دامن دل پہ سبھی رنگ اتر جاتے ہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
آپ کہتے ہیں تو پھر حد سے گزر جاتے ہیں
ہاں مگر دیکھیے جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
جن کی قسمت میں خدا ہے نہ صنم ہے کوئی
ہائے وہ لوگ زمانے میں کدھر جاتے ہیں
جو تری یاد بنا گزرے کوئی شام نہیں
سرد موسم میں تو ہم اور بکھر جاتے ہیں
تخلیہ لایا ہے وہ عشرت مصروفئ دل
اب تو فرصت کے خیالوں سے بھی ڈر جاتے ہیں
جن بتوں سے ہوئی پامال وفا کی حرمت
کعبۂ دل میں وہی بار دگر جاتے ہیں
وہ مجھے دیکھ کے ہنستا ہے مگر رکتا نہیں
خواب تعبیر سے ملتے ہی مکر جاتے ہیں
جب ملی ان سے نظر تب ہمیں باور آیا
ابر کو دیکھ کے پیاسے کیوں ٹھہر جاتے ہیں
ہجر کی رات گزرتی ہے بڑی مشکل سے
بس اسی واسطے ہم دیر سے گھر جاتے ہیں
ایک لمحے کی رفاقت بھی میسر نہ ہوئی
شہر سے تیرے صنم خاک بسر جاتے ہیں
خون کا رنگ ہو یا رنگ حنائی ہو حسن
دامن دل پہ سبھی رنگ اتر جاتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





