جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مقابلہ ہے زمانے سے آفتاب کے ساتھ

کلام: سراج عالم زخمی10 اکتوبر، 20211,966قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہوا کی زد میں بھی روشن تھے آب وتاب کے ساتھ
مرے چراغ بھی ٹوٹے ہیں میرے خواب کے ساتھ
چلو وہ آج نہیں آیا، کل تو آئے گا
تمام عمر کٹی ہے اسی عذاب کے ساتھ
کمر کے ساتھ یہ گردن بھی جھک گئی میری
مرا غرور بھی ڈھلتا رہا شباب کے ساتھ
سروں پہ دھوپ لیے پھر رہے ہیں مفلس لوگ
مقابلہ ہے زمانے سے آفتاب کے ساتھ
جناب، حضرت عزت مآب، عالی جاہ
ملا ہے جب بھی وہ ظالم اسی حجاب کے ساتھ
گریں گے اور بھی دو چار صحن مقتل میں
سروں کا ربط پرانا ہے انقلاب کے ساتھ
کسی فقیر کی خوشبو ہے اس کی باتوں میں
وہ اختلاف بھی کرتا ہے جی جناب کے ساتھ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مقابلہ ہے زمانے سے آفتاب کے ساتھ - دی فری لانسر | دی فری لانسر