جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

بارِ امیدِ فصل ہے دہقاں لیے ہوئے

کلام: فیضان اسعد1 اکتوبر، 20211,256قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہر چہرہ دیکھتا ہوں میں ارماں لیے ہوئے
گم ہو گیا ہوں شہر میں پہچاں لیے ہوئے
دل کا تھا حکم ہاتھ نے تلوار چھوڑ دی
قاتل کھڑا تھا خنجرِ مژگاں لیے ہوئے
مشکل ترین سارے سوالات حل کیے
مشکل میں پڑ گیا ہوں میں آساں لیے ہوئے
بزمِ رقیب میں یہ لگائی گئی ہے شرط
ملنا ہے سب سے چہرۂ خنداں لیے ہوئے
کیسے بلندیاں ہوں تمھارے نصیب میں
پھرتے ہو تم تو حیطۂ امکاں لیے ہوئے
شاید کرم ہو فرمانرواؤں کا ایک دن
بارِ امیدِ فصل ہے دہقاں لیے ہوئے
کیا کم تھے دوستا! یہ رقیبانِ شہر سب
آمد ہوئی تمھاری دل و جاں لیے ہوئے
جینا اگر ہے لازمی اے مورِ ناتواں
پھرنا ہے در بہ در غمِ دوراں لیے ہوئے
امید ہے کہ پوری ہو اسعؔد کی داستاں
نکلا ہے راہِ عشق میں عنواں لیے ہوئے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

م
معین الحق
2 اکتوبر، 2021
زندہ کلام

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

بارِ امیدِ فصل ہے دہقاں لیے ہوئے - دی فری لانسر | دی فری لانسر