جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ہم یہاں پر اداس بیٹھے ہیں

کلام: حمود حسن مبارکپوری8 نومبر، 20231,637قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہم یہاں پر اداس بیٹھے ہیں
اور وہ ان کے پاس بیٹھے ہیں
یہ جو بیٹھے ہیں ان کی محفل میں
سب خلاف قیاس بیٹھے ہیں
تجھ پہ لعنت ہو ساقیا! مے باز
لے کے خالی گلاس بیٹھے ہیں
کعبئہ دل میں تیری یاد کے بت
ہو کے آزر شناس بیٹھے ہیں
دوب مژگاں برائے اشک کہن
کھولے محو سپاس بیٹھے ہیں
کیوں ابھی تک ہے انتظار وہاں
کیوں لگا کر وہ آس بیٹھے ہیں
اے خدا! رحم، پاسبان یقین
بن کے تصویر یاس بیٹھے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ہم یہاں پر اداس بیٹھے ہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر