وہ پڑھنے والوں میں اچھی کتاب جیسا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یہ سچ ہے عشق مسلسل عذاب جیسا ہے
مگر مجھے تو یہ لگتا ہے خواب جیسا ہے
غموں سے آپ کا رشتہ ہے نام کا شاید
ہمارے واسطے بالکل نصاب جیسا ہے
ہر ایک شخص محبت سے نام لیتا ہے
وہ پڑھنے والوں میں اچھی کتاب جیسا ہے
وہ بول دے تو بہت اچھی بات ہے، لیکن
خموش رہنا بھی اس کا جواب جیسا ہے
وجود ہی تو عدم کی دلیل اول ہے
ظہورِ کون و مکاں بھی سراب جیسا ہے
وہ اس خلوص سے لوگوں پے ظلم کرتا ہے
کہ جیسے ظلم کا بدلہ ثواب جیسا ہے
ہمارے واسطے خنجر سے کم نہیں تھا حسن
وہ لہجہ، سب کے لیے جو گلاب جیسا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





