ہم نے سنا ہے تم کو، کام آتا ہے رفو کا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کیسا مچا ہوا ہے یہ شور ہاؤ و ہو کا
عالم بدل گیا ہے گلشن میں رنگ و بو کا
ہم نے تمھاری خاطر کتنا لہو ہے تھوکا
"ہوتا ہے غم کے ہاتھوں اب خون آرزو کا"
دل کی سنائیں کس کو، ہے زخم زخم سارا
ہم نے سنا ہے تم کو، کام آتا ہے رفو کا
آساں نہیں ہے اے دل! راہ وفا پہ چلنا
پھر وہ سنبھل نہ پایا اک بار بھی جو چوکا
اے عشق! تیری منشا کب سے بدل گئی ہے
تو کیسے ہوگیا ہے حرص و ہوس کا بھوکا
واعظ، خطیب، شاعر ہیں سر میں سر ملاتے
جب سے ہوا ہے شہرہ دنیا میں خوش گلو کا
اوروں کی قدر میں ہی، اپنی ہے قدر مضمر
بن جائیے محافظ اوروں کی آبرو کا
بنتے بگڑتے دیکھے ہم نے جہاں میں رشتے
کرتا ہے دوست، دشمن انداز گفتگو کا
ضامن فلاح کی ہے یہ مستقل مزاجی
مد مقابل اب تک دیکھا نہ ایک سو کا
جس کو خدا سخن کا کہتے ہیں اہل اردو
ازبر ہے وہ سبھی کو، گو چل بسا کبھو کا
برسوں سے ڈھونڈتا ہوں اس کو سحر جہاں میں
کوئی نتیجہ نکلے میری بھی جستجو کا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (2)
س
سعد احمد
6 جولائی، 2021استادانہ کلام
م
معز حسن قریشی
5 جولائی، 2021بہترین غزل استاد محترم ہر ہر شعر قابل تعریف ہے
اللہ آپ کو ترقیاں نصیب فرمائے آمین





