میں نے 13 اپریل 2018 کو دوپہر کے وقت مولانا عبد الوہاب خلجی صاحب کے بیٹے جناب محمد کو فون کیا۔ان سے مولانا کے بارے میں دریافت کیا اور یہ جاننا چاہا کہ کیا وہ اب بھی اسپتال میں ہیں؟ انھوں نے بتایا کہ نہیں وہ اب گھر آ گئے ہیں۔میں نے پوچھا کیسے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ اچھے نہیں ہیں۔میں نے کہا کہ کیا میں کل دن میں گیارہ بجے آکر مولانا سے مل سکتا ہوں یا ان کو دیکھ سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا کہ ہاں ہاں کیوں نہیں۔آپ ضرور آئیے۔میں اسی روز جانا چاہتا تھا لیکن اس روز دہلی اردو اکادمی کے دفتر میں ایک اہم میٹنگ تھی جس میں میری حاضری ضروری تھی،
یہ معلوم ہو جانے پر کہ اگلی صبح دس بجے ان کی تدفین ہے اور نماز جنازہ وہیں دریا گنج کے پٹودی ہاو س ہی میں واقع اونچی مسجد کے زیر سایہ ادا کی جائے گی،
خلجی صاحب ادھر کافی دنوں سے صاحب فراش تھے۔شوگر لیول بہت بڑھ گیا تھا۔دل کا بھی عارضہ تھا اور فالج نے بھی حملہ کر دیا تھا۔30 مارچ کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک پروگرام کے بعد جب میں دہلی کے سرکردہ وکیل اور جماعت اہلحدیث کے ایک اہم فرد جناب فیروز غازی ایڈوکیٹ کے ساتھ نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد باہر نکلنے لگا تو وہیں شعبہ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ میں استاد ڈاکٹر جنید حارث صاحب مل گئے۔انھوں نے کہا کہ میں آپ کو آپ کے گھر تک چھوڑ دیتا ہوں۔لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ نہیں مانے۔ان کی گاڑی سے میں ذاکر نگر تک آیا۔مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔لیکن سوئے اتفاق خلجی صاحب کی کوئی بات نہیں آئی۔دو روز کے بعد ایک اخبار میں خلجی صاحب کی خبر مع تصویر شائع ہوئی۔جس سے معلوم ہوا کہ انھیں گوڑ گاو ں کے آرٹیمس اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔اس سے قبل انھیں دہلی گیٹ پر واقع جی بی پنت اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔لیکن وہاں کوئی افاقہ نہیں ہو رہا تھا۔تصویر میں ڈاکٹر جنید حارث بھی تھے۔میں نے ان کو فون کیا۔انھوں نے بتایا کہ وہی ان کو گوڑ گاو ں کے اسپتال میں داخل کرکے آئے ہیں اور اب پھر دیکھنے جائیں گے۔میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ جب بھی جائیں تو مجھے ضرور لے چلیں۔اتفاق دیکھیے کہ ڈاکٹر جنید حارث ہی ان کی تدفین میں شریک نہیں ہو سکے۔
ہوا یوں کہ انہی تاریخوں میں مولانا مطیع الرحمان صاحب کے ادارے توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ کشن گنج بہار کے تحت وہاں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے تعاون سے12 اور13 اپریل کو دو روزہ بین الاقوامی سمینار منعقد ہو رہا تھا۔جس میں شیخ صلاح الدین مقبول احمد اور ڈاکٹر جنید حارث سمیت متعدد علما و ادبی شخصیات شریک ہو رہی تھیں۔(اسی موقع پر اردو کونسل کی جانب سے وہاں 7 سے 15 اپریل تک ایک کتاب میلہ بھی لگا تھا۔)شیخ صلاح الدین صاحب کا پہلے سے واپسی کا پروگرام تھا اس لیے وہ تدفین میں پہنچ گئے تھے۔یہاں یہ ذکر غیر مناسب نہیں ہوگا کہ آرٹیمس اسپتال کے اخراجات کا انتظام مولانا مطیع الرحمن صاحب نے کیا تھا۔
