بس میں نہیں ہے گردش حالات کیا کریں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
روشن چراغ ہجر سے ہے رات کیا کریں
جل بجھ رہے ہیں کتنے ہی جذبات کیا کریں
سوچا تو تھا کہ حسرتیں ساری مٹائیں گے
اب اتنی مختصر ہے ملاقات کیا کریں
کہہ دیں کہ ضبط کر لیں، وہی کشمکش ہے پھر
ہونٹوں پہ آ رہی ہے وہی بات کیا کریں
ان کی طرف سے کوئی جواب آ نہیں رہا
پڑھ پڑھ کے رو رہے ہیں سوالات کیا کریں
معلوم ہے کہ سہہ نہ سکیں گے ترا فراق
بس میں نہیں ہے گردش حالات کیا کریں
آنکھیں تمھیں تلاش رہی ہیں یہاں وہاں
ہلچل مچا رہے ہیں خیالات کیا کریں
شاید تمھارے آنے سے آجائے فصلِ گل
ورنہ یہ پھول پتے، یہ باغات کیا کریں
ساقی کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں شاد!
بھڑکا رہی ہے پیاس یہ برسات کیا کریں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





