ردعمل دو طرح کے ہوتے ہیں۔اصولی اور غیر اصولی۔مائنڈسیٹ بھی دو طرح کے ہوتے ہیں،
مائنڈسیٹ دلائل پر مبنی ہو تو عقائد اور حالات و واقعات پر مبنی ہو تو خیالات کا مجموعہ ہوتا ہے۔مسلمات و مفروضات کا یہ فرق ہی اثبات و نفی کے حدود طے کرتا ہے۔
بعینہ اصولی ردعمل کی بنیاد مسلمات اور غیر اصولی ردعمل کی بنیاد مفروضات ہوتے ہیں۔سارے غیر اصولی ردعمل Circumstantial ہوتے ہیں۔
واقعات کو اصول کی کسوٹی پر پرکھنے کے بجائے جو لوگ واقعات سے اصول بناتے ہیں اور پھر اسے قاعدہ کلیہ کی طرح مشتہر کرتے ہیں وہ محض غیر اصولی ردعمل تک نہیں رکتے،
یہ اصول قسم کے لوگ جہلا اور عوام نہیں علما اور خواص ہوتے ہیں۔بیشتر ذہنی آلودگی اور فکری آوارگی کے یہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔یہ اکیلے خراب نہیں ہوتے جتنے سوشل ہوتے ہیں اتنے ہی ماس ہانیکارک رہتے ہیں۔انھی کی ذہنیت کے مظاہر دیکھ کر مائنڈسیٹ جیسی تعبیر نمایاں ہوتی ہے۔
یہی مائنڈسیٹ لیبل کے طور پر عموماً استعمال ہوتا ہے۔مائنڈسیٹ سنتے ہی فوری طور پر یہی معنی بھی ذہن میں آتا ہے۔یہی مائنڈسیٹ زیر نظر مقالے کا موضوع ہے۔کتاب و سنت اور اقوال سلف کی روشنی میں ڈاکٹر وسیم المحمدی صاحب نے نہایت تفصیل اور بڑی وضاحت کے ساتھ مائنڈسیٹ کی تشریح کی ہے۔
موجودہ زمانے میں اہل علم کے درمیان جو فساد برپا ہے اس کا کنکشن بھی اسی مائنڈسیٹ سے ہے۔پڑھیں اور ریلیٹ کریں،
امیہ بن ابی الصلت طائف کا رہنے والا تھا۔اس کا تعلق ہوازن کی شاخ ثقیف سے تھا۔اس کی ماں رقیہ عبد مناف کی پوتی تھی۔گویا باپ بنو بکر سے اور ماں قریش سے تھی۔یاد رہے ہوازن وہی قبیلہ ہے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی ماں حلیمہ سعدیہ کا تعلق تھا۔بنو بکر اور بنو سعد اپنی زبان دانی اور فصاحت میں مشہور تھے۔دونوں کا تعلق ہوازن سے ہے۔
امیہ بن ابی الصلت محض بنو ثقیف ہی نہیں زمانہ جاہلیت میں پورے عرب کا مشہور شاعر تھا۔زبان پختہ،
امیہ بن ابی الصلت ان لوگوں میں سے تھا جنھیں حنفاء کہا جاتا ہے۔جو زمانہ جاہلیت میں بھی شرک سے دور تھے۔بتوں کی پوجا سے نفرت کرتے تھے۔ایک اللہ کے قائل اور یوم آخرت پر یقین رکھتے تھے۔جنت و جہنم کی باتیں کیا کرتے تھے۔امیہ کی شاعری میں یہ چیزیں جگہ جگہ مل جائیں گی۔اسی لیے امیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے:’’أسلم شعره،
بس ایک بڑا فرق تھا۔امیہ اپنی حنفیت میں ان حنفاء سے کہیں آگے تھا۔اس کے حصے میں پیشوائی آئی تھی۔بکثرت سفر کرتا۔یہود و نصاری کے علماء سے ملاقاتیں کرتا۔ان سے دینی گفتگو ہوتی۔آسمانی کتابوں کو پڑھتا،
تاہم امیہ صرف توحید کا قائل ہی نہیں تھا،
چونکہ امیہ کے تعلقات یہود و نصاریٰ سے تھے۔اہل علم کی مجالست تھی۔خود تورات و انجیل پڑھا کرتا تھا اس لیے اسے یہ معلوم تھا کہ آخری نبی کا ظہور بس ہونے ہی والا ہے،
لیکن!!!!
