ہوش والوں کا اعتبار نہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
روح کو کوئی شرم و عار نہیں
جسم سامان افتخار نہیں
دیکھ کر مجھ کو کھل رہی ہو کیوں
میں خزاں ہوں کوئی بہار نہیں
ایک ہی دل تھا، مر گیا وہ بھی
اب مجھے بھی کسی سے پیار نہیں
میں نے جھلا کے جو کیا سو کیا
غم نصیبی کا کوئی بار نہیں
بے قراری کا کر رہا ہوں علاج
پھر بھی دل کو مرے قرار نہیں
تم ہو وہ، جس کے آگے لگتا ہے
دل پے تھوڑا بھی اختیار نہیں
مسلک عشق و عاشقی میں حسن
ہوش والوں کا اعتبار نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





