب ممبئی#خوبصورت غزل
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





