جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

لفظ کی دھار سے ہم موت گوارا کرتے

کلام: ابوالمرجان فیضی25 جون، 20211,361قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
لفظ کی دھار سے ہم موت گوارا کرتے
ان کا دستور ہے خنجر نہیں مارا کرتے
وہ خدا بن گئے جو یار تھے پہلے میرے
پھر کوئی کام بھلا کیسے ہمارا کرتے
آفلائن نہ ملے شیشہ دل ٹوٹ گیا
سبز بتی پہ بھلا کیسے گزارا کرتے
یہ ریاکاری ہے جو بھوک مٹاتی ہو فقط
لذت روح و بدن اس کو پکارا کرتے
کیا ضروری تھا کہ اس برق کو چھونے کے لیے
روح کو جسم کے کاندھوں سے اتارا کرتے
لن ترانی سے جدا لن جو اگر ہوسکتا
یار تو یار ہیں ثاقب بھی نظارا کرتے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

لفظ کی دھار سے ہم موت گوارا کرتے - دی فری لانسر | دی فری لانسر