عبداللہ المدیفر سعودی عرب کے ایک جواں سال جرنلسٹ ہیں،
انھوں نے سعودی عرب میں مختلف حوالوں سے شہرت رکھنے والے نامور افراد اور سماجی و مذہبی شخصیات سے بڑے شاندار انٹرویو کیے ہیں،
اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر آج سے تقریبا آٹھ سال قبل انھوں نے ایک انٹرویو ناصر الحزیمی نامی ایک سعودی رائٹر سے لیا تھا،
بہت سارے قارئین کے لیے فتنہ جہیمان سے متعلق یہ مختصر سی جانکاری شاید ضروری ہے کہ پندرہویں صدی ہجری کا آغاز پورے عالم اسلام کے لیے چونکا دینے والی صبح سے ہوا،
جانکار حضرات واقف ہیں کہ یہ حادثہ تاریخ اسلام میں قرامطہ کے فتنہ کے بعد اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ تھا جس میں حرم مکی کی حرمت پامال ہوئی اور باقاعدہ جنگ اور خون خرابہ کی نوبت تک آئی جو تقریبا دو ہفتوں تک چلی۔یہ فتنہ بالآخر اپنے انجام کو پہنچا،
اس واقعہ کی تفصیلات بڑی عبرتناک ہیں اور پڑھنے والے کو ماضی کی ایک ایسی تصویر دکھاتے ہیں جو رہتی دنیا تک انتہاپسندی کے باب میں ایک مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔
ناصر الحزیمی فی الوقت جريدة الرياض وغیرہ میں لکھتے رہتے ہیں،
تمہید طویل ہوئی مگر مدعا کو سمجھانے کے لیے یہ طوالت ضروری تھی۔
مذکورہ بالا انٹرویو میں آخری سوال عبداللہ المدیفر نے ناصر الحزیمی سے یہ پوچھا کہ اس پورے فتنہ اور اس کے مضمرات اور نتائج سے آپ نے سب سے اہم سبق کیا سیکھا؟ تو ناصر الحزیمی نے جواب میں کہا:
ما أعطي عقلي غيري (میں کبھی اپنی عقل کسی اور کے ہاتھ اور تصرف میں نہیں دوں گا)
سچ کہیں تو یہ اتنا بڑا سبق اور اس قدر گہری بات ہے کہ آج ہمیں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں اسے اپنا ورد بنالینے کی ضرورت ہے۔
امت میں جب کبھی فتنے کھڑے ہوتے ہیں یا نئے سیاسی و اجتماعی مسائل پیدا ہوتے ہیں تو ہمارے سماج میں اکثر عجیب طرز عمل دیکھنے کو ملتے ہیں۔
ایک طرف عُجب اور خود فریبی کا فتنہ ہوتا ہے جس میں مبتلا ہر شخص امت کے مسائل کے حل کے لیے اپنا اپنا الگ ایجنڈا لیے پھر رہا ہوتا ہے اور اکثر زبان حال و قال سے یہ کہتا پھرتا ہے کہ "حل تو بس یہی ہے اور یہیں ہے" اور
درد بیچارہ پریشاں ہے کہاں سے نکلے
تو دوسری طرف عقل کے کورے وہ "ادھورے دانشور" ہیں جو پورے وثوق سے اپنی صلاحیتوں کے ذریعے کسی اور کے مشروع کی تکمیل میں لگے ہوتے ہیں،
عوام تو عوام ہے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو یہ نہیں سجھ پاتی ہے کہ ان کی فکر کو ایک مخصوص ڈھرے پر لایا جارہا ہے،
بین الاقوامی سیاست ہو کہ مخصوص طرز کی فکری وسیاسی تنظیمیں یا تخریبی ایجنڈے کے حاملین سب اس طرزِ تقریب یا طرزِ تخریب کا بخوبی استعمال کرتے ہیں اور عوام و خواص کی ایک بڑی تعداد کا حال یہ ہے کہ
پاؤں میرے مقصودِ نظر اور کسی کا
کرتا ہوں سفر روز مگر اور کسی کا (نواز دیوبندی)
وہ کچی ڈور سے بندھے کھنچے چلے جاتے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اس طرز کو ایک جگہ فرعونی حربہ قرار دیا ہے {فَٱسۡتَخَفَّ قَوۡمَهُۥ فَأَطَاعُوهُۚ إِنَّهُمۡ كَانُوا۟ قَوۡمࣰا فَـٰسِقِینَ } اس نے اپنی قوم کو بیوقوف بنایا تو وہ اس کی ہاں میں ہاں ملانے والے ہوگئے۔(الزخرف: ٥٤)
تو دوسری جگہ اس کو پہچان کر اس سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے اسے مومنانہ فراست کا ایک اہم باب قرار دیا ہے:
{فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقࣱّۖ وَلَا یَسۡتَخِفَّنَّكَ ٱلَّذِینَ لَا یُوقِنُونَ}
