جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مال کو وصل کا معیار بنا ڈالا ہے

کلام: ابوالمرجان فیضی26 جون، 20212,099قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مال کو وصل کا معیار بنا ڈالا ہے
پھول کو کس طرح تلوار بنا ڈالا ہے
جب سمجھتے ہی نہیں کوئی گلہ کیسے کروں
خامشی کو ہی اب ہتھیار بنا ڈالا ہے
ساری دنیا کو ہے بے دام محبت کا زعم
کس نے پھر دنیا کو بازار بنا ڈالا ہے
نوکری پیشہ بھی ہیں باس کے شوہر بھی ہیں
بس اسی چیز نے مکار بنا ڈالا ہے
جو ہے ہونا وہی ہوتا ہے سدا تو کیوں کر
عشق و جذبات کو سردار بنا ڈالا ہے
پوری دنیا تو عبث ہو نہیں سکتی ثاقب
صرف مجھ کو ہی کیوں بے کار بنا ڈالا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مال کو وصل کا معیار بنا ڈالا ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر