سفر کو وسیلہ ظفر کہا گیا ہے۔سفر کے دوران بہت سے لوگوں سے ملاقات اور بات چیت ہوتی ہے۔تجربات و مشاہدات ہوتے ہیں۔مسافر کو بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔دل و دماغ کے بند دریچے کھلتے ہیں اور معلومات کی تازہ ہوائیں طبیعت میں فرحت و انبساط کا سبب بنتی ہیں۔سفر جسمانی بھی ہوتا ہے اور روحانی بھی۔لیکن اسی کے ساتھ ایک اور سفر بھی ہے جس پر لوگوں کی نظر کم ہی جاتی ہے اور وہ سفر ہے تصنیف و تالیف کا،
انھو ں نے 2011 میں اس سفر کا آغاز کیا اور 2013 میں وہ اس کی پہلی منزل پر پہنچے۔یعنی کاروان سلف کی پہلی جلد اسی سال شائع ہو کر منظر عام پر آئی۔اس پہلی جلد میں ساٹھ سے زائد شخصیات کے تذکرے،
انھوں نے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں سوچی ہوگی کہ وہ جس سلسلے کا آغاز کرنے جا رہے ہیں اس میں اتنی برکت ہوگی کہ وہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جائے گا۔انھوں نے یہ بھی نہیں سوچا ہوگا کہ ان کے اس کام کی اتنی پذیرائی ہوگی یا اس طرح لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ انھیں قدم قدم پر سہارا دینے والے موجود ہیں۔اور یہ سہارا ہر قسم کا ہے کسی ایک قسم کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔لیکن یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر مولانا ندوی تھک ہار کر بیٹھ جائیں تو پھر ان کی طرف کوئی بھی اپنا ہاتھ دراز کرنے والا نہیں ہو گا۔اس پیرانہ سالی اور خرابی صحت کے باوجود ان میں جو جوش و جذبہ ہے وہ جوانانِ پرعز م کو بھی مات دیتا نظر آتا ہے۔اگر ان کا جذبہ جوان اور ان کی نیت میں خلوص نہیں ہوتا تو کاروان سلف کی دس جلدیں زیور طباعت سے آراستہ نہ ہوئی ہوتیں۔یہ کارنامہ کم نہیں کہ یہ دس جلدیں مجموعی طور پر ساڑھے پانچ ہزار صفحات کو محیط ہیں اور ان دسوں جلدوں میں تقریباً ساڑھے پانچ سو شخصیات کے تذکرے قلمبند ہوچکے ہیں۔گیارہویں جلد کا مسافر پا بہ رکاب ہے اور امید ہے کہ وہ بھی عنقریب اپنی منزل پر پہنچ جائے گا۔ان جلدوں کی اشاعت پر خرچ ہونے والا سرمایہ الگ ہے۔اس پر الگ سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔
مولانا عبد الرؤف خاں ندوی اور ان کے سلسلے کاروان سلف سے میرا گہرا رشتہ ہے۔لیکن اس میں میری کم اور مولانا کی سعی مسلسل کا زیادہ دخل ہے۔ان کی خواہش ہوتی ہے کہ میں ہر جلد پر اظہار رائے کروں۔لیکن یہ ممکن نہیں۔پھر بھی ”خیالِ خاطرِ احباب“کے تحت کچھ نہ کچھ کہنا ہی پڑتا ہے۔کاروان سلف کی پہلی جلد آنے تک میں ان سے ناواقف تھا۔لیکن انھوں نے میرے پاس ایک نسخہ بھجوایا اور پھر جو رشتہ قائم ہوا وہ نہ صرف یہ کہ برقرار ہے بلکہ اس میں پختگی آتی چلی جا رہی ہے۔میں انتہائی کم علم اور بے مطالعہ شخص ہوں لیکن مولانا کا حسن ظن مجھے خود کو بے علم سمجھنے سے روکے رہتا ہے۔ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے میں مضامین کی حصولیابی میں تعاون پیش کرتا ہوں جسے وہ محبت آمیز انداز میں قبول کر لیتے ہیں۔اب یہی دیکھیے کہ دسویں جلد میں چار مضامین تو ناچیز کے ہی تحریر کردہ ہیں اور تین مضامین میں کسی نہ کسی طرح اس کا تعاون شامل رہا ہے۔گیارہویں جلد میں بھی مضامین کے سلسلے میں کچھ نہ کچھ تعاون موجود ہے۔حالانکہ ایک ہی جلد میں کسی ایک شخص کے اتنے مضامین شامل اشاعت نہیں ہونے چاہئیں۔لیکن یہ مولانا ندوی کی محبت ہے جو وہ اس قدر مہربان ہیں۔حالانکہ ان کا تو کہنا یہ ہے کہ ہمیں ان مضامین کی ضرورت تھی خواہ وہ کسی کے بھی تحریر کردہ ہوتے۔لیکن بہرحال میں اسے ان کی خردنوازی سمجھتا ہوں۔
