مولانا ابوالکلام آزاد سے کس اہل علم کو محبت نہیں ہوگی۔مجھے بھی ہے۔میں نے ان کی کتابیں اس وقت پڑھنا شروع کیں جب میں سولہ سترہ برس کی عمر کا تھا۔غبار خاطر،
مولانا کی ساری کتابیں علم وادب کا خزانہ ہے۔خاص طور سے تذکرہ پڑھتے پڑھتے وقت یہ خیال آتا تھا کہ اس میں علم کا جو خزانہ ہے اسے عربوں سے متعارف کرایا جانا چاہیے۔اللہ جزائے خیر دے مشہور صاحب قلم،
میں شکر گذار ہوں شیخ صلاح صاحب کا اور جناب عبد القدیر صاحب کا جنھوں نے مجھے یہ کتاب بھیجی۔اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں تذکرہ کی تعریب کے ساتھ ساتھ مولانا آزاد کی مفصل سوانح کو بھی فاضل مترجم شیخ صلاح الدین مقبول احمد نے قلم بند کرکے کتاب کی علمی حیثیت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔1947 میں تقسیم ہندکے بعد جامع مسجد سے دیے جانے والے مولانا کے مشہور خطاب کا بھی ترجمہ شامل کتاب کردیا گیا ہے جو اصل کتاب کے مقابلے میں ایک اضافہ ہے جو عربی پڑھنے والوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے کہ مولانا کی سوانح اور اس مشہور زمانہ خطاب سے مولانا کی شخصیت کی کچھ پرتیں اظہر من الشمس ہوجاتی ہیں۔یہی کسی کتاب کے فاضل مترجم کا کمال ہوتا ہے کہ وہ صرف ترجمے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ کتاب میں ضروری مسائل پر یا تو اپنے مقدمے میں گفتگو کرتا ہے۔اصل مولف کی حیات بھی قلمبند کرتا ہے اور کتاب کے موضوعات مسائل پر روشنی ڈال کر کتاب کو ایک جامع شکل میں پیش کرکے خود کو ایک مترجم کے ساتھ ایک عالم کی شکل میں پیش کرتا ہے۔یہی کام شیخ صلاح الدین صاحب نے اس کتاب کے ترجمے میں کیا ہے۔مزید یہ کہ شیخ صلاح صاحب کی زبان بہت شیریں،
ہر چند کہ مولانا آزاد کی کسی بھی تحریر کا ترجمہ ناکوں چنے چبانے کے مترادف ہے خاص طور سے تذکرے کی زبان کی تعریب تو بہت مشکل کام تھا لیکن شیخ صلاح نے عربی میں ترجمے کا حق ادا کردیا ہے اور اصل کتاب میں اضافی ابواب کے ذریعے ایک مترجم کے ساتھ ساتھ عالم اور محقق ہونے کا بھی فرض ادا کیا ہے۔
میں اس کتاب کے ترجمے کے لیے،
اللہ اس کتاب کو نہ صرف قبول عام عطا کرے بلکہ اسے عالم عرب میں مولانا ابوالکلام آزاد کے مآثر کی نشر واشاعت اور ان کے افکار ونظریات کی ترویج واشاعت کا ذریعہ بنائے۔آمین






