جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

امام باقی نہیں رہے گا

کلام: ابوالمرجان فیضی4 اگست، 20221,268قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مجھے یقیں ہے، نہیں ملو گے، سلام باقی نہیں رہے گا
جو کام باقی نہیں رہا تو، کلام باقی نہیں رہے گا
نمود و شہرت کی بھوکی دنیا، اسے ریا کی خوراک دے دو!
جو نام باقی نہیں رہا تو، مقام باقی نہیں رہے گا
مجھے فنا کی کیا فکر ہوگی، تجھے انا سے نہیں ہے فرصت
عوام باقی نہیں رہے تو، نظام باقی نہیں رہے گا
ہے میکشی کا بھی اک طریقہ، پیا جو تم نے یوں بے سلیقہ
یہ جام باقی نہیں رہے گا مُدام باقی نہیں رہے گا
ہجوم عالم میں گمشدہ سا، تھا ایک بندہ جو پارسا سا
ظہور اس کا ہوا تو ثاقب، امام باقی نہیں رہے گا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

امام باقی نہیں رہے گا - دی فری لانسر | دی فری لانسر