مولانا عبد الوہاب خلجی صاحب سے میرے تعلقات اسی وقت سے تھے جب میں مستقل طور پر دہلی آگیا تھا۔اردو بازار جامع مسجد پر واقع جمعیت اہلحدیث کے دفتر جمعیت منزل میں ہماری خاصی آمد و رفت تھی۔ایک تو جماعتی وابستگی اور دوسرے ہمارے علاقے کے ایک عالم دین مولانا ابوالوفا صاحب کی جمعیت میں بحیثیت داعی تقرری۔وہ جمعیت منزل کے ایک کمرے میں رہائش پذیر تھے۔میں ان سے ملنے جایا کرتا تھا۔یہ غالباً 1990 ءکی بات ہے۔خلجی صاحب جمعیت اہلحدیث کے ناظم عمومی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔اب یہ تو یاد نہیں کہ کس نے ان سے ملاقات کرائی تھی لیکن ان کے دفتر میں ہونے والی پہلی ملاقات آج تک ذہن کے پردے پر نقش ہے۔ملاقات کرانے والے نے ہم لوگوں کی جماعتی وابستگی کے بارے میں تو بتایا ہی،
انھیں جب اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ میں اردو کا صحافی ہوں تو وہ بہت خوش ہوئے اور انھوں نے یہ خواہش ظاہر کی میں ‘‘جریدہ ترجمان’’ میں مستقل لکھا کروں۔اس وقت اس کے ایڈیٹر سینئر صحافی جناب سلیمان صابر صاحب تھے۔وہ روزنامہ قومی آواز سے سبکدوش ہو چکے تھے اور ترجمان کی ادارتی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔خلجی صاحب نے ایک طرح سے مجھے حکم دیا کہ میں ہر شمارے میں لکھوں۔اس وقت ترجمان میں ایک مستقل کالم ‘‘آئینہ ایام’’ شائع ہوتا تھا جسے سلیمان صابر صاحب لکھا کرتے تھے۔خلجی صاحب نے ان سے کہا کہ اب یہ کالم سہیل انجم لکھیں گے۔میں نے وہ کالم شروع کر دیا۔خلجی صاحب نے میرے پہلے کالم پر ایک بہت اہم نوٹ نگایا اور میرے بارے میں لکھا کہ یہ جماعت کے ایک نوجوان صحافی ہیں اور اب یہ کالم یہی لکھا کریں گے۔انھوں نے اس نوٹ کے ذریعے میری بڑی قدرافزائی کی۔میں نے کافی دنوں تک لکھا۔لیکن چونکہ اس وقت میں نیا نیا صحافت کے میدان میں آیا تھا اس لیے میری تحریر بڑی ناپختہ تھی۔یہ الگ بات ہے کہ ہر نئے صحافی کی مانند میں بھی خود کو صحافت کا طرم خاں سمجھتا تھا۔چند کالموں کے بعد سلیمان صابر صاحب نے بوقت ضرورت قلم چلانا اور ایڈٹ کرنا شروع کر دیا۔کوئی ایکادھ کالم شائع بھی نہیں ہوا۔بس اسی بات پر میں نے کالم بند کر دیا۔بعد میں صحافتی تجربات سے اندازہ ہوا کہ اس قسم کی تراش خراش مضمون کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہوتی ہے اور یہ کوئی ضروری نہیں کہ کسی کی ہر تحریر شائع ہی ہو۔اخبارات کی بہت سی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔لیکن میری ناتجربہ کاری کی وجہ سے سلیمان صابر صاحب کی یہ ادا مجھے پسند نہیں آئی۔جب کئی شمارے میں میرا کالم نہیں چھپا تو ایک ملاقات میں خلجی صاحب نے پوچھ لیا۔میں خاموش تھا۔کیا جواب دیتا۔انھوں نے از راہ شکایت یہ بات کہی اور بجا طور پر کہی کہ جناب ہم نے آپ کے بارے میں اتنا اچھا نوٹ لگایا تھا اور آپ نے لکھنا بند کر دیا۔بات آئی گئی ہو گئی۔کچھ دنوں کے بعد سلیمان صابر صاحب کا بھی انتقال ہو گیا اور مولانا ابوالوفا صاحب کو بھی فارغ کردیا گیا۔ویسے جریدہ ترجمان کو میں پہلے سے ہی پسند کرتا تھا اور اس کی وجہ اس کے سابق مدیر جناب بدر عظیم آبادی کا اداریہ تھا۔ان کا انداز بہت شگفتہ تھا۔مجھے ان کا اداریہ بہت پسند تھا۔اس وقت بھی میں جمعیت منزل جایا کرتا تھا۔مولانا عزیز عمر سلفی صاحب کے ساتھ میں جامعہ نگر کے غفور نگر میں واقع ان کی رہائش گاہ بھی جا چکا تھا۔
خلجی صاحب نے ان دنوں موری گیٹ پر ‘‘دار العلمیہ’’ نام سے ایک اشاعتی ادارہ قائم کیا تھا۔لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکا اور بعد میں انھیں اسے بند کر دینا پڑا۔پھر ان کو جمعیت کی نظامت سے سبکدوش کر دیا گیا۔ماہنامہ نوئے اسلام کے مئی 2018 کے شمارے میں شائع مولانا عزیز عمر سلفی کے اداریہ کے مطابق خلجی صاحب کو 1987 میں قائم مقام ناظم اعلیٰ بنایا گیا تھا۔1990 میں انھیں ناظم عمومی بنایا گیا۔‘‘اس طرح خلجی صاحب کے پاس جمعیت کی نظامت اور دفتر میں مستقل قیام کی مدت 17 سال رہی’’۔ان کے دور نظامت میں ‘‘حرمت حرمین کنونشن’’ کا انعقاد کیا گیا اور حفظ قرآن و احادیث کے مسابقے شروع ہوئے۔
رفتہ رفتہ خلجی صاحب سے میری ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھتا گیا۔پہلے وہ بلی ماران میں رہتے تھے۔میں وہاں بھی جاتا رہا۔انہی دنوں انھوں نے دریا گنج کے پٹودی ہاوس میں ایک فلیٹ لے لیا۔اس وقت میں سابق ایم پی و سابق سفارتکار جناب م۔افضل صاحب کے اخبار ‘‘اخبار نو’’ سے جزوی طور رپر وابستہ تھا۔اس کا دفتر بھی وہیں پٹودی ہاوس آ گیا تھا۔لہٰذا خلجی صاحب سے ملاقاتیں تواتر سے ہونے لگیں۔میں اسی علاقے میں واقع ‘‘چھوٹی مسجد’’ میں ظہر کی نماز ادا کرتا تھا۔ایک روز خلجی صاحب بھی اسی مسجد میں مل گئے۔کہنے لگے کہ چونکہ اس میں پون بجے نماز ظہر ہوتی ہے اس لیے میں اسی میں پڑھتا ہوں۔وہ مجھے اپنے گھر لے گئے۔چائے وغیرہ تواضع کی اور آتے رہنے کی ہدایت دی۔
جب بھی اخبار نو میں میرے پاس وقت ہوتا میں ان کو فون کرتا۔اگر وہ گھر پر ہوتے تو ان سے ملنے چلا جاتا۔ہمارے ایک مشترکہ دوست مولانا عبد اللہ مدنی جھنڈا نگری جب دہلی آتے تو عموماً ان کے گھر ہی قیام کرتے۔وہ جب وہاں قیام کرتے تو میں بھی جاتا اور پھر گھنٹوں گفتگو کا سلسلہ رہتا۔دوپہر کے وقت کھانا بھی وہیں کھایا جاتا۔اخبار نو کے مینیجنگ ایڈیٹر اور میرے کرم فرما جناب مودود صدیقی صاحب کو جب خلجی صاحب سے میرے تعلقات کا علم ہوا تو انھوں نے کہا کہ وہ ان سے ملنا چاہتے ہیں۔میں ایک روز ان کو لے کر ان کے گھر گیا۔کافی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ایک بار مولانا عبد اللہ مدنی صاحب بیمار پڑ گئے۔وہ بھی عارضہ قلب اور شوگر کی زیادتی میں مبتلا تھے۔غالباً گوڑ گاو ں سے علاج کراکے واپس آئے اور خلجی صاحب کے گھر انھوں نے قیام کیا۔مجھے فون کیا اور میں اگلی صبح وہاں پہنچ گیا۔
