آج بتاریخ 11 جون 2018 یہ روح فرسا خبر پڑھنے کو ملی کہ حضرت مولانا مختار احمد صاحب مدنی انتقال کرگئے۔انا لله و انا الیه راجعون
اللھم اغفر له،
شیخ مختار احمد صاحب مدنی کی پیدائش 1948ء میں ہوئی اور جامعہ سلفیہ بنارس سے 1971ء میں سند فراغت حاصل کیا مگر حالیہ دنوں کم و بیش تین ماہ سے پیٹ کی بیماری میں مبتلا تھے۔گورکھپور،
شیخ مختار احمد صاحب مدنی علم و فضل کے اعلی مقام پر فائز تھے۔جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر نیپال کے نہایت ہی باوقار سینئر استاد تھے اپنے اعلی اخلاق اور زندہ دلی سے وہ جامعہ کے اساتذہ اور طلباء دونوں میں ہر دل عزیز تھے۔الله نے شیخ محترم کے اندر طرز تخاطب کی جو صلاحیت بخشی تھی وہ قابل رشک تھی۔مولانا کا وجود جماعت اہل حدیث ضلع سدھارتھ نگر و حلقہ بڑھنی میں باعث فخر تھا۔آپ منفرد اسلوب درس کے مالک و کامیاب مدرس نیز کتاب و سنت کے ترجمان تھے،
موصوف بڑھنی سے قریب 12 کلو میٹر کی دوری پر واقع موضع جھکہیا کے رہنے والے تھے۔انھوں نے تعلیم کی تکمیل جامعہ سلفیہ بنارس کے بعد جامعہ اسلامیہ مدينہ منورہ سے کی تھی۔تدریسی صلاحیت بالخصوص فن حدیث میں ماہر و تجربہ کار تھے۔ایک وقت وہ جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر نیپال کے شیخ الجامعہ،
موصوف سے ہمارے گھریلو تعلقات تھے۔جب بھی کہیں میری ملاقات ہوتی نہایت شفقت کے ساتھ ملتے اور تعلیم و تعلم کے بارے میں ضرور استفسار کرتے۔شیخ محترم کے ہزاروں تلامذہ ملک و بیرون ملک دعوتی و رفاہی کاموں میں سرگرم عمل ہیں جو اُن کے لیے صدقہ جاریہ ثابت ہوں گے ان شاءالله۔مولانا علیہ الرحمہ کے چار صاحبزادگان اور دو صاحبزادیاں ہیں۔
شیخ محترم کی وفات سے جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر نیپال ایک باکمال مشفق و مربی،





