صحرا میں پھر رہا ہوں شجر دیکھو کب ملے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
محفل میں یوں تو لوگ بہت با ادب ملے
لیکن پھر اس کے بعد عجب ان کے ڈھب ملے
تنہائیوں نے ساتھ نہ چھوڑا کبھی مرا
ملنے کی طرح مجھ سے مرے یار کب ملے
ہم تیشہ جنوں لیے پھرتے ہیں در بہ در
کوئی ہمیں بھی کوہ کنی کا سبب ملے
اک آدمی کی مجھ کو سدا جستجو رہی
ملنے کو یوں تو یار بہت روز و شب ملے
دن بھر جو رفعتوں کے پیمبر بنے رہے
ہوتے ہی شام وہ سر بزم طرب ملے
انسان تو کوئی نظر آیا نہیں مگر
جو بھی ملے وہ صاحب نام و نسب ملے
بازار میں تلاش تھی آب حیات کی
سارے دکان دار مجھے جاں بہ لب ملے
اے شاد! مجھ دوانے کو آرام اب کہاں
صحرا میں پھر رہا ہوں شجر دیکھو کب ملے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