امیہ یہ سوچتا تھا کہ جس ڈھب سے وہ زندگی گزار رہا ہے بھلا اس کے علاوہ نبوت کسی اور کو کیسے مل سکتی ہے؟ چنانچہ یہیں اسے ہوائے نفس نے جا لیا۔دھیرے دھیرے اسے یہ یقین ہو چلا کہ نبوت کے شرف سے وہی با مشرف ہوگا۔ہوائے نفس نے اس یقین کو اس کے یہاں اس قدر پختہ کردیا کہ تورات و زبور کو پڑھنے والا اور اہل علم کی صحبت میں وقت گزارنے والا یہ نہیں سمجھ سکا کہ رسالت تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنا بڑا شرف اور ایسی اہم ترین ذمہ داری ہے کہ اس کے لیے اللہ کے بہت ہی خاص بندے مخصوص ہوتے ہیں،
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہورا ہوا اور اسے نبوت محمدیہ کی خبر لگی تو اس کے پاؤں تلے سےزمین نکل گئی۔اس کے سارے خواب یکلخت چکنا چور ہوگئے۔
بعض روایتوں میں آتا ہے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقاتیں بھی کیں۔آپ کی حقانیت کا متعدد بار اعتراف بھی کیا اور آپ کے برحق ہونے کی گواہی بھی دی۔
تاہم اگر وہ روایت درست مان لی جائے جس میں آتا ہے کہ امیہ نے اپنے مرض الموت میں کہا: ’’قد دنا أجلي،
تو اس میں موجود شک سے مقصود وہ معہود شک نہیں لگتا جو یقین کے بالکل منافی ہوتا ہے۔
وہ ایک ایسی نفسیاتی کیفیت اور ہوائے نفس کے اس ملغوبہ کا نام ہے جس کی بنیاد اس امر پر رکھی جاتی ہے کہ جو چیز میری رائے،
اس طرح وہ رائے جس قدر بھی صداقت پر مبنی ہو ایک ہوی پرست مخالف کے یہاں ہمیشہ کم از کم شک کے دائرے میں رہتی ہے۔اور ہوائے نفس سے مغلوب یہ کمزور انسان کسی بات کی صداقت کا اعتراف کرنے سے محض اس لیے عاجز ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی خواہش،
امیہ کا وہ شک بھی در اصل ہوائے نفس کا وہ غلغلہ تھا جو اس کی رگ و پے میں سرایت کر چکا تھا۔جو اس کے شعور و احساس پر اس قدر مسلط ہو چکا تھا کہ وہ یہ تصور نہیں کر پاتا تھا کہ اس کے ہوتے ہوئے کوئی اور بھی نبی ہو سکتا ہے؟ اور اس کی موجودگی میں نبوت کسی اور کو بھی مل سکتی ہے؟ یہ شدید احساس بسا اوقات اسے ایک ایسے موہوم شک کی طرف لے جاتا تھا جس میں اپنی ذات یا اپنے موقف کے لیے کوئی ٹمٹماتی ہوئی امید چھپی ہو،
جس طرح جب ہم کوئی ایسی خبر سنتے ہیں جو ہماری خواہش،
جس قدر ہمارا جھوٹا یقین پختہ اور ہمارا ٹوٹتا خواب قوی ہوگا،
امیہ کا یہ شک بھی-واللہ اعلم-کچھ ایسے ہی لگتا ہے۔اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ “يداخلني" کا یہ لفظ "يخالجني" سے متقارض ہو،
ورنہ ایسے ذی علم و جہاں دیدہ پر بھلا آپ کے نبوت کی حقانیت کیسے مخفی رہ سکتی تھی؟ یہی وجہ ہے کہ متعدد بار اس سے آپ صلی اللہ علیہ سلم کی صداقت اور نبوت کے تئیں حقانیت کا اعتراف منقول ہے۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اعلان ہوگیا تو اب اس کے پاس دو راستے تھے: ایک راستہ ایمان و اتباع کا تھا جو اس کے علم کا متقاضی تھا کہ یہ بندہ ایمان لاکر سابقین اولین میں اپنا نام لکھوا لیتا اور دنیا وآخرت میں سرخرو ہوتا۔دوسرا راستہ مکابرت و عناد اور حقد و حسد کا تھا جس کی طرف ہوائے نفس اسے بلا رہا تھا۔
چنانچہ اس نے دوسرا راستہ چنا،
امیہ کے سوانح پڑھیں تو کہیں کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بسا اوقات اس کا میلان ایمان کی طرف ہوتا تھا،
امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ نے فرمایا:آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حسد کی بنا پر یہ بندہ ایمان نہیں لایا اور کفر کی موت مرا۔
حسد انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔جب یہ گندگی اپنی تمام آلائشوں کے ساتھ دل میں اترتی ہے تو حاسد کوکسی بھی حد تک لےکر چلی جاتی ہے۔حاسد بھلے ہی خود حسد کی آگ میں جل جل کر خاک ہوجائے اور اپنا سب کچھ جلا ڈالے،
حاسد کے پاس نہ کوئی اصول ہوتا ہے نہ ضابطہ،
اب آپ امیہ کی حالت پر غور کریں۔
امیہ غزوہ بدر کے بعد جب شام کے سفر سے لوٹا تو حجاز آیا۔بدر سے گزرا تو قلیب بدر (میدان بدر کا وہ کنواں جس میں صنادید قریش کی لاشیں ڈال دی گئی تھیں) تک گیا۔اسے بتایا گیا کہ اس قلیب میں قریش کے بڑے بڑے سردار دفن ہیں جو غزوہ بدر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ میں مارے گئے تھے۔نیز اسی میں ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ بھی ہیں۔در اصل ربیعہ امیہ کا ماموں لگتا تھا۔اس طرح یہ دونوں اس کے ماموں زاد بھائی بھی تھے۔یہ سن کر امیہ نے ان کے سوگ میں اپنی اونٹنی کے کان کاٹ دیے۔اور اپنا وہ مشہور قصیدہ کہا جس میں نہ صرف بدر کے مقتولین کا نوحہ اور صحابہ کرام کی ہجو تھی،
غور کریں یہ اس شخص کی حالت تھی جو زمانہ جاہلیت میں لوگوں کو توحید کی طرف بلاتا اور یوم آخرت پر ایمان کی بات کرتا تھا۔جنت و جہنم جس کی گفتگو کا محور اور ایک اللہ کی عبادت جس کے مجالس کا عنوان ہوا کرتا تھا۔حسد نے اس کو اس مقام پر لا کھڑا کیا کہ جب موحد اعظم صلی اللہ علیہ وسلم توحید کی حقیقی دعوت لےکر آئے تو یہ ان کا دشمن ہوگیا اور انھی لوگوں کی صف میں جا کھڑا ہوا جو کفر و شرک میں لت پت اور یوم آخرت کے منکر تھے۔یہ حسد کا شاخسانہ تھا،
بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان:(وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِيَ آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ذَّلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ )اسی کے بارے میں ہے۔
موجودہ آیات چاہے امیہ بن ابی الصلت کے بارے میں ہوں یا بنی اسرائیل کے کسی اور شخص کے بارے میں،
عدم توفیق بسا اوقات اچھے بھلے انسان کو سفالت کے کس درجہ میں پہنچاتی ہے اس کا اندازہ اس روایت سے ہوتا ہے کہ جب امیہ سےکہا گیا تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی حقانیت واضح ہوجانے کے باوجود ایمان کیوں نہیں لے آتے؟ تو اس نے جواب دیا کہ ایسی صورت میں بھلا بنوثقیف کی ان عورتوں کو میں کیا جواب دوں گا جن سے کبھی میں کہا کرتا تھا کہ عنقریب میں نبوت سے سرفراز ہونے والا ہوں۔
امیہ کو پختہ یقین تھا کہ نبوت جیسی عظیم نعمت کا حقدار تو وہ ہے۔وہ کسی اور کو کیسے مل سکتی ہے؟ چنانچہ اس عظیم استحقاق کا فیصلہ وہ خود کرنے بیٹھ گیا۔اور جب نبوت نہیں ملی تو اس نے سوچا اگر یہ شرف عظیم مجھے نہیں ملا،
یہ زمانہ جاہلیت میں حنیفیت کی زندگی گزارنے والے،
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ماموں ابو جہل سے پوچھا:کیا نبوت سے پہلے آپ لوگ محمد صلى اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا سمجھتے تھے؟ اس نےجواب دیا:میرے بھانجے!اللہ کی قسم ہم تو محمد صلى اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے بہت پہلے ہی اس وقت امین کہتے تھے جب وہ بالکل جوان تھے۔ہم نے کبھی انھیں جھوٹ بولتے سنا ہی نہیں۔اس پر مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تب آپ لوگ محمد صلى اللہ علیہ وسلم کی اتباع کیوں نہیں کرتے؟ ابو جہل نے کہا:میرے بھتیجے!در اصل یہ ہمارے اور بنو ہاشم کے درمیان عزت وشرف کی لڑائی ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ انھوں نے کھانا کھلایا تو ہم نے بھی کھانا کھلایا۔انھوں نے پانی پلایا تو ہم نے بھی پانی پلایا۔انھوں نے پناہ دی تو ہم نے بھی پناہ دی۔یہاں تک کہ جب ہم عزت وشرف میں بالکل مساوی اور یکساں ہوگئے تو بنو ہاشم نے کہا:نبی تو ہم میں سے مبعوث کیا گیا ہے۔اب بھلا اس شرف کو ہم کیسے پا سکتے ہیں؟
