جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

وفا پرست ستاروں کے راہبر بھٹکے

کلام: حمود حسن مبارکپوری6 مئی، 20231,297قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
رہا نہ ہوش ہمیں ہم تو بے خبر بھٹکے
نکل کے کوچۂ جاناں سے در بہ در بھٹکے
کہیں تو ہوگا مداوائے رقص نیش فراق
اسی خیال سے یاران چارہ گر بھٹکے
نہ کارواں کا تصور نہ منزلوں کا سراغ
ہم اہل خاک شہیدان رہ گزر، بھٹکے
رہین موج بلا ہے خود آگہی کا جہاں
اب ایسے دشت میں بھٹکے کوئی اگر بھٹکے
زمین ہجر کی بے برگ و ساز راہوں میں
وفا پرست ستاروں کے راہبر بھٹکے
حریم عشق سے زنداں کی خواب گاہوں تک
کہاں سے آئے کہاں پہنچے اور کدھر بھٹکے
دھڑکنے لگتی ہے تصویر آزری دل کی
لیے ہوئے کوئی نامہ جو نامہ بر بھٹکے
کسی مقام پہ ٹھہرے کہیں سے کوچ کیا
سراب شوق و تمنا میں عمر بھر بھٹکے
رہ حیات میں کچھ وجہ انتظار نہ تھی
ظہور وعدۂ انجام تک مگر بھٹکے
وہ خواب جن کے مقدر میں ہجرتیں تھیں حسن
جنوں صفات جزیروں میں بے سفر بھٹکے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

س
سید تجمل
6 مئی، 2023
واہ کیا عمدہ کلام ہے۔ کہاں سے آئے کہاں پہنچے اور کدھر بٹکے۔۔ واہ کیا مصرعہ ہے ❤️

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

وفا پرست ستاروں کے راہبر بھٹکے - دی فری لانسر | دی فری لانسر