کیا جواب آئے گا اب دل سے سوائے افسوس
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وہ شجر ہوں کہ جسے دھوپ نہ بھائے افسوس
ہوگئے مجھ سے گریزاں مرے سائے افسوس
پہلے ہوتی ہے فضاؤں پہ خموشی طاری
اور پھر گونجتی رہتی ہے صدائے افسوس
سرد پڑ جائے گی اک روز یہ رخسار کی دھوپ
کاٹ کھائیں گے تری زلف کے سائے افسوس
زاویے ایسے بدلتے ہیں سرِ آئینہ
منہ سے شاباش نکلتا ہے بہ جائے افسوس
زیست کی باتوں میں آ جاتے ہیں ہر بار سبھی
کبھی لیتے ہی نہیں موت کی رائے افسوس
کوئی آواز بغاوت کی اٹھائے تو سہی
چیختے رہتے ہیں بے کار ہی ہائے افسوس
عمر گزری ہے سنجوتے ہوئے تنکا تنکا
سوچتا ہوں کہ یہ دنیا ہے سرائے افسوس
میرے چہرے نے کئی رنگ کے چہرے پہنے
آئنے بھی مجھے پہچان نہ پائے افسوس
عقل کرتی ہے سوالات ہزاروں اے شاد!
کیا جواب آئے گا اب دل سے سوائے افسوس
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





