ایک آدمی اپنے آپ کو اہل حدیث کہتا ہے اور سلفیت سے بیر رکھتا ہے،
کیوں وہ علماء کے نقد کو نشانہ بناتے ہوئے اس سے کہیں سخت نقد کرتا ہے،
حال یہ ہے کہ بدعتوں کو پروموٹ کرنے والا معاف کردیا جاتا ہے اور اخوانیوں کو اہل سنت میں شامل کرنے والا بخش دیا جاتا ہے۔جب کہ دن رات بدعتوں اور بدعتیوں سے سلفیوں کو آگاہ کرنے والا،
سلفیت کیا ہے جب یہ بتایا جاتا ہے،
سید قطب کو 'مالہ و ماعلیہ' کی بحث میں لے جاکر کلین چٹ دینا نری اخوانیت ہے،
اپنا موقف کیسے پیش کیا جاتا ہے؟ کسی بھی سوال کا جواب کیسے دیا جاتا ہے،
علامہ احمد شاکر،
اخوانیت اپنے وجود سے ایک شر پسند جماعت اور اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار رہی ہے۔انہی کی مدد سے اس کی نشونما ہوئی اور انہی کی پشت پناہی سے یہ تنظیم کھڑی ہوئی۔آج تک اعدائے اسلام سے اس کا ٹھوس تعاون جاری اور اس کے مضبوط تعلقات استوار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ معاصر ائمہ علم کا موقف اس تنظیم کے تئیں واضح،
شمس الائمہ علامہ احمد شاکر-رحمہ اللہ-(وفات: 1958ء) کا شمار عصر حاضر کے محدثین میں ہوتا ہے۔آپ عربی زبان وادب کے بے نظیر عالم علامہ محمود شاکر-رحمہ اللہ-(وفات: 1997ء) کے بڑے بھائی اور عصر حاضر کے ان علماء میں سے تھے جنھوں نے تعلیم وتعلم،
تفسیر سے لے کر عربی زبان وادب تک مختلف علوم وفنون کی آپ نے خدمت کی اور اس پیمانے پر کی کہ علمی میدان میں ثقاہت کی ایک علامت بن گئے۔کسی کتاب کے ٹائٹل پر آپ کا نام طالب علم کے لیے ایک طرح کی ضمانت ہوتا ہے۔
بحث وتحقیق کے میدان میں آپ بیسویں صدی کے ان ائمہ میں سے تھے جنھیں اللہ تعالىٰ نے خصوصی توفیق سے نوازا تھا۔بڑے ہی ذکی الحس اور باریک بیں تھے۔نصوص کی ایسی اصلاح کرتے تھے کہ بمشکل درست الفاظ کے اختیار میں آپ سے غلطی ہوتی تھی۔تحقیق نصوص میں یہی ملکہ آپ کے چھوٹے بھائی علامہ محمود شاکر-رحمہ اللہ-(وفات: 1997ء) کے پاس تھا-آپ دیار مصر میں منصب قضا پر بھی فائز ہوئے اور ملک کے اعلى ترین کورٹ میں جج کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں۔
امام شافعی-رحمہ اللہ-کی معروف کتاب "الرسالۃ" اور ان کے شاگرد رشید امام اہل السنۃ احمد بن حنبل-رحمہ اللہ-کے مسند کی آپ نے تحقیق کی۔آپ اصلاً حنفی تھے،
الاخوان المسلمون کا بانی حسن البنا بھی مصری تھا۔اس کی پیدائش 1906ء میں ہوئی۔1928ء میں اس نے اپنی معروف فسادی جماعت "الاخوان المسلمون" کی بنیاد ڈالی۔1949ء میں اسے قتل کردیا گیا۔
علامہ احمد شاکر-رحمہ اللہ-کی پیدائش 1892ء جبکہ وفات 1958ء میں ہوئی۔آپ نہ صرف حسن البنا سے تقریباً14 سال بڑے تھے بلکہ آپ کی وفات بھی حسن البناکی موت کے تقریباً 9 سال بعد ہوئی۔
حسن البنا کی پوری زندگی آپ کے سامنے تھی۔جس وقت حسن البنا کی پیدائش ہوئی آپ تقریباً 14 سال کے تھے۔جب اس نے الاخوان المسلمون نامی فسادی تنظیم کی بنیاد ڈالی اس وقت آپ تقریباً 36 برس کے تھے۔جب اسے قتل کیا گیا اس وقت آپ کی عمر تقریباً 57 سال تھی۔
