جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

جذبوں کی بے بسی کا خزانہ ہے زندگی

کلام: حمود حسن مبارکپوری28 فروری، 20232,078قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
سانسوں کی جستجو کا ٹھکانہ ہے زندگی
مرنے کا اک حسین بہانہ ہے زندگی
ساز ملال ذات پے رقصاں ہے کائنات
سوز مآل غم کا ترانہ ہے زندگی
صبح جنوں میں سوختہ جانوں کا ایک شور
لیلائے شب کا زلف بچھانا ہے زندگی
رنگوں سے نطق و بحث کے معمور ہے زمیں
جذبوں کی بے بسی کا خزانہ ہے زندگی
ہے دشت بے خودی کی تمازت سے بھی پرے
خود آگہی کا قرض چکانا ہے زندگی
وا حسرتا کہ تیرگئ یاس سے لکھا
اک بخت بے نوا کا فسانہ ہے زندگی
ٹھہری ہے کب کسی کے بھی اصرار پر حسن
اپنی انا کے ساتھ روانہ ہے زندگی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

جذبوں کی بے بسی کا خزانہ ہے زندگی - دی فری لانسر | دی فری لانسر