ہندوستان میں نزہۃ الخواطر کے مولف مولانا عبد الحی حسنی لکھنوی،
ان کی کتاب’کاروان سلف‘کے تمام حصوں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں زیادہ تر سوانح خود ان میں مذکور علمائے کرام کے بقلم خود لکھے گئے ہیں۔اس لیے اس کتاب کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ابو یحی خان نوشہروی اور بھٹی صاحب کی کتابوں کے مقابلے میں ’کاروان سلف‘ کی ضخامت اور اس کی اہمیت کے پیش نظر میں سمجھتا ہوں اگر مولانا ندوی صاحب کو’ابن خلکان جماعت اہل حدیث‘ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔
کاروان سلف کی تقریبا ساری جلدیں میں دیکھ چکا ہوں۔وہ میرے پاس محفوظ بھی ہیں۔ان پر میں پہلے ہی ایک مضمون لکھ چکا ہوں۔فی الحال ’کاروان سلف‘ کی نویں جلد میرے سامنے ہے۔یہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔پہلے حصے میں علماء کے سوانح ہیں تو دوسرے حصے میں تاریخ اہل حدیث بلرام پور۔حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ موخر الذکر حصے کو الگ سے شائع کیا جاتا تو بہتر ہوتا۔
نویں جلد کے بیشتر تذکرے میں نے پڑھ لیے ہیں۔سب سے زیادہ مجھے دو حضرات کی سوانح نے متاثر کیا۔ایک علامہ اظہر بہاری صاحب اور دوسرے ڈاکٹر سعید عابدی ازہری صاحب۔
اظہر بہاری صاحب کا نام تو میں نے پہلے سن رکھا تھا۔جستہ جستہ ان کے بارے میں پڑھا بھی تھا البتہ ڈاکٹر سعید عابدی صاحب کا نام پہلی بار سنا۔سعید عابدی صاحب قاہرہ اور اس کے بعد سعودی عرب میں کم وبیش نصف صدی گزارنے کے بعد اپنے واطن واپس آچکے ہیں۔مجھے یہ جان مسرت ہوئی کہ کرتھی ڈیہہ کے مولانا ممتاز علی صاحب جو رحمانیہ کے بھی فاضل تھے اور ندوی بھی تھے،
حالانکہ عابدی صاحب کی سوانح کے ابتدائی صفحات میں انھوں نے جو باتیں کہی ہیں وہ اتنی ضروری بھی نہیں تھیں لیکن بعد میں ان کی شخصیت کے خدوخال اچھی طرح سے اظہر من الشمس ہوجاتے ہیں۔ان کی شخصیت کے ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جو انھیں ریڈیو پر ایک اناونسر کے ساتھ ساتھ ایک عالم اور محقق کی شکل میں پیش کرتے ہیں۔ریڈیو پر عالمانہ انداز میں کام کرنے کی آپ پہلی مثال آپ ہیں۔ان کا تذکرہ ایک سو دس صفحات پر مشتمل ہے۔ہر چند کہ وہ ابتدائی دس برس قاہرہ ریڈیو سے وابستہ رہے اس کے بعد تقریبا چالیس برس تک جدہ ریڈیو سے وابستہ رہے۔نصف صدی کا عرصہ عالم عرب میں گزار کر جب انھیں اپنے وطن واپس آنا پڑا تو وہ کس تکلیف سے دوچار ہوئے ان کی تحریر سے اس کا صاف صاف انداز ہ کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ قاہرہ میں سعودی عرب سے زیادہ باہر کے لوگوں کی عزت کی جاتی ہے،
بہرحال ڈاکٹر عابدی کا تذکرہ پڑھ کر ان کی عالمانہ شخصیت سامنے آتی ہے۔ان کی تصنیفات وتالیفات کا بھی نقشہ سامنے آجاتا ہے۔مولانا جوناگڈھی کے اردو ترجمۂ قرآن پر انھوں نے بہت خوب صورت علمی بحث کی ہے اوراس ترجمے کا مختصرمگر بہت شاندار تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے جو کہ میرا پسندیدہ موضوع ہے۔قرآن کریم کے اردو ترجموں کا تنقیدی جائزہ کے نام سے میری کتاب زیر ترتیب ہے۔ان کا یہ تذکرہ میں نے ایک نشست میں پڑھ ڈالا۔درمیان میں صرف نماز کے لیے اٹھا۔بارہ بجے دوپہر پڑھنا شروع کیا اور عشاء تک ایک سو دس صفحات نے اپنے ساتھ مجھے جکڑے رکھا یہاں تک کہ اسے ختم کردیا۔موصوف کا تذکرہ پڑھ کر معلومات بھی حاصل ہوئی،
اس نویں جلد میں اور بھی چھوٹے بڑے تذکرے زیر قلم آئے ہیں لیکن اس میں ایک تذکرہ ’مدنی اردو‘ میں بھی ہے۔حالانکہ نصف صدی سعودی عرب میں رہنے والے ڈاکٹر سعید کی اردو عربی زدہ نہیں۔فصیح اور سلیس ہے۔مگر ایک شیخ نے جن کا نام یہاں ذکر کرنا مناسب نہیں،
’’ماجستیر کی ’شہادت‘ حاصل کی۔کتاب پر ’موافقت‘ مل گئی۔’باحث شرعی‘ کی ضرورت تھی۔وہ ’مستشار‘ کے عہدے پر فائز تھے۔مجھ سے ’تعاقد‘ اور ’نقل کفالہ‘ کی ’موافقت‘ لینے کے لیے۔۔۔نظام کا سہارا لے کر ’رفض‘ کردیا۔شیخ کے ’تدخل‘ پر،
بہر حال کاروان سلف کی نویں جلد بہت دلچسپ ہے۔میں مولانا ندوی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ کہ انھوں نے مجھے یہ نسخہ بھیجا جس سے مجھے علامہ اظہر بہاری اور ڈاکٹر سعید عابدی جیسی شخصیات کے بارے میں تفصیلی طور سے جاننے کا موقع ملا۔






