اثرات و نتائج کا انحصار نیتوں پر ہوتا ہے۔نیتوں کے مطابق ہی پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں۔عوام الناس کی اصلاح مقصود ہو تو کتاب و سنت کی روشنی میں صحابہ کرام اور اسلاف عظام کا طرز عمل موجود ہے۔
ہر سماج میں علماء کرام کی طرح اصحاب ثروت بھی کم ہوتے ہیں۔پھر ان میں منتخب علماء اور کم ہوتے ہیں جو کتاب و سنت کی پیروی کرتے ہیں اور چنندہ اصحاب ثروت بھی کم ہی ہوتے ہیں جو ان علماء کرام کی قدر کرتے ہیں اور دین کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ان دونوں گروہوں کے باہمی تعاون سے ہمارے نبی ﷺ کا مشن نبوی طریقے پر کم ہی سہی ہمیشہ چلتا رہتا ہے۔
مگر علماء کرام کی اکثریت شہرت پسند اصحاب ثروت کی خوشنودی میں لگی رہتی ہے جس کی وجہ سے تبلیغ دین کے وہی طریقے رواج میں رہتے ہیں جو تقاضا کم نمائش زیادہ ہوتے ہیں۔اکثر علماء کرام اور بیشتر اصحاب ثروت کی ہوی پرستی کا یہی حتمی نتیجہ نکلتا ہے۔
اکثر اجلاس اور کانفرنسیں اسی گٹھ جوڑ سے عمل میں آتی ہیں۔
ہمارے سماج میں اصلاح کے تقاضے مختلف ہیں،
اصلاح کا آغاز علماء سے ہوگا،
نیت سے بہت فرق پڑتا ہے،
زیر نظر مضمون دعوت و تبلیغ کے مبارک عمل سے جڑے ایک عالم دین کی فکرمندی کا اظہار ہے،
اجلاس اور کانفرنسیں یقیناً دعوت وتبلیغ کا بہترین ذریعہ اور امر بالمعروف والنہی عن المنکر کی خوبصورت شکل ہیں۔یہ سماج و معاشرے کی اصلاح میں نہایت اہم رول ادا کرتے ہیں۔ایک سنجیدہ انسان ہرگز اس کا انکار نہیں کرے گا لیکن اصلاح و تربیت کے سلسلے میں تدریج ایک فطری اور بے حد ضروری چیز ہے۔
ایک روزہ اجلاس عام کے ذریعے تمام خامیوں کو یک لخت ختم کرنے کی کوشش وقت اور مال دونوں کا ضیاع ہے،
اصلاح و تربیت کا یہ نہایت ہی عجیب طریقہ ہے کہ سال بھر عوام کو ضلالت وگمراہی کے مہیب اندھیروں میں سسکنے دیا جائے،
جب تک اصلاح و تربیت کا کام تدریج و ترتیب سے انجام نہیں دیا جائے گا نتیجہ صفر ہی ہوگا۔شہروں کی مساجد میں ائمہ و خطباء درس ودروس کے ذریعہ بتدریج اصلاح کی کوشش کرتے ہیں اسی لیے شہروں میں دیہاتوں کی بنسبت دین داری زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے۔
آپ سدھارتھ نگر،
شہریوں کا دیکھا دیکھی گاؤوں میں بھی ایک موٹی رقم خرچ کرکے مہنگے مہنگے خطیب دستیاب کرلیے جاتے ہیں لیکن مساجد و مکاتب کے لیے علماء متعین کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔
یاد رکھیں محض اس طرح کی کانفرنسوں سے عوام کا کچھ بھی بننے بگڑنے والا نہیں۔واقعی اگر آپ سماج و معاشرے کی اصلاح کے لیے فکر مند ہیں تو سب سے پہلے مساجد و مکاتب کی اصلاح کیجیے۔
مکاتب میں اچھی تنخواہیں دے کر باصلاحیت اساتذہ کی تقرری کیجیے تاکہ وہ بچوں کو صحیح تعلیم وتربیت سے آراستہ کریں۔
اور اسی طرح مساجد کو مؤذن اور امام وخطیب فراہم کریں تاکہ وقت پر اذان کی صدائیں مساجد کے میناروں سے بلند ہوں،
اللہ ہمیں توفیق بخشے۔آمین






