جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اب بھی شہر کو آگ لگایا جا سکتا ہے

کلام: سراج عالم زخمی30 جون، 20211,515قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
طوفانوں سے ہاتھ ملایا جا سکتا ہے
چاہو تو غم کو ٹھکرایا جا سکتا ہے
ان کی صورت چاند سے ملتی جلتی ہے جی
ان کو دیکھ کے جشن منایا جا سکتا ہے
ان کی خاطر تو ہم جان بھی دے سکتے ہیں
کم سے کم اک بار دکھایا جا سکتا ہے
خود کو جس دن بھولے ہم احساس ہوا یہ
ان کو بھی اک بار بھلایا جا سکتا ہے
پھول کے جیسے ہونٹ اگر کچھ جھوٹ کہیں تو
ہنستے ہنستے دھوکا کھایا جا سکتا ہے
اب بھی لوگ سند رکھتے ہیں اخباروں کو
اب بھی شہر کو آگ لگایا جا سکتا ہے
لفظوں نے جب مارا تب محسوس ہوا ہے
باتوں میں بھی زہر ملایا جا سکتا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اب بھی شہر کو آگ لگایا جا سکتا ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر