آساں نہ ہو، تو نہ سہی، لیکن گراں نہ ہو
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کوئی پناہ کوئی بھی جائے اماں نہ ہو
یارب جہاں میں کوئی کبھی بے مکاں نہ ہو
وہ ابتلا کہ جس سے گزارے گئے ہیں ہم
ایسے کسی حریف کا بھی امتحاں نہ ہو
ہوش و حواس پر ہو مسلط ہر ایک پل
اتنا بھی میرے یار کوئی مہرباں نہ ہو
اے دل کسی عزیز کی رحلت نہ پوچھیے
لگتا ہے جیسے سر پہ کوئی آسماں نہ ہو
ہو زندگی سے اتنی سہولت نصیب کہ
آساں نہ ہو، تو نہ سہی، لیکن گراں نہ ہو
ہر بات صاف لہجے میں کہہ دیجیے جناب
تاکہ کسی کو شکوہ کوئی کل کلاں نہ ہو
تپتا ہوا وجود ہے صحرائے زیست میں
جب تک محبتوں کا ندا سائباں نہ ہو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





