رمضان رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔
رمضان بخشش و مغفرت کا مہینہ ہے۔
رمضان مہینہ ہے اپنے ایمان کو بڑھانے کا۔
رمضان مہینہ ہے تقویٰ کو پختہ کرنے کا۔
اپنی بگڑی رب کے حضور پیش کر کے سنوار لینے کا مہینہ ہے۔
اپنے روٹھے رب کو رو رو کر منا لینے کا مہینہ ہے۔
اس قدر مالدار مہینہ آخر کن لوگوں کے لیے ہے؟
یہ بخششیں کون حاصل کرپائے گا؟
سامانِ مغفرت کس کے دامن کی زینت بنے گی؟
کن لوگوں کے ایمان کی دولت میں اضافہ ہوگا؟
کن لوگوں کا تقویٰ پختہ ہوگا؟
آخر برکتیں کن لوگوں کے حق میں اتریں گی؟
رحمتوں کی بارش کیا سبھی پر ہوں گی؟
آخر وہ کون خوش نصیب لوگ ہیں جو اس مالدار مہینے کے سایوں تلے رحمتیں و برکتیں اور بخشش کا سامان لوٹ لیں گے!!!
کیا یہ سب کچھ ان لوگوں کے حصّے میں آئیں گی جو رمضان کی آمد ہوتے ہی اپنا روٹین تبدیل کر لیتے ہیں یا ان لوگوں کے لیے ہے جو بعد نمازِ فجر ظہر تک سوتے ہیں؟ یا پھر ان کے لیے جو سال بھر کبھی نہیں سونگھے جانے والے پکوان کو رمضان ہی میں دسترخوان پر سجاتے ہیں؟
یا پھر ان لوگوں کے لیے ماہِ رمضان کارآمد ہے جو بجائے روٹین بدلنے کے اپنے اعمال تبدیل کرتے ہیں؟
ظاہر ہے کہ بداعمالیوں کا تبادلہ نیک اعمال سے کرنے والوں کے لیے رمضان نعمتوں اور برکتوں،
چونکہ یہ دنیا عارضی ہے۔اس کا مقصد ہی ہے انسان کا امتحان۔۔۔اس دنیا میں جن لوگوں نے اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کا راستہ اختیار کیا وہی لوگ روزِ محشر سرفراز ہوں گے۔
اس مادّی دنیا میں رہتے ہوئے یہ پورا مقدمہ مان لینے میں لوگوں کو دشواریاں پیش آتی ہیں۔۔۔کیونکہ یہاں خدا نظر نہیں آتا،
اس کے لیے ہمیں اپنے نفس کا رخ ایمان۔۔۔یعنی ایمان بالغیب کی طرف موڑنا چاہیے۔۔۔جس کا ایمان غیب پر ہوگا اس کے لیے نفس کے خلاف جنگ آسان ہوگی۔
عموماً کسی بھی تعلیمی ادارے یا جاب کی درخواست کے لیے چند کاغذات جمع کرائے جاتے ہیں،
رمضان کے علاوہ بقیہ گیارہ مہینوں میں ہمیں نیکیوں کا اجر طے کردہ اجر کے مطابق ہی ملتا ہے۔مثلاً نفلی عبادات کا بدلہ نفل عبادت کے لحاظ سے ملتا ہے،
رمضان کا مقصد:
انسان،
چونکہ آخرت کی کامیابی اور اس کے لیے پاکیزگی کے حصول پر انسان کو متحرک کرنے والی سب سے بڑی چیز خدا کے حضور اس کی پکڑ کا اندیشہ ہے،
’’اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے،
مندرجہ بالا آیت اس امر کی صراحت کرتی ہے کہ رمضان کے نزول کا مقصد تقویٰ اختیار کرنا ہے۔
تقویٰ کیسے پیدا ہوتا ہے؟
قرآن کا نزول اسی مبارک مہینے میں ہوا جس کے سبب مسلمان تلاوتِ قرآن اسی ماہ میں بقیہ مہینوں کی نسبت کثرت سے کرتے ہیں۔رمضان میں قرآن کی بار بار تلاوت انسان کو جہنم کے عذاب اور اللہ کی پکڑ سے بے خوف نہیں رہنے دیتی۔دوسری طرف روزے میں کھانے پینے سے رکنا انسان کو نہ صرف پرہیزگاری کے آداب سکھاتا ہے بلکہ اسے اس مضبوط قوتِ ارادی سے آگاہ کرتا ہے جسے استعمال کرکے وہ ہر اخلاقی ناپاکی سے بچ سکتا ہے اور بے لگام نفس کو لگام دینے کی طاقت حاصل کرتا ہے جو ماہ رمضان کا سب سے ٹھوس مقصد ہے۔
قرآن کا نزول:
کوئی شک نہیں کہ ماہِ رمضان سرا سر برکت کا مہینہ ہے،
مگر افسوس صد افسوس کہ ہم نے قرآن کو فقط ختم کرنے کی حد تک محدود کر دیا ہے۔بےشک تلاوتِ قرآن ثواب کا کام ہے لیکن اسے صرف ثواب کی نیت سے نہیں پڑھنا ہے بلکہ اس کے مقصدِ نزول کو بھی سمجھنا ہے اور ہدایت بھی سمیٹنا ہے۔۔۔یہی قرآن کا حق ہے کہ اسے پڑھ کر،
رمضان کے ذریعے یہ مطلوب ہے کہ آدمی اسوۂ رسول ﷺ کے مطابق اس طرح قرآن کا قاری بنے کہ وہ قرآنی سانچے میں ڈھل کر خود ایک زندہ چلتا پھرتا قرآن بن جائے۔اس کا قول وعمل قرآنی تعلیمات پر مبنی ہو۔وہ قرآن کی ہدایات کے مطابق چلنے اور رکنے والا بن جائے۔وہ حقیقی معنوں میں متقی و خدا شناس بنے۔وہ تقویٰ اور اخلاق جیسے بلند ایمانی اور انسانی اقدار سے بہرہ ور ہوکر زندگی گزارنے والا بن جائے۔اس کا جینا اور مرنا خدائی ہدایات کے مطابق ہو اور یہی وہ خصوصیات ہیں جو انسان کو جنت کی طرف گامزن کرتی ہیں۔
رمضان کے ساتھ ہمارا رویہ:
رمضان ہم تک بھیجا گیا تاکہ ہم تقویٰ کی صفت پیدا کر سکیں۔۔۔لیکن ہم نے فقط بھوکے پیاسے رہنے ہی کو روزہ سمجھ لیا۔
یہ ہم تک بھیجا گیا تاکہ قرآن پر عمل کرنے کے لیے اسے پڑھیں،
ہمیں اس عظیم ماہ سے نوازا گیا۔۔۔مگر ہم نے اسے نت نئے پکوان کی نذر کر دیا۔
یہ ہم تک آیا۔۔۔تاکہ ہم راتوں کو رو رو کر خود سے روٹھے ہوئے رب کو منا لیتے،
ہمیں چاہیے کہ ہم اس ماہ میں صدقہ و خیرات جیسی موتیوں کے ذریعے اپنے نامۂ اعمال کو نیکیوں سے ایسے سجا لیتے جیسے اسکول اور کالج میں اپنے اسائنمنٹ اور پروجیکٹ کو سجایا کرتے تھے مگر۔۔۔۔ہم نے اسے دکھاوے اور نام و نمود کا سامان بنادیا اور ریاکاری جیسے گناہ میں ملوث ہو بیٹھے۔
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ ماہِ رمضاں توآئے مگر ہم نہ ہوں ... درحقیقت رمضان نہیں۔۔۔انسان ہے مہمان۔رمضان کی عظمت سمجھ کر اور اس کی آمد پر خود کی موجودگی کو غنیمت جان کر ان خودساختہ رسموں سے کنارہ کریں اور خود کو پرہیزگاری کا جامہ پہنا کر جہنم کی آگ سے چھٹکارا حاصل کریں۔بےشک تقویٰ و پرہیزگاری ہی جہنم سے بچنے کے لیے بہترین ڈھال ہیں۔






