جہاں تک دیکھتا ہوں دل کی ویرانی نہیں جاتی
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مری چشمِ تمنا کی پریشانی نہیں جاتی
جہاں تک دیکھتا ہوں دل کی ویرانی نہیں جاتی
بہت پہلے کہیں اے زندگی شاید ملے تھے ہم
تری صورت مگر آنکھوں سے پہچانی نہیں جاتی
لٹی جاتی ہے آنکھوں کی بصیرت اور بصارت بھی
مگر دل سے مرے وہ جلوہ سامانی نہیں جاتی
تعلق کچھ تو ہے اب تک مرا اللہ والوں سے
کہ ہاتھوں سے متاعِ نوعِ انسانی نہیں جاتی
مسلسل رنگ ہائے حسنِ نوخیزاں کی برکت سے
جنابِ شیخ کے چہرے سے نوارانی نہیں جاتی
یہ قصہ سنتے آئے ہیں شہیدانِ محبت سے
کہ رزم عشق ٹھن جاتی ہے خود ٹھانی نہیں جاتی
لٹا بیٹھا ہوں اپنی طاقتِ گفتار سے سب کچھ
زبانِ تند کی لیکن گل افشانی نہیں جاتی
کہاں پہنچا دیا ہے ہجرتِ افلاس نے ہم کو
درو دیوارِ محفل جانی پہچانی نہیں جاتی
جنوں والے! گریباں چاک کرنے سے بھی کیا حاصل
جو اُس نامہرباں کی تنگ دامانی نہیں جاتی
چلو اچھا ہوا ترکِ تعلق کرلیا تم نے
وگرنہ میرے دل سے یہ پشیمانی نہیں جاتی
یہ کس مہتاب رو کی حسن آرائی کے جلووں سے
رخِ مہر و مہ و انجم کی تابانی نہیں جاتی
کہاں تک اب دلِ مضطر کو محرومِ وفا رکھیں
یہ نادانی تو ہے لیکن یہ نادانی نہیں جاتی
قمیصِ غیرتِ دل چاک ہے ہر ایک جانب سے
یہ وہ یوسف ہیں جن کی پاکدامانی نہیں جاتی
سرِ محفل غزل پڑھ کر چلا جاتا ہے وہ لیکن
دماغ و دل سے تاثیر غزل خوانی نہیں جاتی
اسی خاطر لیے جاتا ہوں لطفِ درد وغم فائز
محبت میں غمِ دل کی فراوانی نہیں جاتی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
م
مبارك حسين
26 مارچ، 2022بہت زبردست میرے بھائ۔
اللہ کرے زور بیاں اور زیادہ !!





