جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ہم کبھی داغ، کبھی میر پہ رو لیتے ہیں

کلام: فائز بلرامپوری18 فروری، 20241,738قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اپنی بربادی تقدیر پہ رو لیتے ہیں
زندگی ہم تری تصویر پہ رو لیتے ہیں
ہم تو ہر روز بناتے ہیں نئی تدبیریں
اور پھر ہر نئی تدبیر پہ رو لیتے ہیں
زندگی روز دکھاتی ہے کوئی خواب ہمیں
اور پھر خواب کی تعبیر پہ رو لیتے ہیں
توڑ سکتے ہیں سبھی طوق و سلاسل لیکن
ہم تو بس پاؤں کی زنجیر پہ رو لیتے ہیں
حادثہ یہ ہے کہ ہر شعر و سخن پر فائز
ہم کبھی داغ، کبھی میر پہ رو لیتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ہم کبھی داغ، کبھی میر پہ رو لیتے ہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر