سارے آوارہ گھر ہی جائیں گے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
رفتہ رفتہ سنور ہی جائیں گے
سارے آوارہ گھر ہی جائیں گے
آپ زحمت نہ کیجیے صاحب
زخم میرے ہیں بھر ہی جائیں گے
آپ دل میں جگہ بنا نہ سکے
آپ دل سے اتر ہی جائیں گے
دل دھڑکتا ہوا اگر ان کو
پیش کر دوں تو ڈر ہی جائیں گے
اتنی ترتیب سے ہمیں جاناں
مت سنوارو بکھر ہی جائیں گے
جینے والوں کا مسئلہ ہے یہاں
مرنے والے تو مر ہی جائیں گے
چند لمحے ہیں زندگی کے حسن
بے خودی میں گزر ہی جائیں گے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (2)
O
Obaidullah
10 مئی، 2024Ma Sha Allah
ع
عمار بن یاسر
1 جنوری، 2022ماشاء اللہ بہت شاندار۔
اللہ رب العالمین آپ کو خوب ترقی دے۔





