پڑھ کے دم کردے کوئی دیوان مجھ پر میر کا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہر سطر سے وا ہوا در خائہ تنویر کا
عارض قرطاس پر غازہ بچھا تحریر کا
یک بیک ہی جل گئی وہ جلتے جلتے میں جلا
مجھ سے اچھا حال نکلا ہے مری تصویر کا
سوز پنہاں خوگر رقص ملامت ہی رہا
ڈھے نہ پایا ایک بھی بت کعبۂ دل گیر کا
حاصل مکتوب ہے ہر ذرۂ سود و زیاں
بزم ہستی میں مگر دھڑکا رہا تقدیر کا
تھرتھراتا، کانپتا، خواب عدم کو ڈھونڈتا
دیدنی تھا کوئے حسرت میں دیا تعبیر کا
تھی اسیری میں نہ جب فکر نجات و حریت
قید کرلے کیوں نہ پھر بس واہمہ زنجیر کا
درد دل از راہ خاموشی بیاں کرنا پڑا
بار خاطر ہی رہا لہجہ مری تقریر کا
کس ادا سے صید افگن کھینچتا ہے تیر ہائے
بے نشانہ ہی نکل جائے نہ دم نخچیر کا
جوہر غم پیکر شعری میں ڈھل جائے حسن
پڑھ کے دم کردے کوئی دیوان مجھ پر میر کا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





