رخ پہ یہ حزبِ مخالف کے مسرت کیسی؟
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

فل اسکرین دیکھیں
اے شبِ تار تیرے دل میں یہ وحشت کیسی
تیرے عشووں کو بہاروں سے عداوت کیسی
کیسی سوداگری یہ موت کے آقاؤں سے
قتل و خوں ریزی سے یہ تجھ کو محبت کیسی
گھٹتی آوازیں یہ جبروت کے دروازوں پر
سانس روکے ہوئے لمحوں سے مروت کیسی
سوز کے ساز پہ کیوں رقص کناں ہے سوزن
خوگرِ زخمِ سناں سے یہ بغاوت کیسی
تو اگر ساتھ میرے ہے تو جھجھکنا کیسا
رخ پہ یہ حزبِ مخالف کے مسرت کیسی
میں کوئی نالہ رسا ہوں کہ اثر رکھتا ہوں؟
میں تو فریاد ہوں بے کس کی سخاوت کیسی
میں مسافر ہوں ازل سے میری منزل ہے رفیق
مجھ کو دنیا کے تماشوں سے یہ رغبت کیسی
گرد چہرے پہ،نگاہوں میں دہکتی ہوئی آگ
ہم ہیں وحشی کسی جنگل کے نفاست کیسی
میری پیشانی پہ سجدوں کے نشاں ڈھونڈتا ہے
آج واعظ کو بھی سوجھی ہے شرارت کیسی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
زمرہ:مشق سخنمحمد وسیم مخلصؔٹیگز:#اردو شاعری#جدید اردو نظم#دی فری لانسر اردو میگزین#ادبی کلام#اردو ادب#فکر انگیز شاعری
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