ایسے مواقع بار بار آتے رہے۔میری کوئی نئی کتاب آتی تو مجھے ان کے گھر جانے کا ایک بہانہ مل جاتا۔ہمارے چھوٹے بھائی ڈاکٹر شمس کمال انجم کی ہمارے والد صاحب پر کتاب ‘‘نقوش جاوداں’’ اور پھر میری کتاب ‘‘انجم تاباں’’ آئی تو میں نے یہ دونوں کتابیں ان کی خدمت میں پیش کیں۔نقوش جاوداں ختم کرنے کے بعد انھوں نے شمس کمال کو فون کیا اور بتایا کہ میں نے آپ کی کتاب پوری پڑھ لی ہے۔ان دونوں کتابوں سے انھیں ہمارے والد کے بارے میں خاصی معلومات ہوئیں۔مولانا عبد اللہ مدنی صاحب سے ہمارے گھریلو مراسم رہے ہیں۔انھوں نے بھی ہمارے والد صاحب کی جماعتی خدمات کے بارے میں ان کو بہت کچھ بتایا۔پھر وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرنے لگے تھے۔اکثر کہتے کہ اپنے بچوں کو لے کر آو۔ہمارے بچے ان سے مل کر بہت خوش ہوں گے۔لیکن اس کا کوئی اتفاق ہی نہیں ہو سکا۔حالانکہ وہ اپنی تقریبات میں مجھے بھی بلایا کرتے تھے۔2017ءمیں جب عالمی یوم اردو کی جانب سے ہمارے والد پر خصوصی مجلہ شائع کیا گیا اور پھر اس سے قبل 2015ءمیں جب شیخ الاسلام مولانا ثناءاللہ امرتسری پر مجلہ شائع ہوا تو ان دونوں کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے تھے۔چونکہ امرتسری اور ان کا ایک ہی صوبے سے تعلق تھا اس لیے انھوں نے امرتسری پر خصوصی مجلے کو کافی پسند کیا۔بزرگ صحافی محفوظ الرحمن صاحب کا انتقال ہوا تو میرے پاس ان کا فون آیا۔انھوں نے کہا کہ میں محفوظ صاحب کو تو پڑھتا رہا ہوں البتہ ان سے میری ملاقات نہیں تھی۔ان کے انتقال سے مجھے بڑا صدمہ پہنچا ہے۔انھوں نے تدفین وغیرہ کے بارے میں پوچھا اور پھر تراہا بہرام خاں کی اس مسجد میں آئے جہاں نماز جنازہ ہونی تھی۔اتفاق سے انھوں نے ہی نماز جنازہ پڑھائی۔
مولانا عبد اللہ مدنی صاحب جھنڈا نگر نیپال میں اپنے ادارے میں سال میں کئی کئی پروگرام منعقد کرتے تھے۔وہ اپنے تمام دوستوں کو،
میں نے اوپر ان کے اشاعتی ادارے دار العلمیہ کا ذکر کیا ہے۔مولانا اس ادارے کے تحت ہر سال ایک ڈائری ‘‘لیل و نہار’’ شائع کرتے تھے۔انھوں نے 2010ءکی ڈائری مجھے دی اور اس پر کچھ لکھنے کی خواہش ظاہر کی۔میں نے اس پر تبصرہ لکھا جسے میں نے کئی اخباروں میں چھپوایا تھا۔میں نے اس میں لکھا تھا:
”یہ ڈائری عام روش سے الگ ہٹ کرہے اور اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ اسے مکمل طور پر ایک اسلامی ڈائری بلکہ ڈائرکٹری بنا دیا جائے۔مثال کے طور پر اس میں قرآن کریم سے متعلق چند اہم معلومات،
دارالعلمیہ کے زیر اہتمام شائع ہونے والی ڈائریوں پر مقتدر شخصیات وقتاً فوقتاً اظہار خیال بھی کرتی رہی ہیں۔ان کی مختصر آراءبھی اس ڈائری میں موجود تھیں۔اہم شخصیات میں مولانا عبد الروف رحمانی مرحوم،
ایک تو جھجک کی وجہ سے اور دوسرے یہ سوچ کر کہ پتا نہیں ان کی طبیعت کیسی ہے،
خلجی صاحب کے اندر مسلکی غیرت و حمیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔یہاں تک کہ ایک بار دار العلوم دیوبند میں قیام کے دوران کسی نے کوئی ایسی بات کہہ دی جو ان کی مسلکی غیرت کے لیے تازیانہ تھی۔انھوں نے وہیں دنداں شکن جواب دیا۔یہ واقعہ انھوں نے خود مجھے بتایا تھا۔ایک بار ایک ملی تنظیم کی جانب سے منعقدہ کانفرنس میں جماعت اہلحدیث کے خلاف کچھ نکات عمداً زیر بحث لائے گئے تھے۔کانفرنس کے بعد مولانا خلجی نے ‘‘اتحاد بین المسالک’’ نام سے ایک کتابچہ شائع کیا۔ان کے اندر مسلکی تعصب کا شائبہ تک نہیں تھا۔اس تعلق سے ان کا کردار مولانا ثناءاللہ امرتسری جیسا تھا۔سب کے ساتھ دوستانہ و خیرسگالانہ مراسم۔یہی وجہ ہے کہ وہ دوسرے مسلک کے لوگوں میں بھی مقبول تھے۔ان کے مسلکی توسع اور ان کی بلند و بالا شخصیت کی وجہ سے ہی ڈاکٹر محمد منظور عالم نے ان کو آل انڈیا ملی کونسل میں باوقار جگہ دی تھی۔وہ کئی حیثیتوں سے ملی کونسل میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔وہ تازندگی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ میں جماعت اہلحدیث کی نمائندگی کرتے رہے۔انھوں نے مسلم مجلس مشاورت اور دیگر ملی تنظیموں میں بھی خدمات انجام دیں۔وہ جامعہ سلفیہ بنارس کی مجلس منتظمہ میں رہے۔وہ عالمی اسلامی کونسل لندن اور اسلامک ایشین کونسل سری لنکا سے بھی منسلک رہے۔سیاسی شخصیات سے بھی ان کے دوستانہ مراسم رہے ہیں۔پاکستان میں متعدد علمی شخصیات سے ان کی دوستی رہی ہے۔جب بھی وہاں سے ان کا کوئی دوست دہلی آتا تو وہ اس کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کرتے اور اس میں خاکسار کو بھی مدعو کرتے۔انھیں مذہبی،
ادھر کچھ برسوں سے وہ بیمار رہنے لگے تھے۔کافی کمزور ہو گئے تھے۔پروگراموں میں بہت کم جاتے۔ایک طرح سے وہ مایوسی کے بھی شکار تھے۔ان کا اشاعتی ادارہ کافی پہلے ناکامی سے دوچار ہو کر بند ہو چکا تھا۔کہیں آنے جانے میں کچھ نہ کچھ تو صرف ہوتا ہی ہے۔اس کا احساس مجھے ایک بار بڑی شدت سے ہوا تھا جس کی تفصیل میں جانا ضروری نہیں۔ان پر جمعیت میں مالی بدعنوانی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔لیکن مجھے بڑی حیرت ہے کہ انھوں نے کیسی مالی بدعنوانی کی تھی کہ نظامت کا تاج چھنتے ہی تنگ دستی کے شکار ہو گئے۔امور مملکت خویش خسرواں دانند! لیکن انتہائی سخت حالات کے باوجود انھوں نے اپنی دستار غیرت سنبھالے رکھی۔ان کے حقیقی حالات کا علم بہت کم لوگوں کو تھا۔انھوں نے کبھی کسی کے سامنے اپنے حالات واشگاف نہیں کیے۔
مقام افسوس ہے کہ جماعت کی اتنی بڑی اور مقتدر شخصیت ہمارے درمیان سے اٹھ گئی اور ہمیں اس کا احساس ہی نہیں ہے کہ ہم نے کیا کھو دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دوسرے مکاتب فکر کے درمیان جماعت اہلحدیث کا ایک نمائندہ اور ایک سفیر جماعت اپنی نشست خالی کرکے چلا گیا۔کوئی دوسرا ایسا نظر نہیں آتا جو اس نشست کو پُر کرنے کا اہل ہو۔ان کے انتقال کے بعد ان کی یاد میں کوئی پروگرام بھی منعقد نہیں کیا گیا۔اپنی جماعت کا یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ بڑے لوگوں کے بھی اٹھ جانے کے بعد ان کو یاد کرنے کی کوئی روایت نہیں ہے۔اگر کوئی کچھ سمینار یا تعزیتی نشست کرنا بھی چاہے تو اسے بدعت کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔اپنے اسلاف کی بے قدری کا یہ عالم جماعت کی بے سی پر ماتم کناں ہے۔خلجی صاحب کے انتقال کے آس پاس ہی تین مزید شخصیات دنیا سے اٹھ گئیں۔مولانا محمد سالم قاسمی،