چنانچہ ابو جہل کو بہتر یہ لگا کہ نہ صرف نبوت ہی کا انکار کردے بلکہ نور نبوت کو بجھانے کی نامراد کوشش کرتے کرتے اس امت کا فرعون بن جائے۔
اخنس بن شریق رضی اللہ عنہ نے عین جنگ بدر میں ابو جہل سے پوچھا:مجھے محمد صلى اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتلاؤ؟ وہ سچے ہیں یا جھوٹے؟ یہاں ہمارى بات کوئى نہیں سن رہا ہے اس لیے بالکل سچ سچ بتانا۔ابو جہل نے جواب دیا:تمھارا برا ہو۔اللہ کی قسم محمد صلى اللہ علیہ وسلم بالکل سچے ہیں۔وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔لیکن قصی بن کلاب کی اولاد جب سارے کار خیر کے ساتھ ساتھ نبوت بھی لےکر چلی جائےگی تو باقی قریش کے لیے کیا بچے گا؟
چنانچہ ابو جہل نے بہتر یہ سمجھا کہ نبوت ہی کا انکار کردے۔بھلے ہی دنیا وآخرت میں انجام کچھ بھی ہو۔
یہ ابو جہل کا مائنڈ سیٹ تھا۔
حی بن اخطب یہودی قبیلہ بنو قریظہ کے قائدین میں سے تھا۔اللہ تعالى کی طرف سے علم کے ساتھ ساتھ شجاعت کا بھی وافر حصہ اسے ملا تھا۔گویا قبیلے کا بڑا ذی علم،
جب آپ صلى اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ آئے تو یہ اپنے بھائی کے ساتھ آپ صلى اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے گیا۔ان دونوں نے آپ کے جسم پر موجود مہر نبوت دیکھی۔بہت سارے سوالات بھی کیے تاکہ آپ کے نبوت کی حقیقت اور سچائی بالکل واضح ہوجائے۔جب یہ ملاقات ہوگئی اور لوٹ کر یہ لوگ گھر آئے تو اس کے بھائی نے اس سے پوچھا:کیا یہ وہی نبی ہے جس کا ذکر تورات میں آیا ہے؟ حی بن اخطب نے کہا:بالکل یہ وہی ہے۔بھائى نے کہا:تو کیا ارادہ ہے؟ حی بنت اخطب نے کہا:جب تک زندہ رہا محمد صلى اللہ علیہ وسلم کی عداوت کا ارادہ ہے۔
چنانچہ نبوت کے اس قدر واضح ہوجانے کے باوجود بجائے اسے قبول کرنے کے ایک یہودی عالم نے نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی عداوت کا فیصلہ کیا۔بھلے ہی اس کی قیمت کچھ بھی چکانی پڑے۔
غزوہ خندق کا وقت تھا۔مدینہ کے حالات انتہائی نازک ہو چکے تھے۔مومنوں کی حالت ایسی تھی کہ ان کے دل حلق تک پہنچ گئے تھے۔خوف وہراس کا عالم تھا۔لوگ سراسیمگی کے شکار تھے۔مسلمان بالکل ہل کر رہ گئے تھے۔بد گمانی پھیل چکی تھی۔ایسا لگتا تھا کہ اس بار کفار ومشرکین مدینہ کا خاتمہ ہی کردیں گے۔ایسے عالم میں عین حالت جنگ میں بنو قریظہ نے غداری بھی کردی۔مگر اللہ کی مدد آئی۔کفار ومشرکین ہزیمت اٹھا کر لوٹ گئے۔اور پھر بنوقریظہ کو اس غداری کی سزا ملی۔سزا بھی اس شخص نے مقرر کی جس کو انھوں نے خود چنا۔
یہی حی بن اخطب جس نے صدق نبوت جاننے بلکہ اس کا اعتراف کرنے کے باوجود آپ صلى اللہ علیہ وسلم سے عمر بھر دشمنی کو ترجیح دیا تھا۔اور حسب وعدہ اس دشمنی کو نبھایا بھی۔چنانچہ اسی غزوہ خندق کا ماحول بنانے اور خیانت در خیانت کرنے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا تھا تاکہ مسلمانوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔جب اس کو قتل کرنے کے لیے لایا گیا تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے اس ڈھیٹ،
غور کریں کہ بغض وعناد،
یہ حی بن اخطب جیسے ایک یہودی کا مائنڈ سیٹ تھا۔
