موج ہزار رنگ میں رنگ زیاں ملے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہے دل کی آرزو کہ اسے بھی زباں ملے
ویرانیوں کے دشت میں کوئی مکاں ملے
تم کو متاع عشق پے کتنا غرور تھا
آخر ذرا بتاؤ تمھیں ہم کہاں ملے
کیونکر دیار جاں سے کہیں اور جائیں ہم
زندہ نہیں تو مرگ کے بدلے اماں ملے
یوں جستجو میں تیری گزاری گئی حیات
تیرے نشاں جہاں بھی ملے ہم وہاں ملے
اب جبر انقباض کے سائے سے کیا ڈریں
خوشیوں کے راستوں میں بھی جب غم نہاں ملے
یہ سچ ہے ہم کو موت نہیں آئی ہجر میں
لیکن تمام عمر ہی ماتم کناں ملے
اک آرزوئے وصل تھی سو وہ بھی مرگئی
تم بھی ملے تو ویسے ہی جیسے جہاں ملے
گھبرا کے اب امید بھی کہنے لگی حسن
موج ہزار رنگ میں رنگ زیاں ملے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





