مناظر طبیعت اور اشیاے خلقت کا اگر بغور مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیاوی لحاظ سے اسی چیز کو استحکام وپائیداری حاصل ہے جس کی نشوو نما میں ایک معتد بہ وقت لگا ہو اور جس کے پروان چڑھنے میں صبر آزما انتظار کے مرحلے سے گزرنا پڑا ہو۔بیل اور درخت ہی کی مثال لے لیجیے۔بیل جس قدر جلدی سطح زمین پر اپنے وجود کو پھیلاتی ہے اسی قدر تیز رفتاری کے ساتھ چند ہی مہینوں میں اس کا وجود معدوم بھی ہو جاتا ہے۔اس کے برعکس ایک درخت کو تناور ہونے میں طول طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔درخت فضا میں اپنی شاخیں پھیلانے سے پہلے اندرونِ زمین اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے اور ایک لمبا وقت لینے کے بعد جب تناور اور پھل دار بنتا ہے تو لوگ اس کے پھل اور سایے سے سالوں مستفید ہوتے ہیں۔
علم کا معاملہ بھی ٹھیک اسی طرح کا ہے۔وہی علم مضبوط و مستحکم اور نفع بخش ہوتا ہے جس کی بنیاد مضبوط ہو اور جس کے حصول کے لیے جید وممتاز اساطین علم و فن کے سامنے عرصہ دراز تک زانوے تلمذ تہ کیا گیا ہو۔امام شافعی رحمہ اللہ نے حصول علم کے لیے ایک طالب علم کی رہنمائی جن چھ چیزوں کی طرف کی ہے ان میں سے ایک چیز 'طول زمان' یعنی لمبی مدت بھی ہے۔محدثین،
آج کے تیز رفتار دور میں طلبہ بھی بڑے تیز رفتار واقع ہوئے ہیں۔وہ ہندوستانی مدارس وجامعات کی آٹھ سالہ مدت تعلیم کو بھی اپنے لیے گراں سمجھنے لگے ہیں۔بہت سارے طلبہ محض اس لیے ہر سال ادارہ تبدیل کرتے ہیں تاکہ وہ بیچ کی کوئی جماعت چھوڑ کر آگے چھلانگ لگا سکیں۔اس غیر دانشمندانہ چھلانگ کو کامیاب بنانے میں ہمارے مدارس کا تعلیمی معیار بھی کم ذمہ دار نہیں ہے۔جامعہ الہدی الاسلامیہ میں دوران تدریس اس بات کا تلخ تجربہ ہوا۔وہاں ثانویہ اولی میں پڑھنے والے ایک طالب علم نے ہندوستان کے معیاری کہے جانے والے اداروں میں سے کسی ادارے میں عالمیت میں داخلہ لے لیا۔یہ صرف ایک مثال ہے ورنہ اس طرح کی سینکڑوں مثالیں ہیں جو موجودہ زمانے کےطلبہ کی جلدی بازی اور بنا کچھ حاصل کیے سند فراغت لینے کی للک کو درشاتی ہیں۔اس جلدی بازی کو بڑھاوا دینے میں عوام بلکہ بعض خواص کا فاسد ذوق بھی کارفرما ہے۔دو چار تقریروں اور تحریروں کو علمی قابلیت کا معیار سمجھ لیا گیا ہے۔کثیر تعداد میں ہمارے درمیان ایسے نام نہاد مولوی موجود ہیں جنھیں احادیث کی معمولی سمجھ نہیں،
مادیت کے اس دور میں اساتذہ کی تنخواہوں کا جو معیار ہے اس نے بھی طلبہ کے استعجال بالتخرج میں اہم رول ادا کیا ہے۔طلبہ کے سامنے اپنے اساتذہ کی مالی حالت عیاں ہوتی ہے،
علمی ناپائیداری کسی مہلک وبا سے کم نہیں ہے۔وبا جسمانی اعتبار سے وقتی طور پر نقصان دہ ہوتی ہے۔جبکہ علمی سطحیت دین و ایمان کے لیے زہر ہلاہل ہے۔نااہل لوگ علم کے نام پر جب جہالت پھیلائیں گے تو روے زمین پر کس طرح کا فساد برپا ہوگا اور ہر طرف گمراہی کس تیزی سے پھیلے گی،