پس آپ صبر کریں یقیناً اللہ کا وعده سچا ہے۔آپ کو وه لوگ ہلکا نہ کریں جویقین نہیں رکھتے۔(الروم: ٦٠)
موجودہ دور میں نیوز پیپر،
سیاسی پارٹیاں ہوں کہ حکومتیں سبھی رائے عامہ کو ہمنوا بنائے رکھنے کے لیے اس پر خصوصی توجہ دیتے ہیں جسے عرف میں میڈیا مینجمنٹ یعنی میڈیا کو مینیج کرنا یا سنبھالنا کہا جاتا ہے۔
حد تو یہ ہے کہ اپنے ملک سے آگے دوسرے ممالک میں بھی جہاں کہیں کسی سے ان کا کوئی مفاد وابستہ ہو وہاں بھی رائے عامہ کو اپنے حق میں رکھنے کے لیے چھوٹے بڑے نیوز پیپر اور چینل پر لکھنے اور کام کرنے والی مؤثر شخصیات کی وفاداریاں خریدنے سے لے کر کبھی تحفے تحائف اور کبھی مفت بین الاقوامی اسفار کے ذریعے کم از کم اپنا مخالف بننے سے روکنے تک،
ظاہر بات ہے ایسی صورت میں تجزیے اور تبصرے خود تنقیح و تطہیر کے متقاضی ہوتے ہیں۔اور آنکھ بند کرکے ان خبروں پر بھروسہ کرنے والے بہت سارے افراد مخلص تو ہو سکتے ہیں مگر درست اور صحیح نہیں۔
ایسی صورتحال ہو تو پھر ایک بندے کو ناصر الحزیمی کی حکمت پر مبنی یہ بات یاد رکھنی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ کیا واقعتا میں اپنی عقل سے اپنا ہی کام کررہا ہوں؟؟
کیا واقعتا میں حالات اور افکار کو صحیح ڈھنگ سے پڑھ پارہا ہوں؟؟
اپنی عقل و خرد سے دوسروں کی فکر کی آبیاری کرنے والے اور اپنی زبان و قلم کے ذریعے دوسروں کی جانے انجانے ترجمانی کرنے والے لوگ تین قسم کے ہوسکتے ہیں:
پہلی قسم: ان لوگوں کی ہے جو یہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ کس کی تائید یا تردید کررہے ہیں،
دوسری قسم: وہ لوگ جو استعمال ہوتے ہیں اور انھیں معلوم ہے کہ کوئی انھیں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کررہا ہے،
تیسری قسم: ان بھولے لوگوں کی ہے جو اپنے آپ میں مخلص ہیں لیکن یا تو مغفّل ہیں یا جذبات کی رو میں عقل سے کام لینا بھول گئے ہیں،
میری اپنی یہ تحریر دراصل انہی "مخلصوں" کے لیے ہے۔
ایک قاری یا سامع کی حیثیت سے ہم سب کو کم از کم درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
(١)چوکنا رہیں،
(٢)خبروں کی تحقیق کیا کریں
{یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ إِن جَاۤءَكُمۡ فَاسِقُۢ بِنَبَإࣲ فَتَبَیَّنُوۤا۟ أَن تُصِیبُوا۟ قَوۡمَۢا بِجَهَـٰلَةࣲ فَتُصۡبِحُوا۟ عَلَىٰ مَا فَعَلۡتُمۡ نَـٰدِمِینَ}
اے ایمان والو! اگر تمھیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔(الحجرات: ٦)
یاد رکھیں کئی بار خبریں سچی ہوتی ہیں مگر ویسی نہیں ہوتی جیسی بیان کی جاتی ہیں،
(٣)کسی بھی موضوع کو سمجھنے کے لیے یا لکھنے یا بولنے کے لیے ہمیشہ پہلے دو طرفہ باتیں سنا کریں اور پڑھا کریں،
(٤)دعا۔ہمیشہ اللہ سے دعا مانگیں کیونکہ معاملات کے گنجلک ہوجانے کے بعد بس وہی صحیح راہ سجھا سکتا ہے اور ڈور کا صحیح سرا ہمیں پکڑا سکتا ہے۔
قیام اللیل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں سے ایک پیاری دعا یہ بھی تھی:
(اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ،
اے اللہ!
جبرئیل و میکائیل و اسرافیل کے رب!
آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے!
غیب اور حاضر کے جاننے والے!
تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے ان مسائل میں جن میں وہ باہم اختلاف کر بیٹھیں،
(٥)آخری بات یہ بھی یاد رکھیں کہ کئی موقعے ایسے ہوتے ہیں جہاں معاملات کے پوری طرح واضح نہ ہونے پر دوسرے کا گدھا بننے سے زیادہ بہتر یہ ہوتا ہے کہ مناسب وقت آنے تک خاموش تماشائی بنے رہیں یا سب کے حق میں خیر اور ہدایت کی دعا کرتے رہیں۔






