اتوار، 1 نومبر، 2026
ہوم پیج

یہ کون سا اندازِ نفاق ہم نے گھڑا ہے

کلام: محمد وسیم مخلصؔ1 نومبر، 20261,256قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یہ کون سا اندازِ نفاق ہم نے گھڑا ہے
فل اسکرین دیکھیں
شہرت کی بلندی پہ جو مٹی کا گھڑا ہے
دنیا کی نظر میں وہی انسان بڑا ہے
برداشت کی قلت ہے کہ حالات کی شدت
مزدور پسینے میں شرابور کھڑا ہے
ٹھوکر بھی لگاؤں تو ہو احساسِ ندامت
اس تاجِ تکبر کو جو قدموں میں پڑا ہے
دشمن سے بھی ہمدردی ہے یاروں سے بھی الفت
یہ کون سا اندازِ نفاق ہم نے گھڑا ہے
اوقات میں رہنا بھی نہ آیا اسے اب تک
کانٹا تھا میری راہ کا اور دل میں گڑا ہے
نخوت ہے،جہالت ہے،گماں ہے کہ انا یہ
وہ اپنی غلط بات پہ کیوں جانے اڑا ہے
اک داؤ تیرا ہے میری ہر چال پہ بھاری
لے آج میرا سر تیرے زانو پہ پڑا ہے
جینے کا بھرم اب نہ رکھا جائے ہے مخلصؔ
شل ہوچکے اعضاء میرے اور وقت کڑا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

یہ کون سا اندازِ نفاق ہم نے گھڑا ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر