وہ چاہتا تھا کہ رخ حیات موڑ کر چلے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وہ منتشر وجود کو ہمیشہ جوڑ کر چلے
مگر سماج ہر قدم اسے مروڑ کر چلے
حجاب و دید میں اسے روایتوں کی لاج تھی
کبھی نہ یہ ہوا کہ وہ رواج توڑ کر چلے
بقدر ظرف بادہ گر دہند ایں ستم بُوَد!
انڈیل اس قدر دیا کہ جام پھوڑ کر چلے
تھی نقد عمر اس کے پاس ایک مشت ہی مگر
وہ چاہتا تھا کہ رخ حیات موڑ کر چلے
یہ ریت نہ بجھا سکی کسی کی پیاس کو مگر
بخیل بحر بیکراں اسے نچوڑ کر چلے
جو مانتے تھے ثاقبا! میں ان کے بعد کچھ نہیں
قرار آئے کس طرح؟ مجھے وہ چھوڑ کر چلے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