مولانا ندوی کی خواہش تھی کہ میں دسویں جلد پر بھی اپنی رائے دوں۔لیکن اپنے ہی تحریر کردہ کئی مضامین کے شامل اشاعت ہونے کی وجہ سے میں کتراتا رہا۔لیکن بھلا مولانا ندوی جس کو پکڑ لیں وہ ان کی گرفت سے آزاد ہو ہی نہیں سکتا۔آپ ان پختہ عزائم والے لوگوں میں شامل ہیں کہ جو ٹھان لیتے ہیں وہ کر کے چھوڑتے ہیں۔بہرحال ہمیشہ کے مانند اس جلد کے بھی بیشتر مضامین قابل مطالعہ ہیں۔خاص طور پر ڈپٹی کلکٹر سید احمد حسن محدث دہلوی پر راشد حسن مبارکپوری،
مولانا عبد الحمید رحمانی کے دونوں مضامین جہاں دونوں شخصیات کی زندگی بھرپور روشنی ڈالتے ہیں وہیں جمعیت و جماعت اہل حدیث کے سلسلے میں بھی بہت سی تفصیلات اور اس حوالے سے دونوں شخصیات کی خدمات کو بھی سامنے لاتے ہیں۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ مولانا رحمانی جماعت اہل حدیث کی تاریخ کا گہرا علم رکھتے تھے اور ان میں ایسی جماعتی غیرت تھی کہ اس کے خلاف کچھ بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے۔وہ اس سلسلے میں انتہائی جرأت تمند تھے اور اپنی بات بےباکی کے ساتھ کہنے کا ہنر جانتے تھے۔انھوں نے علامہ عطاء اللہ حنیف بھوجیانی پر تحریر کردہ اپنے مقالے میں ایک جگہ اس جذبے کا برملا اظہار کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ”مشہور جاہل اور بداندیش بادشاہ اکبر کے بپا کردہ فتنہ ارتداد سے لے کر مہدویت،
ایک شخصیت پر میری نظر پڑی تو ٹھہر گئی۔اس شخصیت کا نام ہے حافظ عبد الکریم مسلم مصنف دیوان گلشن ہدایت۔اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ہم نے عہد طفلی میں اپنے گھر میں دیوان گلشن کا ایک نسخہ دیکھا تھا۔وہ مطبوعہ نسخہ نہیں بلکہ مخطوطہ تھا اور اس کی کتابت ہمارے دادا جناب جان محمد انصاری نے کی تھی۔انھوں نے ریڈی میڈ روشنائی کے بجائے خود اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی ہلکی سیاہ روشنائی سے کتابت کی تھی۔انھوں نے خود ہی اس کی جلد بندی بھی کی تھی۔یہ بات ہماری والدہ نے ہمیں بتائی تھی۔ان دنوں یعنی آج سے تقریباً پچپن ساٹھ سال قبل خود ہمارے گاؤں میں ایسے کئی افراد موجود تھے جن کو دیوان گلشن کے اشعار ازبر تھے۔خود ہمارے والد کو بھی اس کے بیشتر اشعار یاد تھے۔میں نے بھی جستہ جستہ اس کو پڑھا تھا۔لیکن وائے افسوس ہمارے گھر میں بہت سی نادر و نایاب کتابوں کے ساتھ وہ گراں قدر مخطوطہ بھی جانے کیسے فنا کے گھاٹ اتر گیا۔کاش وہ اور اس طرح کی دیگر نادر کتب مل جاتیں تو ہم انھیں منہ مانگی قیمت میں خرید لیتے۔اس جذباتی تعلق کی وجہ سے میں نے سب سے پہلے اسی مضمون کو پڑھا اور صاحب دیوان گلشن سے عقیدت میں اضافہ ہو گیا۔اس کے لیے شیخ مطیع اللہ سلفی شکریے اور مبارکباد کے مستحق ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ مولانا عبد الرؤف خاں ندوی بھی شکریے کے حقدار ہیں۔شیخ مطیع اللہ سلفی نے اپنے مضمون میں دیوان گلشن کی مقبولیت کے سلسلے میں لکھا ہے کہ ”دیوان گلشن ہدایت کو اللہ نے بڑی مقبولیت عطا فرمائی۔اسے بہار کی مسدس حالی سمجھنا چاہیے۔اشاعت سے پیشتر ہی گھروں کی پردہ نشین خواتین کو بھی اس کے اشعار ازبر ہو گئے تھے اور اس کے اشعار زبان زد خاص و عام ہو گئے تھے۔شمالی بہار،
