جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ہائے کیا زمانہ تھا ہائے کیا زمانہ ہے

کلام: حمود حسن مبارکپوری22 جنوری، 20241,998قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دوستی دیے سے ہے خود کو بھی بچانا ہے
تند رو ہوائیں ہیں گھر مرا پرانا ہے
عشق اور محبت کا کام کیا سوا اس کے
زندگی کے ہجرے میں داغ دل سجانا ہے
چاند سی جبینوں پر اوڑھنی مچلتی ہے
سادگی کی بانہوں میں حسن کا ٹھکانہ ہے
مختلف طریقے ہیں آشنائی پانے کے
باہمی تعارف کا نکتہ جاہلانہ ہے
دل کے ٹوٹ جانے پر کیا گلہ کرے کوئی
رسم بے وفائی کا سلسلہ پرانا ہے
اس جہان قاسی کے آہنی تراشوں کا
سبقت نمودی میں لہجہ مخلصانہ ہے
دل کبھی چہکتا تھا خیر اب اداسی ہے
ہائے کیا زمانہ تھا ہائے کیا زمانہ ہے
کیا خبر کتاب زیست کس طرح سمجھ آتی
عشق کے توسط سے زندگی کو جانا ہے
سب رتیں تغزل کی اس پہ ہوگئیں کامل
میر کا سخن ہے وہ رنگ مومنانہ ہے
گو نہیں وہ پہلو میں آہٹیں تو ہیں اس کی
اس کی یاد سے دل کا رشتہ غائبانہ ہے
تم متاع ہستی کا دائمی تقاضا ہو
دور جس قدر جاؤ لوٹ کر ہی آنا ہے
کتنے زخم لگتے ہیں کیسے موت آتی ہے
تیغ ہجر پر سانسیں رکھ کے آزمانا ہے
غل کرو کہ رہنے دو شمع محفل جاناں
دل تو جا چکا اپنا صرف جاں سے جانا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ہائے کیا زمانہ تھا ہائے کیا زمانہ ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر