آخر ‘شام شعر یاراں’ کے خالق کی بھی شام ڈھل گئی اور طنز و مزاح کا صاحب طرز ادیب لوگوں کو پانچ مجموعوں کا ایسا نادر تحفہ دے کر رخصت ہوگیا جسے پڑھتا پڑھتا قاری ہنس کر گزار دے یا اسے رو کر گزار دے!
متحدہ ہندوستان کی دھرتی سے اگنے والا جو روشن آفتاب ضیاپاشی کرتا ہوا دیار غیر میں جا ڈوبا وہ کوئی اور نہیں مشتاق احمد یوسفی ہے۔اردو کا یہ مایہ ناز اور معروف ظرافت نگار اپنی عمر کی 95 بہاریں گزار کر بدھ کے روز بتاریخ ۲۰ جون ۲۰۱۸ کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔
مشتاق احمد یوسفی ہندوستان کی ریاست راجستھان کے مشہور شہر ٹونک میں چار ستمبر 1923 کو پیدا ہوئے،
مشتاق احمد یوسفی نے کچھ رسالوں میں مضامین لکھ کر اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا پھر انہی مضامین کو اکٹھا کرکے ان کے نوک پلک کو سنوارا اور اس طرح ان کا پہلا مجموعہ ‘‘چراغ تلے” ادبی دنیا کے کینوس پر نمودار ہوا۔پھر یکے بعد دیگرے “خاکم بدہن”،
مشتاق یوسفی کی ظرافت نگاری کی خوشبو ان کی کتابوں میں ہر جگہ ایسے بسی ہوئی ہے کہ ورق کھولتے ہی خوشبو بھبھک کر آپ کے مسام جاں کو معطر کردے۔ان کے اسلوب کی براقی کا ہر کوئی ثنا خواں ہے،
مشتاق احمد یوسفی کی تحریر کا انداز دوسرے مزاح نگاروں سے بالکل الگ ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی تمام کتابیں اپنی مزاحیہ چاشنی کے ساتھ قاری کو مسحور کردیتی ہیں اور وہ یوسفی کی پرلطف رو میں بہتا ہوا ان کا گرویدہ ہوجاتا ہے۔مشتاق یوسفی نے اپنی ان کتابوں میں انشائیہ،
واضح رہے کہ اس فنکار نے سماج کو بہت قریب سے دیکھا تھا،
اپنی تخلیقات کے ذریعے مشتاق احمد یوسفی نے اردو ادب میں جو گراں قدر خدمات پیش کی ہیں انہی کار ہائے نمایاں کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان نے ‘ستارۂ امتیاز’ اور ‘ہلال امتیاز’سے نوازا اور ان کی بھر پور عزت افزائی کی۔
مشتاق احمد یوسفی نے اپنے قلم کی جولانیوں کو مہمیز دے کر اردو زبان کے مزاحیہ ادب کو نہ صرف فروغ دیا بلکہ اس کے پیچ دار گیسووں کو درست کیا اور اسے بام عروج پر پہنچایا۔انھوں نے ان نگارشات میں سماجی مسائل،
ان کی کتاب “آب گم” ظرافت نگاری کا ایسا شاہکار ہے جس میں یوسفی نے جگہ جگہ اپنے مختلف کرداروں کے ذریعے معاشرے کی ان سچائیوں کو بے نقاب کیا ہے جو سماج کے لیے ناسور بن چکی ہیں۔رشوت خوری کے تعلق سے مکالماتی انداز میں ان کا مضمون ‘‘اسکول ماسٹر کا خواب”،
یوں تو ‘داستان امیر حمزہ’ اور ‘فسانۂ عجائب’ میں اردو مزاح نگاری کے انمٹ نقوش دیکھے جاسکتے ہیں لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ان داستانوں کے مزاح میں تمسخر،
مشتاق یوسفی کی “زرگشت’’ اور ‘‘آب گم’’ کا اگر ان کی پہلی دو کتابوں ‘‘چراغ تلے’’ اور ‘‘خاکم بدہن’’ سے موازنہ کریں تو اوّل الذکر دونوں کتابوں کے مشمولات زیادہ پراثر اور سحر انگیز ہیں۔کچھ نقادوں نے ان کی آخری کتاب “شام شعر یاراں” پر تیکھا نقد کیا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ کتاب بھی ان کی دوسری کتابوں کی طرح اپنے آپ میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے اور قاری کو کسی درجہ مایوس نہیں کرتی۔
قصہ مختصر یہ کہ مشتاق احمد یوسفی ایک شخص نہیں ایک ادارہ نہیں ایک انجمن نہیں بلکہ ایک عہد کا نام ہے جس کی داستان حیات تقریباً ایک مکمل صدی پر محیط ہے جو اپنے ہمعصروں کو ہنساتا رلاتا یہ کہتا ہوا پیوند خاک ہوگیا کہ
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے!!
حوالہ جات:
— چراغ تلے-مشتاق احمد یوسفی
— خاکم بدہن-مشتاق احمد یوسفی
— زرگزشت-مشتاق احمد یوسفی
— آب گم-مشتاق احمد یوسفی
— شام شعر یاراں-مشتاق احمد یوسفی
—صاحب طرز ظرافت نگار مشتاق احمد یوسفی-ایک مطالعہ،
—مشتاق احمد یوسفی کی مزاح نگاری پر لکھے گئے مختلف مضامین







