دینی علم کی اہمیت وفضیلت ہر صاحب ایمان واسلام کے نزدیک دو دو چار کی طرح واضح اور روز روشن کی طرح عیاں ہے۔توحید،
ایک مسلمان کی اولین ترجیح اخروی زندگی میں کامیابی و کامرانی کا ابتغا ہونا چاہیے۔ساتھ ہی ساتھ اسلام کے عطا کردہ سنہری ضابطۂ حیات کی روشنی میں دنیاوی زندگی کی بہتری بھی اس کا مطمح نظر ہونا چاہیے۔مذہب اسلام نے جہاں فکر آخرت پر زور دیا ہے وہیں دنیاوی نصیب و حظ کے نسیان وفراموشی سے بھی منع کیا ہے۔اس نے جہاں توحید و شرک اور عبادات کے احکام ومسائل کو کھول کھول کر بیان کیا ہے وہیں معاملات اور آداب معاشرت کے کسی بھی باب کو تشنۂ وضاحت نہیں چھوڑا ہے۔
ایک مسلمان کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ پہلے اسلام کے عطا کردہ دستور زندگی کا علم حاصل کرے اور پھر اس کی روشنی میں اپنی زندگی گزارے۔اس کے سفر حیات کا آغاز پیغام ربانی 'اقرأ' پر عمل سے ہو اور اختتام رب کی خوش نودی کے حصول پر۔یہی ایک مسلمان کی زندگی کا خلاصہ ہے۔
اسلام کے پیغام نخستین کا تقاضائے اولین معرفتِ رب العالمین ہے۔ایک مسلمان پر فرض ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے رب کو پہچانے،
مدارس و جامعات اور مساجد و مکاتب دین کی تعلیم و تفہیم کے بنیادی مراکز ہیں۔ہند و بیرونِ ہند میں دینی علوم کے نشر و ذیوع میں مدارس و جامعات ہی کا بنیادی رول رہا ہے۔ہمارے ملک ہندوستان میں دینی تعلیمات کی نشر و اشاعت اور نسلِ نو کو اسلامی آداب و اخلاق سے روشناس کرانے میں مدارس ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔مدارس اسلامیہ کے زوال کا مطلب نئی نسل کے دینی و اخلاقی اقدار کا زوال ہے۔کھلے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ اسلام کی بقا مدارس کی بقا پر منحصر ہے۔اگر مدارس زندہ رہیں گے تو اسلام اپنی اصلی شکل میں زندہ رہے گا۔ایسے میں دینی علوم کے ان قلعوں کی حفاظت کی فکر کرنا اور دینی تعلیم کے معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرنا ہر صاحب ایمان کی شرعی ذمہ داری ہے۔لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ مدارس دن بدن زوال کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔تعلیمی معیار حد درجہ انحطاط پذیر ہے۔اچھے اچھے اساتذہ مادیت کی ستم رانیوں اور قہر سامانیوں کے سامنے بے بس ہو کر حصولِ معاش کے دوسرے ذرائع و میادین کی تلاش میں ہیں۔کئی ایک باصلاحیت فارغینِ مدارس سول سروسز کے اعلی ترین امتحانات میں کامیابی حاصل کرکے دوسری جگہوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔اسی طرح فارغین مدارس کی ایک بڑی تعداد سرکاری ملازمتوں کے مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاریوں میں مصروف ہے۔فارغین کا جو گروپ نکل چکا ہے یا مستقبل میں نکلنے والا ہے،
