انسان کی فطرت بڑی عجیب ہے۔اسے "آفر" سننا اچھا لگتا ہے،
دنیا کی کمپنیاں اس کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھاتی ہیں۔وہ جانتی ہیں کہ انسان "چھوٹ" اور "مفت" کے لفظ سے جلد متاثر ہوتا ہے۔اسی لیے وہ کبھی "ایک خریدو،
دنیاوی متاعِ حقیر کا مفت ملنا انسان کو وقتی خوشی ضرور دیتا ہے،
دنیا میں مختلف کمپنیاں اپنے پروڈکٹس کی فروخت کے لیے خوشنما اور جاذب نظر لیبل اس لیے لگاتی ہیں اور مواقع کے مطابق آفراس لیے پیش کرتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین ان سے جڑیں اور پروڈکٹ پر بھروسہ قائم ہو۔یہ دنیاوی آفر دیکھنے میں خوشگوار لگتا ہے،
انسان کی مفت پسند طبیعت کی گراں نشینیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئےشیطان نے سب سے پہلے یہی حکمت اپنائی تھی۔وہ انسان کے سامنے گناہوں کا آفر پیش کرتا ہے،
شیطان کے پہلے آفر کی مثال حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ بھی پیش آئی،
هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَا يَبْلَى
(سورۃ طٰہٰ: 120)
کیا میں تجھے دائمی زندگی کا درخت اور بادشاہت بتلاؤں جو کبھی پرانی نہ ہو۔
یہ بڑا پر کشش اور دل فریب آفر تھا،
آج بھی شیطان اسی طریقے سے انسان کو بہکاتا ہے۔انسان کی نگاہ میں نیکیوں کو مشکل سے مشکل ترین بنانے اور گناہوں کو آسان سے آسان ترین بنانے کی کوششوں میں اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ مصروف ہے۔شہوات وخواہشات کے دامِ ہم رنگ زمین میں انسان کو پھانسنے کے لیےنت نئے حربے استعمال کرتا ہے۔بدکاری پھیلانے کے لیے نکاح کو مشکل اور سفاح کو آسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ شرم و حیا مٹ جائے،
شیطان کی سب سے محبوب کوشش یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات میں دراڑ ڈال کر دونوں کو بے راہ روی کا شکار بنائے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إنَّ إبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ علَى الماءِ،
(صحیح مسلم: 2813)
ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے،
شیطان جانتا ہے کہ جب گھر کا سکون ختم ہو جائے تو انسان قلق واضطراب کا شکار ہوجاتاہے۔گناہ،
شیطان چاہتا ہے کہ انسان ظلم کرے،
«أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ؟» قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ،
(صحیح مسلم: 2581)
کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ صحابۂ کرام نے کہا کہ ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو،
دنیا کا آفر وقتی اور فریب سے بھرا ہوتا ہے،
{إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}
(سورۃ التوبۃ:111)
اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں اور قتل کرتے ہیں یا قتل کیے جاتے ہیں۔یہ اللہ کی طرف سے حق وعدہ ہے۔پس خوش ہو جاؤ اس سودے پر جو تم نے اللہ سے کیا،
اس لیے انسان کو چاہیے کہ اپنی نیکیوں کو ارزاں نہ کرے،
فِيهَا ما لا عَيْنٌ رَأَتْ،
(صحيح مسلم:2825)
جنت میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا،
ویسے تو کتاب وسنت کے اندر اللہ تعالی کے انعامات اور آخرت میں کامیابی سے ہم کنار کرنے والے اعمال کا ذکر بکثرت وارد ہے۔سر دست ذیل میں اخروی سعادت سے بہرہ ور کرنے والے چند شاندار ربانی آفرز کو ضبطِ تحریر میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
ایمان و عملِ صالح پر دائمی جنت:
