جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

خود تراشیدہ در و بام سے ڈر جاتا ہوں

کلام: حمود حسن مبارکپوری31 مئی، 20241,380قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
خود تراشیدہ در و بام سے ڈر جاتا ہوں
اپنے ہاتھوں کو دیے کام سے ڈر جاتا ہوں
بند کمرے کی اداسی ہے مسلط مجھ پر
شور کی وحشت بے نام سے ڈر جاتا ہوں
عشرتیں دل کی اگرچہ ہیں سحرکار بہت
ترک آگاہئ انجام سے ڈر جاتا ہوں
مقتل عمر خیالوں میں گزر جائے اگر
بین کرتے ہوئے ایام سے ڈر جاتا ہوں
غیر مانوس ہوئی جاتی ہے دل کی دھڑکن
سعئ بے سود غم خام سے ڈر جاتا ہوں
رقص مرصاد اجل کہیے یا انفاس جنوں
عشق کے کام کے دو نام سے ڈر جاتا ہوں
پیشتر خواب سے تعبیر نظر آتی ہے
وجد بیتابئ اوہام سے ڈر جاتا ہوں
محور جبر تنفس پہ اگر زور نہیں
کیوں شب و روز کے ہنگام سے ڈر جاتا ہوں
دل کو کافی نہ ہوا حلقۂ فتراک جنوں
اور میں دھاگا نما شام سے ڈر جاتا ہوں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

خود تراشیدہ در و بام سے ڈر جاتا ہوں - دی فری لانسر | دی فری لانسر