ایک انسان کی کمزوری کے جو مختلف مظاہر ہیں ان میں سے ایک مظہر یہ بھی ہے کہ وہ طبعی طور سے اپنے نفس کا گرویدہ اور اپنی خواہشات کا اسیر ہوتا ہے۔اسے صرف اپنی اچھائیاں نظر آتی ہیں۔جبکہ وہی شخص اپنے مخالف سے بغض ونفرت کا سودا کرتا ہے اور اسے اس میں صرف کمیاں اور کوتاہیاں نظر آتی ہیں۔یہ در اصل جہالت،
جہالت اور ہوى پرستى باطل کا سرچشمہ ہے۔ایک جہالت دوسری جہالت کو جنم دیتی ہے۔علم سے کورا شخص عموما حلم سے بھی عارى ہوتا ہے۔اور جہالت کی یہ دونوں قسمیں کسی کے اندر جمع ہوجائیں تو پھر جہالت مجرد جہالت نہیں رہتی،
اللہ تعالى نے قرآن کریم میں اہل باطل کا ذکر کرتے ہوئے متعدد مقامات پر جہالت،
ابن القیم رحمہ اللہ نے جب حق سے اعراض و روگردانی کے متعدد اسباب پر روشنی ڈالی تو جہالت کو پہلے مقام پر رکھا،
آپ نے فرمایا:(مَنْ جَهِل شيئًا عادَاه وعادَى أهلَه)کہ انسان کی عادت یہ ہوتی ہے وہ جس چیز کا علم نہیں رکھتا اس کا دشمن بن جاتا ہےاور اسی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ جو صاحب علم ہے اس سے بھی عداوت پر اتر آتا ہے۔پس علم اور صاحب علم دونوں اس کے دشمن ہوجاتے ہیں۔
ایسے انسان کا مائنڈ سیٹ کیسے تیار ہوتا ہے؟ اس کی باطل پرستی میں کیسے پختگی آتی ہے؟ حق سے روگردانی کرتے کرتے وہ ظلم وجہل اور ہوى پرستی کا کیسے اسیر بن جاتا ہے؟ دن بدن حق سے اس کی دوری کے اسباب کیسے قوی سے قوی تر ہوتے جاتے ہیں؟ اور آخر میں کس طرح وہ سرکشى کا استعارہ اور ایک علمی معاشرہ میں غنڈہ گردی کا سیمبل بن جاتا ہے؛
چنانچہ آپ فرماتے ہیں:جہالت کے ساتھ ساتھ اگر بندہ حق پرستوں سے بغض وعداوت اور حقد وحسد کرنے لگے تو پھر حق سے اس کا اعراض قوی ہوجاتا ہے۔اب اگر اس کے ساتھ ساتھ وہ بندہ ایسا ہے جس کی تربیت اور عادات واطوار کی تکوین اس کے آباء واجداد کے طور طریقوں پر ہوئی ہے،
غور کریں!جہالت ایک انسان کو کہاں کہاں کا سفر کراتی ہے؟ اور ایک جاہل انسان جو عموما ہوائے نفس اور ظلم وزیادتی کا اسیر ہوتا ہے؛
ہوائے نفس کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ شریعت مطہرہ کے ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی،
تاہم جہالت اور اس کے مظاہر جس طرح واضح اور عیاں بیاں ہوتے ہیں،
امام شاطبی رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز کتاب الاعتصام میں اس اہم ترین امر کی بخوبی وضاحت کی ہے۔چنانچہ خودہوى پرست انسان بسا اوقات یہ تک نہیں جان پاتا کہ وہ ہوى پرستی کا شکار ہے،
ہوائے نفس کی اسیری میں اس قدر غموض ہوتا ہے کہ بسا اوقات ایک ہی کام ایک شخص اپنے نفس کی تسکین کے لیے کرتا ہے،
تاہم اہل علم نے ہوائے نفس کے شکار شخص کی کچھ ایسی علامتیں ذکر کی ہیں جن سے اسے پہچاننے میں آسانی ہوتی ہے،
ان میں سب سے اہم علامت صاحب ہوى کا متناقض ہونا ہے۔چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ ہوى پرست ہمیشہ اپنی گفتگو اور نقطہائے نظر میں تضاد کا شکار رہےگا۔آج کسی چیز کی برائی کرے گا،
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے منہاج السنۃ النبویۃ میں ایک ہوى پرست کے تناقض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہوائے نفس کا پجاری اپنے عمل میں تناقض کا اس قدر شکار ہو جاتا ہےکہ بعض چیزوں کو کبیرہ سمجھ کر ان سے اجتناب کرتا ہے،