علامہ احمد شاکر-رحمہ اللہ-کے سامنے حسن البنا کی پوری زندگی کھلی کتاب کی طرح تھی۔آپ ایک حساس دل رکھنے والے ملک کے معروف ترین عالم دین اور اپنے زمانے میں حوادث مصر کے عینی شاہد اور زیرک گواہ تھے۔منصب قضا جیسے حساس پوسٹ پر رہنے کی وجہ سے آپ کو اس جماعت کی سرگرمیوں کا بھی بخوبی علم تھا۔
اس مفسد ومہلک جماعت کو علامہ احمد شاکر-رحمہ اللہ-خوارج کی جماعت کہتے تھے۔آپ نے بہت کھل کراس کے بارے میں فرمایا:
"حركةُ الشيخ حسن البنا وإخوانِه المسلمين الذين قلَبوا الدعوة َالإسلاميّةَ إلى دعوةٍ إجراميّةٍ هدّامةٍ،
(شؤون التعليم والقضاء 1/48)
یعنی: شیخ حسن البنا اور ان کی "الإخوان المسلمون" جنھوں نے اسلامی دعوت کو ایک مجرمانہ اور تخریب کار دعوت میں تبدیل کردیا؛
علامہ احمد شاکر-رحمہ اللہ-جیسی شخصیت جو علم وعرفان کا پہاڑ ہے۔میدان بحث وتحقیق کا شہسوار ہے۔محدث ہے۔فقیہ ہے۔اعلى ترین محکمہ میں جج ہے۔مصر میں جاری معاصر علمی ودعوتی سرگرمیوں کا چشم دید گواہ ہے،
کیا ایسے شخص کی بات نظر انداز کی جاسکتی ہے؟ اسے جھٹلایا جا سکتا ہے؟ اسے مبالغہ آرائی یا غلط بیانی پر محمول کیا جا سکتا ہے؟
محدث عصر علامہ محمد ناصر الدین البانی-رحمہ اللہ-(وفات: 1999م)کو کون نہیں جانتا؟ آپ تنہا ایک عہد زریں تھے۔ایک تاریخ ساز شخصیت کے مالک تھے۔آپ نے سنت رسول صلى اللہ علیہ وسلم کی ایسی خدمت کی کہ علامت بن گئے۔احادیث کی صحت وضعف کے باب میں آپ متقدمین ائمہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے۔کسی حدیث کے تئیں جب "صحّحہ الألبانی" کہا جاتاہے تو اس کی صحت پر گویا مہر لگ جاتی ہے۔پڑھنے اور سننے والے کو ایک طرح کا اطمینان ہوجاتا ہے۔آپ سچے معنوں میں ایک مجدد تھے۔احادیث کی چھان پھٹک میں آپ نے ایسی روح پھونکی کہ ائمہ عظام کی روش زندہ ہوگئی۔عصر حاضر میں آپ سے بڑا حدیث کا کوئی عالم اور سنت کا ویسا خادم دور دور تک نظر نہیں آتا۔عالم اسلام کی عظیم یونیورسٹی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں آپ نے تدریسی فرائض انجام دیے۔سنت نبوی کی عظیم خدمات پر آپ کو فیصل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
سنت کے اس عظیم خادم کی رائے بھی اخوانیوں کے بارے میں بہت صریح اور دو ٹوک ہے۔آپ کے نزدیک "الاخوان المسلمون" کو اہل سنت کہنا درست نہیں ہے کیونکہ جو جماعت سنت ہی سے نبرد آزما ہو اسے اہل سنت کیسے کہہ سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا: "لیس صوابا أن یقال: إن الإخوان المسلمین ھم من أہل السنۃ؛
اخوانیوں کی سنت سے برگشتگی اور محبین سلف سے ان کی دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔مشہور معاصر عالم دین اور سعودی عرب میں اسلامی امور کے سابق وزیر صالح آل الشیخ-حفظہ اللہ-نے بھی بہت وضاحت کے ساتھ اس امر کی طرف یہ کہہ کر اشارہ کیا ہے:
"ممّا یُمیّزُ الإخوانَ عَنْ غیرِھم أنّھم لا یحترِمونَ السنۃ،