ایمان وہ روشنی ہے جو دل کے اندھیروں کو اجالوں میں بدل دیتی ہے۔جب یہ روشنی عملِ صالح سے ہم آغوش ہو جاتی ہے تو انسان کے لیے جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔یہ جنت کوئی عارضی انعام نہیں بلکہ ابدی مسکن ہے جہاں نہ غم ہے نہ جدائی۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا﴾
(سورۃ الکہف: 107)
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے،
ایک نیکی کا بدلہ دس نیکیوں کے برابر:
اللہ تعالی نے فرمایا:
{مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا}
(سورۃ الأنعام:160)
جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے۔
حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
یہ اللہ تعالی کے اس فضل واحسان کا بیان ہے جو اہل ایمان کے ساتھ وہ کرےگاکہ ایک نیکی کا بدلہ دس نیکیوں کے برابر عطا فرمائے گا۔یہ کم از کم اجر ہے۔ورنہ قرآن اور احادیث دونوں سے ثابت ہے کہ بعض نیکیوں کا اجر کئی کئی سو گنا بلکہ ہزاروں گنا تک ملےگا۔(احسن البیان)
رمضان المبارک سالانہ انعامِ رحمت و مغفرت:
رمضان المبارک اللہ کی جانب سے سالانہ ایک عظیم آفر ہے،
آپ ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ،
(صحيح مسلم: 1079)
جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں،
یہ مہینہ گناہوں کی بخشش،
آپ ﷺ نے فرمایا:
مَن صامَ رمضانَ إيمانًا واحتسابًا غُفِرَ له ما تقدَّمَ من ذنبِه
(بخاری: 38)
جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے،
روزہ داروں کے لیے ” بابُ الرَّیَّان“ کی خوشخبری:
روزہ ایک عظیم عبادت ہے۔اس میں نہ نمود ہے نہ شہرت،
آپ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ،
(بخاری: 1896)
جنت میں ایک دروازہ ہے جسے “الریان” کہا جاتا ہے،
شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر:
یہ وہ رات ہے جب آسمان رحمتوں سے بھر جاتا ہے اور زمین پر سکون اتر آتا ہے۔عبادت کی یہ ایک رات،
اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾
(القدر: 3)
شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
رات کا آخری پہر:
ہر رات کا آخری پہر اور سحر کے وقت اللہ تعالیٰ بندوں کو خصوصی رحمت و مغفرت کا آفر دیتا ہے۔یہ وہ وقت ہے جب دعا،
آپ ﷺ نے فرمایا:
«يَنْزِلُ رَبُّنَا كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا،
(البخاري: 1145،
اللہ تعالیٰ ہر رات آخری تہائی حصے میں دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے: کون ہے جو مانگ رہا ہے کہ میں اسے دوں؟ کون ہے جو دعا کر رہا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟
جمعہ سب سے بہتر دن اور اس کی ایک مخصوص گھڑی:
جمعہ کا دن سید الایام ہے۔اللہ کی طرف سےبندوں کے لیے یہ ایک خصوصی عنایت ہے،
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الجُمُعَةِ»
(مسلم: 854)
سب سے بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا وہ جمعہ کا دن ہے۔
نیز آپ ﷺ نے فرمایا:
«فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ»
( مسلم: 852)
اس دن ایک ایسی گھڑی ہے جس میں کوئی مسلمان دعا کرے تو اللہ اسے عطا فرماتا ہے۔
قرآنِ مجید کی تلاوت جنتی نور اور شفاعت:
قرآن وہ کلام ہے جو دنیا میں دل کو جلا دیتا ہے،
آپ ﷺ نے فرمایا:
اقرؤوا القرآنَ فإنه يأتي يومَ القيامةِ شفيعًا لأصحابِه
(مسلم: 804)
قرآن پڑھو،
دوسری روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا:
«منْ قرأَ حرفًا من كتابِ اللهِ فله به حسنةٌ،
(صحيح الترمذی: 2910)
جو شخص اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھے گا،
انفاق فی سبیل اللہ:
صدقہ اور خیرات صرف دنیاوی مدد نہیں بلکہ آخرت میں درجات بڑھانے اور گناہوں کو مٹانے کا شاندار آفر ہے۔چھوٹا صدقہ بھی اللہ کے ہاں بڑے اجر کا سبب بنتا ہے اور جو دل سے خرچ کرتا ہے،
اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ﴾
(البقرة: 261)
جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں،
صدقہ انسان کو صرف غربت سے نہیں بچاتا بلکہ بلاؤں اور مصیبتوں سے ڈھال بن جاتا ہے۔جو بندہ خلوص سے دیتا ہے،
آپ ﷺ نے فرمایا:
الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ المَاءُ النَّارَ
(صحيح الترمذی: 614)
صدقہ گناہوں کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے۔
یتیم نوازی پر جنت میں نبی ﷺ کی رفاقت:
یتیم کا سر سہلانا دراصل رحمت کے دروازے کھول دینا ہے۔جو دل یتیم کے درد سے دھڑکے،
آپ ﷺ نے فرمایا:
أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا
(بخاری: 5304)
میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں یوں ہوں گے (اور آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیاں ملا لیں)۔
صلہ رحمی عمر او ر رزق میں برکت کا سبب:
رشتے جوڑنا محض اخلاق نہیں،
آپ ﷺ نے فرمایا:
مَن أحبَّ أن يُبسطَ له في رزقِه،
(بخاری: 5986)
جو چاہتا ہے کہ اس کا رزق بڑھایا جائے اور عمر میں برکت ہو،
درودِ پاک قربِ مصطفی ﷺ کا ذریعہ اور جنت کا راستہ:
درود،
آپ ﷺ نے فرمایا:
مَن صلّى عليّ واحدةً،
(مسلم: 408)
جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے،
حسنِ اخلاق پر نبی ﷺ کی قربت:
اچھے اخلاق وہ آئینہ ہیں جس میں ایمان کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔نرمی،
آپ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا
(ترمذی: 2018)
تم میں سے سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے قریب وہ ہوگا جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے۔
صبر پر بے حساب اجر:
صبر کوئی کمزور دل کی کیفیت نہیں،
اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾
(سورۃ الزمر: 10)
بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔
حج اور عمرہ گناہوں کی معافی:
حج ایمان کی تکمیل ہے۔جو بندہ خلوص کے ساتھ حج کرتا ہے،
آپ ﷺ نے فرمایا:
مَن حجَّ هذا البيتَ فلم يرفثْ ولم يفسقْ،
(بخاری: 1521)
جس نے حج کیا،
نیکی کی رہنمائی پر اجر کی بشارت:
جو شخص کسی کو نیکی کی طرف رہنمائی کرے،
آپ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ»
(صحیح مسلم: 1897)
جو شخص کسی کو نیکی کی طرف رہنمائی کرے،
سطورِ بالا میں ان چنداخروی آفر کو بطور مشتے نمونہ از خروارے معرضِ تحریر میں لایا گیا ہے۔دراصل یہ رحمتِ الٰہی کے مظاہر ہیں۔کتاب وسنت کے اندر ایسے بے شمار مواقع ومناسبات کا ذکر ہے جن سے ہم بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں اوراپنے نیک اعمال کے ذریعے ابدی کامیابی وکامرانی سے ہم کنار ہو سکتے ہیں۔اس حقیقت کا ہر شخص معترف ہے کہ موت کا مزہ ہر ذی روح کو چکھنا ہے۔دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں فناپذیر ہیں۔یہاں کی تجارت ختم ہو جائے گی،
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ان مواقع کو غنیمت جاننے اور اپنے قلوب واذہان کو ایمان وعمل صالح کی روشنی سے منور کرنے کی توفیق دے اور ہمیں جنت کی دائمی راحتیں نصیب فرمائے۔آمین