مدارس کی زبوں حالی پر سب سے پہلے نظمائے مدارس کو غور و خوض کرنا چاہیے۔کیوں کہ جہاں وہ ان کے سرد و گرم کو جھیلتے ہیں،
مادیت کے اس دور میں یہ باتیں بڑی اہم اور حوصلہ بخش ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ ان باتوں کا انطباق مدرائے مدارس و جامعات پر بھی تو ہونا چاہیے۔انھیں بھی تو سلف صالحین کے زہد و تقشف کے سبق آموز واقعات سے نصیحت و عبرت حاصل کرنا چاہیے۔ایسا تو نہیں ہے کہ اخلاص اور قناعت پسندی کا باب صرف اساتذہ کے ساتھ خاص ہے۔مدرائے مدارس کو اللہ تعالی نے اس سے آزادی کا پروانہ عطا کر دیا ہے۔وہ شاہانہ طرز بود و باش سے محظوظ ہوں۔ایک سے بڑھ کر ایک لگژری گاڑیاں ان کے عالی شان محلوں کی چمچماتی ڈیوڑھیوں میں قطار در قطار کھڑی ہوں۔عیش و عشرت کا ہر سامان ان کے پاس میسر ہو۔ایک استاد کو پورے مہینے میں جتنی سیلری ملتی ہے،
صداقت ہو تو دل سینوں سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ
حقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی
تنخواہ کا معیار بلند کیا جائے:
ہر زمانے کا اپنا ایک خاص تقاضا ہوتا ہے۔مادیت کے اس زمانے کا تقاضا یہ ہے کہ ادنی سے ادنی استاد کی ماہانہ تنخواہ کم از کم ایک مزدور کی ماہانہ مزدوری کے برابر ہو۔ایک مزدور اگر ماہانہ بیس پچیس ہزار کما لیتا ہے تو ایک استاد کی تنخواہ کم از کم پچیس ہزار ضرور ہونا چاہیے۔لیکن ہماری حیرت اس وقت دو چند ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اب بھی ہم نے مکتب کے اساتذہ کو پانچ سے آٹھ اور مدارس کے اساتذہ کو لگ بھگ دس سے بیس کے درمیان محصور کر رکھا ہے۔مہنگائی کے اژدہے کا منہ دن بدن کشادہ ہوتا جارہا ہے،
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتاہے اعجازِ سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے
معیار تنخواہ کی گراوٹ ہی کا نتیجہ ہے کہ اچھے اچھے اساتذہ سے مدارس و جامعات اب دن بدن خالی ہوتے جارہے ہیں۔سابقہ سطور میں گزرا کہ اساتذہ مختلف میادین کا رخ کر رہے ہیں۔امسال فضلائے مدارس کی ایک معتد بہ تعداد کو سرکاری جاب ملی ہے۔ایک اچھی خاصی تعداد مختلف امتحانات کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ ذہنی انتشار کے ساتھ بھلا کون ہے جو فریضۂ تدریس سے کما حقہ عہدہ بر آ ہو سکے گا۔تدریس کے رخ زیبا کی آراستگی تو ایسے ہی اساتذہ کے ذریعے ممکن ہے جو فکر معاش سے بالکل آزاد ہو کر یکسوئی کے ساتھ طلبہ کو زیور تعلیم سے مزین کرنے میں منہمک ہوں۔