ابن تیمیہ رحمہ اللہ ہوى پرستی کے شکار شخص کے مائنڈ سیٹ کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک ہوائے نفس کے شکار شخص کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے مخالف کی حق بات بھی نہیں تسلیم کرتا۔بلکہ بسا اوقات اس کے اچھےاعمال کی بھی باطل تاویل کرتا ہےاور دور کی کوڑی لاکر اس کے ظاہر وباہر نیک کاموں اور عمدہ کاوشوں کو غلط ٹھہرا دیتا ہے۔اسی پر بس نہیں کرتا۔نیتوں پر بھی حملہ کرتا اور ارادوں پر بھی قطعی حکم لگاتا ہے۔
بسا اوقات ہوى پرستوں کی ایک انجمن ہوتی ہے۔ادھر ایک ہوى پرست نے ہوى پرستی دکھائی ادھر آٹھ دس ہوى پرستوں نے ڈھول بجانا شروع کردیا۔اس انجمن کے اراکین کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ بھلے ہی صدر انجمن کی بات صحیح سے سمجھ میں نہ آئے،
ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مجموع فتاوى میں اس مائنڈ سیٹ کی طرف بھی بہت دقت سے اشارہ کیا ہے:(ولهذا تجد قومًا كثيرين يحبون قومًا ويبغضون قومًا لأجل أهواء لا يعرفون معناها ولا دليلها،
اسی لیے بعض معاصر اہل علم نے تو کھل کر اس کی صراحت کردی ہےکہ ہوى پرست باطل میں ایک دوسرے کی کھل کر تائید کرتے ہیں،
ایک بار یہ مائنڈ سیٹ بن جائے تو پھر ایسے افراد کے یہاں کوئی دلیل نہیں کام کرتی،
اسی لیے اللہ تعالى نےاسراف وزیادتی کے شکار ایسے شخص کی اتباع سے خصوصی طور پر خبردار کرتے ہوئے فرمایا ہے:وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسی چیز کو بہت ہی سمپل انداز میں یوں کہہ دیا ہے:(وصاحب الهوى يُعميه الهوى ويصمه،
قرآن کریم نے اس مائنڈ سیٹ کی اسی سنگینی کو اجاگر کرنے کے لیے شریعت اور ہوائے نفس کو ایک دوسرے کے مد مقابل لا کھڑا کیا ہے۔اور کھل کر اس چیز کی وضاحت کر دی ہے کہ وحی مبارک اور نفسانی خواہشات دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں جو کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت مطہرہ کی پاپندی کا مقصد ہی انسان کو نفسانی خواہشات سے روکنا ہے،
قرآن کریم کے بموجب ہوى پرستی ایسی خطرناک بیمارى ہے کہ گزشتہ امتیں اس کا شکار ہوکر راہ حق سے بھٹک گئیں۔ضلالت وگمراہی ان کی ہمنوا بن گئی،
ہوائے نفس کا علاج آسان نہیں ہوتا،
فرض کریں آپ منبر و محراب کے چمپئن ہوں۔آپ کی زبان میں شیرینی اور طرز گفتگو میں اثر ہو۔آپ کی ساحرانہ گفتگو سے سننے والا متاثر ہونے بغیر نہ رہ پاتا ہو۔سامعین کی ایک جماعت آپ کو فالو کرتی اور آپ کی باتوں کو سنتی اور مانتی ہو۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم بھی دیا ہو۔مگر یہ علم اس قدر نہ ہو کہ آپ ہر موضوع پر گفتگو کر سکتے ہوں۔ہر میدان میں حکم کا کردار ادا کر سکتے ہوں۔ہر فیلڈ میں ایمپائری کے فرائض انجام دے سکتے ہوں۔یا ہر کھیل کے کھلاڑی بن سکتے ہوں۔پھر بھی آپ کی خواہش یہی رہتی ہے کہ ہر موضوع پر بولیں۔ہر مناقشہ میں حصہ لیں۔ہر مسئلہ میں اپنا وجود درج کرائیں؛
فرض کریں آپ قلم و قرطاس کے بے تاج بادشاہ ہیں۔آپ لکھتے ہیں تو الفاظ جادو بن جاتے ہیں۔آپ کی کوئی تحریر نشر ہوتی ہے تو آپ کے قارئین جب تک اسے پڑھ نہ لیں چین نہیں پاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوب شہرت دے رکھی ہے۔سوشل میڈیا پر آپ کے فالوورز کی ایک بڑی تعداد ہے جو آپ کی باتوں کو سر آنکھوں پر رکھتی ہے۔آپ کی گفتگو کو اپنی چشم کا سرمہ اور آنکھوں کا کاجل بناتی ہے۔ادھر آپ نے کچھ فرمایا ادھر ایک بڑی تعداد اس کی تائید کرتی اور اس کی تشہیر میں لگ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم بھی خوب دے رکھا ہے۔بڑے بڑے مسائل میں آپ بآسانی گفتگو کر سکتے ہیں۔مناقشہ،
ضرور سوچیں کہ آپ کا یہ عمل آپ کو اللہ تعالیٰ سے قریب کر رہا ہے یا آپ کے لیے ہوائے نفس کی اسیری کی راہ ہموار کر رہا ہے؟