اسی طرح مولانا ابولوفا نے ہمارے والد ڈاکٹر مولانا حامدالانصاری انجم پر جو مضمون قلمبند کیا ہے اس میں کئی ایسی باتیں ہیں جو بہت کم لوگوں کو معلوم ہیں۔بالخصوص ایک بریلوی عالم دین سے ایک ایسے مناظرے کے بعد جو ہوا ہی نہیں تھا ان کے کئی جانی دشمن پیدا ہو گئے تھے اور انھیں محافظوں کے جلو میں باہر نکلنا پڑتا تھا۔میں چاہتا ہوں کہ اس کا ایک چھوٹا سا اقتباس پیش کر دوں تاکہ جنھوں نے وہ مضمون نہیں پڑھا انھیں بھی اندازہ ہو جائے کہ ”ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی“۔
مولانا ابوالوفا لکھتے ہیں کہ ”لوہرسن (ہمارے گاؤں کرنجوت عرف لوہرسن بازار سے متصل گاؤں) میں ایک بڑی تعداد بریلوی حضرات کی ہے۔ان لوگوں نے (مولوی)حشمت علی پیلی بھیتی کا پروگرام رکھا۔علاقہ و جوار کے لوگ کافی تعداد میں شریک اجلاس تھے۔انجم صاحب بھی اپنے چند دوستوں کے ساتھ شریک اجلاس ہوئے۔بڑا شاندار اسٹیج سجایا گیا تھا۔حشمت علی کی تقریر شروع ہوئی۔انجم صاحب اپنے اہل حدیث ہمراہیوں کے ساتھ جلوہ افروز تھے۔خطبہ کے بعد سورۃ الکوثر پڑھ کر مولوی حشمت علی نے اپنی تقریر کا آغاز کیا اور اہل حدیثوں اور وہابیوں پر طنز و تعریض لگائی۔گالی گلوج بھی کی۔انجم صاحب نے برجستہ کہا مولانا دیکھ کر یہاں پڑھے لکھے لوگ بھی ہیں۔پیلی بھیتی صاحب اور جوش میں آگئے اور بہت کچھ اول فول بکنے لگے۔انجم تاباں کہاں کے رکنے والے۔زوردار لفظوں میں آواز لگائی۔پھر کیا تھا ایک ہنگامہ برپا ہوگیا اور مارو بھگاؤ کی آوازیں بلند ہونے لگیں اور ایک شور بپا ہو گیا۔وہ لوگ (دیوبندی حضرات)جو انجم صاحب کو لے گئے تھے بھاگ گئے۔کسی کا اتا پتا نہیں تھا۔ہلہ بول میں کوئی قالین لے کر بھاگا،
”آئینہ بدعت“ کا قصہ یہ ہے کہ وہ محض آٹھ صفحات کا ایک شعری مجموعہ ہے جس میں اسی عنوان کے تحت مسدس فارمیٹ میں ایک بڑی نظم اور’رضا خانی چیلے،
مولانا رضاء اللہ عبدالکریم مدنی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ”90 کی دہائی میں بریلی اور مضافات بریلی کے قصبوں،
بہرحال مجموعی طور پر دسویں جلد بھی ہمیشہ کے مانند بڑی گراں قدر اور معلومات افزا ہے۔512 صفحات پر مشتمل یہ مجموعہ نہ صرف یہ کہ لائق مطالعہ ہے بلکہ تمام اہل علم کی لائبریریوں کی زینت بننے کا حقدار ہے۔البتہ اس جلد سے غم و اندوہ کی ایک خبر بھی ملی۔یہ خبر مولانا ندوی کے صاحبزادے عزیزم محمد اقبال کی اچانک موت سے متعلق ہے۔مولانا ندوی نے اچھا کیا جو مجموعہ کے آخر میں اس کی اطلاع فراہم کر دی۔تاکہ قارئین کاروان سلف ان کے حق میں دعائے خیر کر سکیں۔اللہ ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگزر کرے۔اس کے ساتھ ہی وہ مولانا ندوی کو اس پیرانہ سالی میں اس غم و الم کے بوجھ کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین






