چھوٹا نہ کوئی رنگ ہماری صفات سے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بے زار ہوگیا تھا بہت میں حیات سے
لیکن ملا سکون ترے التفات سے
آنکھیں تمھارے حسن کے جلووں میں کھوگئیں
منظر پکارتے ہی رہے شش جہات سے
میرے جنون و شوق کی کیا حد ہے اے خدا!
بہلا سکا نہ دل کو تری کائنات سے
یوں محو ہوگیا ہوں کسی کے خیال میں
سب کام لگ رہے ہیں مجھے واہیات سے
لاتی ہیں توڑ توڑ کے شاخوں سے رات دن
کیا ایسا مسئلہ ہے ہواؤں کو پات سے
ہم بھی نگاہ ڈالتے دنیا کے حسن پر
فرصت کہاں ملی ہمیں تزئین ذات سے
جلتے ہیں اس طرح کہ ندارد ہے روشنی
کچھ عہد کرلیا ہے چراغوں نے رات سے
چنگاریاں سمیٹے ہوئے ہے مرا وجود
مجھ کو کریدیے گا ذرا احتیاط سے
دنیا نچوڑتی رہی ہم کو تمام عمر
چھوٹا نہ کوئی رنگ ہماری صفات سے
کہتے ہیں آپ آپ ہی دیوانہ شاد کو
نالاں بھی ہو رہے ہیں دِوانے کی بات سے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