آپ کا یہ نقطہ انطلاق ہی سب کچھ طے کرےگا۔اور آنے والے تمام نتائج اسی چھلنی سے چھن کر نکلیں گے۔
ایک عالم کا علم اس وقت تک اپنی بلندی کو نہیں چھو سکتا جب تک اسے اس بات کا علم نہیں ہوجاتا کہ اسے کہاں بولنا اور کہاں خاموش رہنا ہے؟
ایک ربانی عالم جس قدر اس بات سے سروکار رکھتا ہے کہ اسے کہاں اور کتنا بولنا ہے،
اپنے علم و عمل کے تئیں ایک مخلص داعی جس قدر بولنے پر یقین رکھتا ہے اسی قدر خاموشی اس کے طرز زندگی کا اٹوٹ حصہ ہوتی ہے۔
اپنے مشن کے لیے ایک سچا شخص جب تک اس کا ادراک نہ کرلے کہ اسے اپنی زبان کو کب تک تالا لگا کر رکھنا ہے اور کب کتنے وقت کے لیے اسے آزاد کرنا ہے؛
جس قدر یہ جاننا ضروری ہے کہ کب بولنا ہے،
تاہم مقاماتِ سکوت کا ادراک یہ علم کے آخری مراحل کا حصہ ہے۔جب ایک عالم علم کی گہرائی،
ولقد أمرّ على اللئيم يسبّني
فمضيتُ ثَمّتَ قلتُ: لا يعنيني
یہی علم کا وہ آخری مقام ہوتا ہے،
اس بیمارى کے علاج میں مشقت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہ طبعی میلان سے میچ کرتا ہے،
اسی سنگینی کے پیش نظر سلف صالحین ہوائے نفس کا ادنى سا جھونکا بھی نہیں برداشت کرتے تھے اور پہلے ہی مرحلہ میں اس سے چھٹکارا پانے کی بھرپور کوشش کرتے تھے۔بار ہا یہ خیال ذہن میں آتا ہے کہ امام بخارى رحمہ اللہ نے محض نیت کی وجہ سے اپنا سامان تجارت دگنے دام پر کیوں نہیں بیچا جبکہ کسی سے ابھی سودا بھی نہیں ہوا تھا۔صرف نیت ہی تو کی تھی کہ فلاں کو اتنے دام میں فروخت کرنا ہے۔بھلا اس سے کون سى شرعی قباحت لازم آرہی تھی؟ یہ بہت باریک نکتہ ہے۔در اصل مادی مصالح کے لیے بار بار نیت کو توڑنا عزیمت کی صفت کو کمزور کردیتا ہےاور پھر دھیرے دھیرے ہوائے نفس کے لیے دل کے دونوں پٹ وا ہوجاتے ہیں۔
ویسے تو جہالت عموما ہوائے نفس اور ظلم وزیادتی کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔تاہم جاہل شخص اگر خواہش نفس کا اسیر ہے تو وہ اس قدر نقصان نہیں پہنچاتا جس طرح پڑھا لکھا شخص گل کھلاتا ہے۔اگر پڑھا لکھا شخص ہوائے نفس کا شکار ہوجائے اور خواہشات نفس اس پر اپنا پنجہ جمالے تو وہ یہودی صفت ہوجاتا ہے۔اور اللہ کے غضب کا حق دار ٹھہرتا ہے۔یہی وہ بنیادی چیز ہے جو یہود ونصارى میں فرق کرتی ہے۔ہوا پرستی دونوں جگہ ہے،
اسی لیے بعض سلف صالحین کا کہنا ہے:جو خواہشات نفس کو اپنے قدموں تلے روند لے گیا شیطان اس کے سائے سے بھی ڈرتا ہے۔اور جس کا علم اس کی ہوا پرستی پر غالب آگیا تو وہی دراصل صبر کا پیکر اور فاتح میدان ہے۔جبکہ ساری کی ساری مصیبت خواہش نفس کی اتباع میں ہےاور مکمل شفایابی اس کی مخالفت میں ہے۔
پس جہالت،
ہوى پرستی جب دل میں جگہ بنا لیتی ہے تو ہوى پرست کی زندگی کا ہر میدان اس کا مظہر بن جاتا ہے۔اس کے طبیعت کی جولانی رہ رہ کر اس کے افسوسناک،
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:(والإنسان مجبول على حُبِّ نفسه،
نظَرُوا بِعَيْنِ عَدَاوَةٍ،
عَيْنُ الرِّضَا،
وهذا الجهلُ مقرونٌ بالهوى والظلم غالبا؛
یہ در اصل اس مائنڈ سیٹ کا نتیجہ ہوتا ہے جو اس مرحلہ پر پہنچ کر بن جاتا ہے۔وہ مائنڈ سیٹ جس کا خمیر جہالت،
ہر معاشرے میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا ایک خاص مائنڈ سیٹ ہوتا ہے۔سب سے الگ تھلک،
ہر چیز کے تئیں ان کا سوچنے کا ایک الگ انداز ہوتا ہے۔عام ڈگر سے ہٹ کر،
ان کی محبت،
اس مائنڈ سیٹ کے افراد ویسے تو ہر چیز میں ایک منفرد،
ویسے تو یہ اختلاف میں کشادہ ظرفی کے قائل اور نرمئ گفتارکے قائل ہوتے ہیں،