(فتاوى العلماء فی الجماعات وأثرھا على بلاد الحرمین،
یعنی: اخوانیوں کو جو چیزیں دوسروں سے الگ کرتی ہیں ان میں سے ایک چیز سنت اور اہل سنت کے تئیں ان کا نامناسب رویہ ہے۔وہ نہ تو سنت کا احترام کرتے ہیں نہ ہی اہل سنت سے محبت کرتے ہیں۔اگرچہ عموماً وہ اس کا اظہار نہیں کرتے ہیں۔تاہم حقیقت یہی ہے کہ وہ سنت رسول-صلى اللہ علیہ وسلم-سے محبت نہیں کرتے ہیں۔
علامہ البانی-رحمہ اللہ-نے اخوانی جماعت کو صرف سنت سے جنگ کرنے والی جماعت کہنے پر اکتفا نہیں کیا ہے،
(مأخوذ من بعض دروسہ الصوتیۃ المنشورۃ على الیوتیوب )
یعنی: حماس کی یہ تحریک اسلامی تحریک نہیں ہے۔چاہے آپ مانیں یا نہ مانیں "۔"شئتم أم أبیتم" کہہ کہ جس طرح آپ نے اس امر کی تاکید کی ہے وہ اہل نظر پر مخفی نہیں۔
جب ہم حماس کے کرتوتوں پر نظر ڈالتے اور غزہ سمیت فلسطین کی بربادی میں اس کا چوطرفہ کردار دیکھتے ہیں تو آپ کی بات حرف بحرف درست معلوم ہوتی ہے اور آپ کی بصیرت وفراست پر رشک آتا ہے۔
علامہ عبد العزیز بن عبد اللہ المعروف بابن باز-رحمہ اللہ-(وفات: 1999ء) اس زمانے کے ان علماء میں سے تھے جن کی امامت،
واقعی ابن باز-رحمہ اللہ-کی شخصیت عدیم النظیر تھی۔عالم اسلام کی معروف ومبارک یونیورسٹی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے ایک زمانہ تک آپ وائس چانسلر رہے۔طلبہ کے ساتھ حسن تعامل،
آپ نے اس اخوانی جماعت کو ان بہتر(۷۲) فرقوں میں شمار کیا ہے جو ہلاک ہوں گی۔وفات سے محض دو سال قبل طائف میں ایک درس کے دوران آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا تبلیغی جماعت اور "الاخوان المسلمون" ان بہتر فرقوں میں داخل ہیں جو ہلاک ہونے والی ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں وہ ان بہترفرقوں میں داخل ہیں جو ہلاک ہوں گی۔آپ سے دوبارہ بطور تاکید یہی بات پوچھی گئی تو آپ نے پھر تاکید کی یہ انہی بہتر فرقوں میں سے ہیں جو ہلاک ہونے والی ہیں۔(شہر طائف میں دیے گئے دروس پر مشتمل ایک کیسٹ سے ماخوذ)
محدث مصر علامہ احمد شاکر،
علامہ احمد شاکر-رحمہ اللہ-مصری ہیں۔مصر کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔وقت کے محدث وفقیہ ہیں۔منصب قضا پر براجمان ہیں۔ایک معاصر جماعت کے بارے میں یقین کے ساتھ ایک نہایت اہم اور سنگین بات کہہ رہے ہیں۔اسے یہودیوں اور اشترکیوں کا پروردہ بتا رہے ہیں۔یقینی علم کا حوالہ بھی دے رہے ہیں۔
علامہ البانی-رحمہ اللہ-عظیم محدث ہیں۔سنت سے آپ کی محبت اور احادیث مبارکہ سے آپ کا شغف ضرب المثل ہے۔آپ اس بات کے لیے قطعاً تیار نہیں ہیں کہ اخوانیوں کے لیے اہل سنت جیسا مبارک لقب استعمال کیا جائے اور انھیں اہل السنۃ میں شمار کیا جائے۔وجہ آپ یہ بتاتے ہیں کہ یہ جماعت سنت کی دشمن اور اس سے نبردآزما ہے۔یہی نہیں اخوانیوں کی نیم رافضی جماعت "حماس" کی تحریک کو بھی آپ یہ کہہ کر ایک غیر اسلامی جماعت قرار دیتے ہیں کہ کوئی مانے یا نہ مانے یہی حقیقت ہے۔
امام العصر علامہ ابن باز-رحمہ اللہ-جیسی متفق علیہ شخصیت جس کا تقوى،
اس کے باوجود فکری انحراف کا جو سیلاب سنیوں میں آیا ہے اور برصغیر میں رافضیت کے ساتھ ساتھ جس طرح مودودیت اور تحریکیت نے اپنے پاؤں پسارے ہیں،
اس جماعت کے شروفساد کو نہ اخوانی قبول کرنے کو تیار ہے،
آپ کسی اخوانی،
وہ علامہ احمد شاکر-رحمہ اللہ-کی بات بڑی آسانی سے رد کردے گا۔علامہ البانی-رحمہ اللہ-کے موقف کو ٹھوکر مار دے گا۔علامہ ابن باز-رحمہ اللہ-کے فتوى کو درکنار کردے گا؛
ہمارے دانشوروں اور سہولت کاروں کا وہ طبقہ جو اخوانیوں ہی نہیں رافضیوں کو بھی اسلام کا خیر خواہ سمجھتا ہے وہ بھی ان ائمہ علم-رحمہم اللہ-کی بات سن کر منہ بسور لے گا۔یا تو انھیں یکلخت رد کر دے گا یا ان کی تاویل تلاش کرنے میں لگ جائے گا۔مگر مانے گا نہیں۔بس چلے گا تو ان پر رد بھی کرے گا۔کچھ نہ بن سکے گا تو خاموش ہوکر مناسب موقع کا انتظار کرے گا۔سب کچھ کرے گا مگر یہ تکلف کبھی نہیں کرے گا کہ چلیں ایک لمحہ ٹھہر کر سوچ لیں کہ آخر اس قدر ذی علم،
چاہے وہ عالم عرب کا اخوانی ہو یا برصغیر کامودودی وتحریکی یا پھر کوئی دانش ور اور سہولت کار،
حالانکہ اگر وہ ان ائمہ علم-رحمہم اللہ-کی باتوں پر غور کرلے،
تاہم تحریکی کی طرح دانش ور کے لیے بھی اس طرح کی باتوں کو قبول کرلینا آسان نہیں ہوتا۔ایک سبب تو اس کا یہ ہے کہ اس کے یہاں اہل علم کا وہ احترام ہی نہیں ہوتا کہ وہ ان کے مواقف کو اپنی عقلانیت پر ترجیح دے۔اس کے یہاں معتبر سے معتبرعلماء کا بھی وہ مقام نہیں ہوتا کہ ان کی باتیں سن کر اپنے دل ودماغ میں بیٹھی کوئی فرسودہ فکر تبدیل کرلے۔عقلانیت کے پردہ میں چھپا زعم وغرور اور تعقل کی دبیز چادر میں لپٹا تکبر اسے کبھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔
ہاں موقف من موافق ہو تو انہی اہل علم کی بات سے نہ صرف مکمل اتفاق واطمینان ہوجاتا ہے بلکہ زیر بحث مسئلہ میں وہ بات اس کی گفتگو کا عنوان بن جاتی ہے۔ایسا نہ ہو تو آپ پڑھتے اور سنتے چلے جائیں،
اسی لیے کہتے ہیں کہ تحریکی کی طرح دانش ور بھی ہر مسئلہ کو صاحب مسئلہ سے زیادہ جانتا ہے۔وہ غزہ کو اہل غزہ سے،
دوسری مشکل یہ ہے کہ اگر وہ یہ بات تسلیم کرے کہ اخوانی جماعت ایک مہلک اور فسادی جماعت ہے تواس کے صنم کدے میں موجود اکثر نظریاتی بت منہ کے بل گر جائیں گے۔اس کے فکری کاروبار کی تجارتی عمارتیں زمیں بوس ہو جائیں گی۔پھر نہ وہ "حماس" جیسی نیم رافضی جماعت کی حمایت کرپائے گا،
تیسری اور سب سے اہم چیز حسن توفیق ہے جو صراط مستقیم کی حصولیابی کے لیے سب سے ضروری ہے۔اگر توفیق الہی نہ ہو تو سورج بھی آنکھوں کو روشنی فراہم کرنے سے عاجز ہوجاتا ہے۔نور بصیرت ماند پڑ جاتی ہے۔بصارت کی حدت کمزور ہوجاتی ہے۔پھر سورج کی وہی کرنیں جو روشنی کا انتظام کرتی اور بینائی کو رسد پہنچاتی ہیں؛
اللہ تعالى سے دعا ہے کہ وہ ہمیں فہم وبصیرت عطا کرے۔حق کی معرفت اور حقیقت کا ادراک دے۔سچائی کو جاننے،






