مری مجروح راتوں کے شکستہ خواب لے آتے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
سحر کی تیرگی سے روشنی کا باب لے آتے
مری مجروح راتوں کے شکستہ خواب لے آتے
بہت تنہائیاں ہیں اس بھری دنیا کی محفل میں
تم اپنے ساتھ ذکرِ حلقہ احباب لے آتے
کسی مغموم فاقہ کش کے ہونٹوں کا تبسم ہی
مری خاطر بہ شکلِ تحفہ نایاب لے آتے
نہ لاتے ان کا پیغامِ مسرت، ہاں نہیں لاتے
مگر اے کاشِ تصویرِ رخِ مہتاب لے آتے
وہی خبرِ تغافل، بے دلی، پیغامِ بیزاری
کوئی سامانِ تسکینِ دلِ بے تاب لے آتے
تمھیں بھی ہم نواؤ! گفتگو کا ڈھنگ آجاتا
جو تم بھی میکدوں سے کچھ ادب آداب لے آتے
مجھے جینے نہیں دیتی ہے، میری آرزوئے دل
مرے چارہ گرو! اک پیالہ زہرآب لے آتے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