ان کے اختلاف کا پارہ اور حدت مناظرہ کی ڈگری اپنوں کے لیے تو پندرہ سے بیس،
وہ اگر سارے عالم کو گالی دیں تو مجرد اختلاف رائے ہوتا ہے اور دوسرا ان سے محض اختلاف رائے کرلے تو ان کے لیے کفر و ایمان کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
یہ مخالف کی وہ غلطی ہوتی ہے جو ان کے لیے اس کی عزت وآبرو سب کچھ حلال کردیتی ہے۔
یہ نہ تدلیس ہے،
یہ ٹوٹل مائنڈ سیٹ کا کھیل ہوتا ہے جو ایک لمبی مدت تک جہالت کے کنویں اور خواہشات نفس کے سمندر میں غوطہ لگانے کے بعد سیٹ ہوجاتا ہے۔ایسے افراد کا کسی سے بھی اختلاف ایسے ہی ہوتا ہے،
ان کے پاس اور کچھ ہوتا بھی نہیں ہے۔نہ رائے،
اس مائنڈ سیٹ کے حامل افراد ایک پروگرامنگ سسٹم کی طرح کام کرتے ہیں،
کسی بھی نوعیت کے اختلاف میں مائنڈ سیٹ کا کردار نہایت ہی اہم ہوتا ہے۔جس کے یہاں فکری توازن اور علمی تواضع ہوتا ہے،
یہ ایک مائنڈ سیٹ ہی ہے کہ آپ مجھ سے مجرد اختلاف کریں گے تو بھی وہ میرے لیے کفر وایمان کا مسئلہ بن جائےگا،
اس مائنڈ سیٹ کی بنیاد عموما جہالت،
یہ مائنڈ سیٹ تیار ہونے کے بعد حقائق نظر نہیں آتے،
کسی بھی چیز کے تئیں جب ایک مائنڈ سیٹ بن جاتا ہے،
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ایک مجوسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔آپ نسلا فارسی تھے۔اصفہان سے آپ کے خاندان کا تعلق تھا۔
حق کی تلاش میں آپ ہزاروں کیلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے مدینہ منورہ پہنچے۔ایک لمبے انتظار کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی شدید خواہش پوری ہوئی۔جب مہر نبوت کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ پڑے۔حالت یہ تھی کہ روتے جاتے تھے اور مہر نبوت چومتے جاتے تھے۔
آپ کو بلا شرط حق کی تلاش تھی۔مزاج میں استسلام تھا۔طبیعت میں توازن تھا۔ہوائے نفس کا کوئی گزر نہ تھا۔نبوت کی حقانیت کا علم ہوتے ہی ایمان لے آئے۔اور پھر ایمان کا ایسا سفر طے کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص الخاص اور مشیر کا درجہ حاصل کیا۔غزوہ خندق میں آپ ہی کے مشورے سے خندق کھودی گئی۔وہ خندق جو پہلے کفار و مشرکین کی ہزیمت کا سبب اور بعد میں بنو قریظہ کا قبرستان ثابت ہوئی۔وہی بنو قریظہ جس کا حیی بن اخطب ایک معروف اور قابل اعتبار فرد تھا۔
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اپنے ایمان و یقین کے سفر میں یہیں تک نہیں رکے،
دوسری طرف حیی بن اخطب ایک یہودی عالم تھا۔بنو قریظہ کے بڑے علماء اور قائدین میں اس کا شمار ہوتا تھا۔ظاہر ہے اہل کتاب میں سے تھا۔اس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔مہر نبوت کو دیکھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلام کی نبوت کا یقینی علم اسے حاصل ہوگیا۔مگر اس کا مائنڈ سیٹ کچھ اور تھا۔مزاج میں تکبر،
ایک ایسے انسان کی انصاف پسند طبیعت اور مثبت سوچ نے جو در اصل مجوسیت سے نکلا تھا،
جبکہ ایک ایسا انسان جو بنی اسرائیل میں سے تھا۔اہل کتاب میں سے تھا۔نامور عالم تھا۔قوم کا راہ نما اور قائد بھی تھا۔اس کی منفی سوچ اور ہوائے نفس میں غرق اس کے مائنڈ سیٹ نے اسے دونوں جہان میں رسوا کردیا۔
بلا شبہ انسان کے اعمال اس کے مائنڈ سیٹ کے تابع ہوتے ہیں۔اس کے حرکات و سکنات اس کی ذہنیت کا ایسا ترجمان ہوتے ہیں جس کے بعد کسی ترجمانی کی ضرورت نہیں رہ جاتی:(قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَىٰ سَبِيلًا)
ولله في خلقه شؤون
وهو الموفِّق والهادي إلى سواء السبيل






