ترا آج اس طرح ہے کہ جواب کل نہ آئے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مجھے جن کو دیکھنا تھا وہ جناب کل نہ آئے
اگر ان سے روٹھ جاؤں تب و تاب کل نہ آئے
مرے پاس زر نہ گھر ہے انھیں کیا کروں گا لا کر
برے وقت ساتھ دینا! یہ شباب کل نہ آئے
یہ رجائیت پسندی ہے قنوطیت کا چشمہ
ترا آج اس طرح ہے کہ جواب کل نہ آئے
اگر حسن با وزن تھا تو کمر نہ ہوتی نازک
یہاں عدل کوئی کردے تو حساب کل نہ آئے
سبھی بن گئے فرشتہ میں ہی ایک آدمی تھا
بنوں میں بھی گر فرشتہ تو ثواب کل نہ آئے
مری جز رسی پہ ثاقب کوئی داد دے یا نہ دے
جو حَرَف نہ میں سنبھالوں تو کتاب کل نہ آئے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





