واقعی آب و ہوا شہر کی باسی ہے بہت
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بات دل کی نہ کرو دل میں اداسی ہے بہت
جسم تو جسم ہے یہ روح بھی پیاسی ہے بہت
نئی تہذیب سے اب اور توقع کیا ہو
کوئی عریاں نہیں اتنی بھی لباسی ہے بہت
بے سنے لوگ غزل ’واہ‘ کہے جاتے ہیں
آپ سمجھو ہو یہاں قدر شناسی ہے بہت
سب کے لہجے میں تھکن سب کی نگاہوں میں غبار
واقعی آب و ہوا شہر کی باسی ہے بہت
یوں تو صفحات بھی کافی نہیں ہوتے زخمی
ہاں اگر دل سے کرو بات ذرا سی ہے بہت
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





