ملا نہ کچھ بھی سمندر کی جستجو کر کے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وہ خود سے ملتے ہیں آئینہ رو بہ رو کر کے
تلاشتے ہیں گہر سیرِ آب جو کر کے
نظر میں رونقِ بازار ہے مثالِ سراب
بھٹک رہا ہوں دوانوں سی اپنی خو کر کے
کوئی بھی راہ میں ملتا ہے جب غموں سے بھرا
نچوڑ لیتا ہوں تھوڑی سی گفتگو کر کے
تمام عمر سرابوں کی نذر ہوتی رہی
ملا نہ کچھ بھی سمندر کی جستجو کر کے
کوئی بھی جسمِ تمنا پہ فٹ نہیں بیٹھا
لباس پھاڑتا رہتا ہوں میں رفو کر کے
میں روندتا ہوں کسی آرزو کو ہر لمحہ
قدم اٹھاتا ہوں تجدید آرزو کر کے
یہ بات اہل گلستاں کو کیسے سمجھاؤں
بہار آئی ہے سودائے رنگ و بو کر کے
ہوائیں تیرے قدم سے قدم ملائیں گی
تو اپنی لو تو دکھا مائلِ نمو کر کے
ہم ایسے پیاس کے ماروں کو دیکھ لے جس دم
شراب ٹوٹ پڑے خود کو بے سبو کر کے
نماز کے لیے آتے ہیں سوئے مسجد شاد!
مگر کہاں چلے جاتے ہیں سب وضو کر کے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
ش
شمس کمال انجم
3 جولائی، 2022بہترین غزل
مبارکباد