معیاری تعلیم کے لیے معیاری اساتذہ کی ضرورت ہے۔اور معیاری اساتذہ کے لیے آپ کو اچھی تنخواہوں کا انتظام کرنا پڑے گا۔کھوکھلے لفظوں سے اب کچھ نہیں ہونے والا۔اب وقت آگیا ہے کہ مدارس کے اساتذہ کو اس لائق بنایا جائے اور انھیں اتنا مضبوط بنایا جائے کہ طلبہ انھیں اپنا آئیڈیل سمجھنے اور ان کی طرح بننے میں فخر محسوس کریں۔دینی تعلیم کی ترغیب دینے اور مدارس میں معلمی کا پیشہ اختیار کرنے کی تلقین کرنے میں اساتذہ کے اندر کسی بھی طرح کی سبکی کا احساس پیدا نہ ہو۔اساتذہ کے بارے میں طلبہ کے ذہن کے کسی بھی گوشے میں یہ تصور بھی نہ پھٹک سکے کہ آپ نے کیا کر لیا ہے۔آپ نصیحت تو کر رہے ہیں لیکن آپ خود ژولیدہ خاطری کے شکار ہیں۔لہذا ہمیں اگر مدارس کے مستقبل کو تابناک اور اس کے معیارِ تعلیم کو مضبوط بنانا ہے تو اساتذہ کے معیارِ تنخواہ کو لا محالہ بلند کرنا ہی ہوگا۔تاکہ پڑھائی کے زمانے ہی سے ایک طالب علم کے اندر مدرسے کا معلم بننے کی خواہش ہو۔جب کسی معیاری مدرسے کا معلم بن جائے تو سر اٹھا کر وہ کہہ سکے کہ میں فلاں مدرسے کا معلم ہوں۔اسے بھی مبارک باد کا مستحق سمجھا جائے۔اس کے لیے بھی لیٹر پیڈ پر تہنیت نامہ لکھ کر نشر کیا جائے،
کوانٹٹی پر نہیں کوالٹی پر توجہ دیں:
عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہر مدرسے والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے ادارے میں باصلاحیت اساتذہ کی ایک بہت بڑی ٹیم ہے۔کبھی کبھار یہ بات کسی حد تک درست بھی ہوتی ہے۔لیکن بیشتر اوقات اس دعوے کا کھوکھلا پن بالکل ظاہر ہوتا ہے۔اس لیے کوانٹٹی سے زیادہ کوالٹی پر دھیان دینا چاہیے۔پچاس اساتذہ نہ رکھ کر آپ چالیس ہی رکھیں،
اساتذہ اپنے اندر اخلاص پیدا کریں:
دینی تعلیم کے حصول اور اس کی نشر و اشاعت کے لیے اخلاص نہایت ہی ضروری ہے۔اخلاص کے بغیر نہ علم میں برکت ہوگی اور نہ ہی اس کی نشر و اشاعت کے صحیح مواقع آپ کو میسر ہوں گے۔مشاہرے کی بڑھوتری کے لیے دانش مندانہ اقدام کرنا اور جائز طریقہ اختیار کرنا آپ کا بنیادی حق ہے۔آپ اپنے حقِ محنت کا مطالبہ کسی سبکی اور ذلت کے احساس کے بغیر سر اٹھا کر کیجیے۔جائز اور منافقت سے پاک راستہ اختیار کیجیے۔چاپلوسی اور ضمیر فروشانہ رویہ اختیار کرنا ایک معلم کے شایانِ شان ہر گز نہیں ہو سکتا۔ایک حقیقی معلم مر جانا گوارا کرے گا لیکن منافقت اور چاپلوسی کی ہوا کو بھی اپنے قریب سے گزرنے نہیں دے گا۔آپ کی تقرری اگر کہیں آپسی گفت و شنید کے بعد کسی مخصوص تنخواہ پر ہوگئی ہے اور آپ نے ذمہ داری قبول کر لی ہے،
بلا شبہ تعلیم و تدریس پیغمبرانہ مشن ہے۔اس مشن سے جڑنے کے لیے اخلاص اولین شرط ہے۔مادیت کی قہر سامانیوں کا مجھے اعتراف ہے۔لیکن انبیائی وراثت کا حقیقی وارث ہونا ہر کسی کے نصیب میں کہاں ہوتا ہے۔یہ عنایت اللہ تعالیٰ اپنے مخصوص بندوں پر ہی کرتا ہے۔اگر آپ کو اللہ تعالیٰ نے دینی علم کی نشر و اشاعت کے لیے منتخب کر لیا ہے تو آپ بڑے ہی خوش نصیب ہیں۔اخلاص کے ساتھ اس پیغمبرانہ مشن کی تکمیل اور دینی علوم و معارف کی نشر و اشاعت میں وہ لطف و سرور ہے جو دنیا کی بڑی سے بڑی جاب میں نہیں۔سچ کہا ہے علامہ اقبال رحمہ اللہ نے:
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں






