طبیعت میں لاابالی پن ہو تو بندہ دنیا میں ہر بھلائی سے محروم رہتا ہے،
تعلیم و تعلم میں اسی مقصد کو مد نظر رکھ کر درس گاہوں کے نصاب،
اس کے مظاہر جابجا بکھرے دکھائی دیتے ہیں۔مدینہ جیسے مبارک شہر میں،
جب کہ کچھ طلبہ اپنے والدین،
ڈاکٹر وسیم المحمدی صاحب نے اپنے اس مضمون میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے ایک پی ایچ ڈی اور دو ایم اے ہولڈر کے مناقشے کا آنکھوں دیکھا حال لکھا ہے۔تیسرے تذکرے میں جو تفصیل ہے اس میں تشویق کا کافی سامان موجودہے۔جد و جہد کے اسی تسلسل کو بڑی دقت مشاہدہ سے بیان کیا گیا ہے جو قاری کو ایک نئے واتاورن میں لے جاتا ہے۔
ایسی مجلسوں تک،
مدینہ منورہ سے جو قلبی تعلق ہے اسے الفاظ کا جامہ پہنانا ممکن نہیں ہے۔ایک محبت ہے جو رگوں میں خون بن کر دوڑتی ہے۔حرم نبوی کی زیارتیں،
مدینہ منورہ میں ایک لمبی مدت گزارنے کے بعد اس سے دور ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے۔بسا اوقات یہ زندگی کا مشکل ترین امر ثابت ہوتا ہے۔اس فراق کا الم اور اس فرقت کی شدت صحیح معنوں میں وہی محسوس کر سکتے ہیں جو اس کرب ناک مرحلہ سے گزرے ہیں۔
ایک لمبی مدت گزارنے کے بعد مدینہ چھوٹنے کا احساس،
فی الحال میرا قیام مدینہ منورہ سے تقریبا چار سو کیلو میٹر دور ہے۔تاہم جب بھی موقع ملتا ہے اس کی زیارت سے شرف یاب ہونے سے نہیں چوکتا۔بس بہانہ ہاتھ لگا کہ رخت سفر باندھ لیا۔وہاں کے چند دنوں کا قیام اور اساتذہ و احباب سے ملاقات روح افزا ثابت ہوتی ہے اور اس کا اثر کئی دنوں تک باقی رہتا ہے۔طبیعت میں ایک نشاط پیدا ہوجاتی ہے اور تعلیم وتعلم کی طرف میلان بڑھ جاتا ہے۔
تعلیمی زندگی میں مدینہ یونیورسٹی کے وہ تعلیمی مشغولیات جن سے ہم طلبہ فل انجوائے کیا کرتے تھے ان میں ایک اہم چیز ایم اے اور پی ایچ ڈی کے مناقشات میں حاضری ہوتی تھی۔مشرف اور مناقش اچھے ہوں اور طالب علم لائق تو یہ علمی مناقشات شاندار علمی مجالس میں تبدیل ہوجاتے تھے۔ان مجالس سے وہ علمی فوائد حاصل ہوتے تھے جنھیں کئی دن کی محنت یا کئی کتابوں کے مطالعےسے حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔
ایک تو علمی مجلس کی برکتیں،
ان علمی مناقشات میں بسا اوقات سعودی عرب کے مشاہیر اورکبار علماء شریک ہوتے تھے۔جب کبھی ایسا ہوتا تھا تو علم دوست طلبہ بنا تخصص کی رعایت کیے حاضر ہوتے اور خوب خوب فائدہ اٹھاتے۔ایسے مناقشات عموما جامعہ کے سینٹرل ہال میں رکھے جاتے تھے۔پھر بھی کبھی کبھی اس قدر بھیڑ ہوجاتی تھی کہ مناقشہ ہال بھر جاتا تھا اور جگہ نہیں مل پاتی تھی۔
امسال عید الفطر کے بعد سے کچھ ایسے ظروف بنتے گئے کہ تقریبا ہر ہفتہ مدینہ کے سفر سے شرف یاب ہونے کا موقع ملا۔یہ سلسلہ مئی کے اواخر تک جاری رہا۔
مئی کے منتصف میں کچھ ایسا اتفاق ہوا کہ تین فاضل ہندوستانی طلبہ کے علمی مناقشات طے پاگئے۔کچھ نہایت اہم کاز اور ان مناقشات میں حاضری کی خواہش ایک بار پھر مدینہ کھینچ لے گئی۔ان تینوں مناقشوں میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی اور طالب علمی کا وہ دور یاد آگیا جب اس طرح کے علمی مناقشات میں باقاعدہ پلان کے ساتھ علم دوست احباب کی معیت میں حاضر ہوتے تھے۔
جامعہ سلفیہ کے فاضل فارغ التحصیل امیر الاسلام بحر الحق کا مناقشہ 16/ مئی بروز جمعرات کی صبح کو ہوا۔آپ ایک شریف اور سنجیدہ طالب علم ہیں۔کم گوئی آپ کا امتیاز ہے۔جامعہ اسلامیہ میں آپ کلیۃ الحدیث الشریف کے ممتاز طالب علم ہیں۔آپ نے پی ایچ ڈی کی ڈگرى کے حصول کے لیے ابن حجر رحمہ اللہ کی مایہ ناز کتاب اور صحیح بخاری کی سب سے مشہور اور مکمل شرح فتح الباری کے ایک جزء کا تحقیق و دراسہ کیا تھا۔ایک بہترین علمی مناقشہ کے بعد آپ کو ممتاز نمبرات سے پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی۔
جامعہ سلفیہ ہی کے فارغ التحصیل اسامہ فخر الدین کا مناقشہ 15/مئی بروز بدھ کی شام کو ہوا۔آپ ایک با وقار،
جامعہ سلفیہ سے فارغ التحصیل یہ دونوں طالب علم نہ صرف علم کے تئیں سنجیدہ ذہن اور اس کے حصول کی خاطر جدو جہد سے بھرپور مزاج رکھتے ہیں بلکہ ان کا شاندار تعلیمی ریکارڈ اور تعلیم وتعلم کے تئیں ان کی مثبت سوچ یہ درشاتی ہے کہ اس میدان میں یہ ایک ویژن اور ہدف رکھتے ہیں۔
ایسے سنجیدہ اور محنتی طلبہ کسی بھی یونیورسٹی کی شان اور کسی بھی کالج کی آن بان ہوتے ہیں۔یہی طلبہ آگے چل کر اپنے تعلیمی اداروں کے اہداف کو پورا کرنے میں مدد کرتے اور ان کے مقاصد کی تکمیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
ذاتی طور سے میں ان دونوں طلبہ اور تعلیم وتعلم کے تئیں ان کی سنجیدگی کو اچھی طرح جانتا ہوں۔اللہ تعالى کی توفیق شامل حال رہی،
15؍مئی بروز بدھ کی صبح آٹھ بجے عزیزم محمد اسلم کا ایم اے کا مناقشہ ہوا۔عزیزم ہمارے چھوٹے بھائی ہیں۔بھائی بہنوں میں سے سب چھوٹے ہونے کی وجہ سے سب کے چہیتے اور لاڈلے بھی ہیں۔
عزیزم کا تعلیمی مرحلہ بہت ہی صبر آزما اور آزمائش سے بھرپور رہا ہے۔تعلیم کے حصول کے لیے انھوں نے کئی اداروں کی خاک چھانی۔گاؤں کے مکتب کے بعد،
جب انھوں نے جماعت ثالثہ پڑھ لی تو میں نے شعبہ حفظ میں داخلہ لینے کو کہا۔جب قرآن کریم کا حفظ مکمل ہوگیا تو پھر رابعہ میں آگئے۔مگر پھر تعلیم کے تئیں ان کی بے دلی اور زہد ہماری پریشانیاں بڑھانے لگیں اور ہم ان کے تعلیمی کیرئر کے تئیں ہم وغم کا شکار ہونے لگے۔
ایک وقت ایسا بھی آیا جب گھر کے لوگ مایوس ہونے لگے کہ شاید ان کی تعلیم مکمل نہ ہوسکے۔مگر والد صاحب بڑے الگ قسم کے انسان تھے۔اللہ پر ان کا بھروسہ بہت اعلى قسم کا تھا۔اللہ تعالى پر اس قدر توکل اور اس کی ذات سے اس قدر حسن ظن ہمارے نصیبے میں بالکل نہیں آیا۔سخت سے سخت مایوسی کےعالم میں بھی وہ پر امید رہتے۔اس مایوسی کی کیفیت میں بھی وہ ہمیں سمجھاتے۔ہمت دلاتے اور ہر صورت عزیزم کی تعلیم مکمل کروانے پر زور دیتے۔
ایک وقت ایسا بھی آیا جب عزیزم کے تعلیم کے تئیں ہم اس قدر ٹینشن کے شکار تھے کہ میرا کوئی عمرہ ایسا نہیں جاتا تھا جس کے طواف میں میں خصوصی طور سے عزیزم کی تعلیمی زندگی میں کامیابی کے لیےاللہ تعالى سے دعا نہ کروں۔
واقعی اللہ کا فضل بہت بڑا اور اس کی رحمت وسیع تر ہے۔جامعہ محمدیہ سے رخصت ہوکر یہ جامعہ رحمانیہ کاندیولی آئے۔پھر کبھی کوئی شکایت نہیں رہی۔عزیزم نے وہاں بھرپور محنت کی۔الحمد للہ ممتاز نمبر اور اول پوزیشن سے وہاں سے فراغت حاصل کرکے نکلے۔
پھر اللہ تعالى کا خصوصی جو فضل شروع ہوا تو کبھی رکا نہیں۔جامعہ رحمانیہ کاندیولی سے فراغت کے بعد فوراجامعہ اسلامیہ میں داخلہ کا شرف مل گیا جہاں آپ نے کلیہ الدعوہ کا انتخاب کیا۔فی الحال آپ نے اسی کلیہ کے قسم الدعوۃ والثقافہ الاسلامیہ سے ایم اے مکمل کیا ہے۔
ایک وہ دن تھے جب ہم ہندوستانی مدارس میں عزیزم کے تعلیم کے تئیں اس قدر پریشان تھے۔ایک یہ دن ہے جب انھوں نے نہ صرف جامعہ اسلامیہ جیسی عظیم درسگاہ سے ایم اے مکمل کر لیا ہے بلکہ اللہ تعالى کے خصوصی فضل سے پی ایچ ڈی میں داخلہ بھی مل گیا ہے۔
والدین کے لیے بھلا اس سے بڑی خوشى اور خوش نصیبی کیا ہو سکتی ہے کہ ان کے دو دو بیٹے قرآن کریم حفظ کریں اورجامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ جیسی عظیم درسگاہ سے پی ایچ ڈی بھی کریں۔بلا شبہ ان کامیابیوں میں ان کی بے انتہا محنت،
بدقسمتی سے ہمارے والدین آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔کورونا کے آخری ایام میں والد صاحب ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔اس جانکاہ حادثہ کے تقریبا ایک ہی سال بعد والدہ بھی ان سے جا ملیں۔رب ارحمہما کما ربیانی صغیرا۔اللہ تعالى ان کی قبروں کو نور سے بھر دے۔ان کی بال بال مغفرت فرمائے اور بلا حساب و بلا عذاب انھیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔آمین
آج وہ زندہ ہوتے تو ان کی خوشی کا کچھ اور ہی عالم ہوتا۔اللہ کے اس بے پناہ فضل وکرم کو دیکھ کر بلا شبہ وہ سب سے زیادہ خوش ہوتے۔مگر قدّر اللہ وما شاء فعل۔اللہم إنا نعوذ بک من زوال نعمتک،
ایم اے کے حصول کے لیے آپ نے ایک الگ قسم کا موضوع منتخب کیا تھا۔جماعت اہل حدیث ہند کے دعوتی جہود کا تعارف کرانے کے لیے آپ نے جماعت کے چند مشہور مجلات کا دراسہ وتحلیل کیا اور ان مجلات میں شائع ہونے والے مضامین ومقالات کا تحلیلی دراسہ کرکے یہ واضح کیا کہ جماعت کے اہل قلم علماء نے اپنی تحریروں کے ذریعے کس طرح دعوتی معرکے سر کیے ہیں۔اس کاز کے لیے آپ نے جماعت کے پانچ مشہور مجلات (ترجمان اہل حدیث،
آپ کا علمی مناقشہ کئی اعتبار سے یادگار رہا۔صبح آٹھ بجے یہ مناقشہ شروع ہوا اور تقریبا دس بجے اپنے اختتام کو پہنچا۔بحث کے تئیں دونوں مناقشین نے اپنے آراء کا کھل کر اظہار کیا۔مثبت منفی ہر طرح کی آراء کھل کر سامنے آئیں۔دو گھنٹے کے نہایت علمی مناقشہ کے بعد آپ کو ممتاز نمبرات سے ایم اے کی ڈگری تفویض کی گئی۔
ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کے حصول کے لیے جو بحثیں لکھی جاتی ہیں ان کے کچھ نہایت اہم شروط و ضوابط اور طریقہ کار ہوتے ہیں جن کی پابندی ایک ریسرچ اسکالر کے لیے ضروری ہوتی ہے۔سعودی جامعات میں یہ شروط و ضوابط کافی سخت،
سب سے پہلا مرحلہ بحث کے لیے موضوع کے انتخاب کا ہوتا ہے۔نہ صرف یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس موضوع پر پہلے سے نہ لکھا گیا ہو بلکہ یہ چیز بھی مطمع نظر رہتی ہے کہ وہ موضوع ایک باحث کے لیے کس قدر مفید اور قارى کے لیے کس قدر سود مند ثابت ہوگا،
جس طرح آخرت کی پہلی منزل قبر ہے اور وہاں سے کامیاب نکلنے والا آگے کے منازل بھی کامیابی سے طے کر لے گا۔کچھ اسی طرح بحث وتحقیق کی دنیا میں موضوع کا اختیار بھی پہلا اور فیصلہ کن مرحلہ ہوتا ہے جہاں کامیاب ہونے والا عموما آگے بھی کامیاب وکامران نکل جاتا ہے۔
دونوں مناقشین نے اس موضوع (الجہود الدعویۃ لعلماء أہل الحدیث بالہند من خلال المجلات–دراسۃ تحلیلیۃ) کو خوب سراہا۔جہاں پہلے مناقش نے بحث کی پہلی خوبی "حسن اختیار الموضوع" قرار دیا،
کسی بھی بحث کو لکھتے وقت ایک نہایت اہم بات یہ ہوتی ہے کہ باحث نے موضوع کو کس قدر سمجھا اور اس کا کس قدر استیعاب واحاطہ کیا ہے۔کیونکہ جس قدر ایک باحث اپنے موضوع کو سمجھے گا۔اس کے اطراف وجوانب کا استیعاب واحاطہ کرے گا۔اسی قدر وہ اس کا حق ادا کرنے پر قادر ہوگا۔اس کے برعکس جس قدر موضوع کی سمجھ ضعیف اور اس کا احاطہ اس کی قدرت سے باہر ہوگا اسی قدر وہ اپنے بحث کا حق ادا کرنے سے قاصر ہوگا۔
باحث کا یہ پہلو بھی بہت عمدہ تھا۔چنانچہ پہلے مناقش نے بحث کی عام خوبیوں میں خصوصیت کے ساتھ یہ ذکر کیا کہ باحث نے نہ صرف موضوع کو اچھی طرح سمجھا ہے بلکہ شواہد وادلہ سے اسے سجایا بھی ہے۔مزید فرمایا کہ یہ چیز اب متاخرین طلبہ میں دھیرے دھیرے بہت ہی کم ہوتے جارہی ہے۔جبکہ دوسرے مناقش نے بحث کے امتیازی صفات میں "استیعاب الباحث لموضوعہ" کا خصوصی ذکر کیا۔
کسی بھی بحث کو لکھتے وقت سب سے اہم اور بنیادی چیز یہ ہوتی ہے کہ موضوع اور اس کے متعلقات وتفریعات نیز اطراف و جوانب کو سپورٹ کرنے والے دلائل وشواہد کو باحث نے کس طرح جمع کیا ہے؟ اور اپنی بحث کو معیاری بنانے کے لیے ان دلائل وشواہد کا کیسا استعمال کیا ہے؟
پہلے مناقش نے اس چیز کو بھی خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا اور بتایا کہ طالب علم شواہدو ادلہ کو جمع کرنے اور بحث کی تعمیر وبنا میں ان کا بہترین استعمال کرنے میں موفق اور کامیاب رہے ہیں۔مزید فرمایا کہ یہ چیز کسی بھی بحث کا ستون ہوتی ہے۔
کسی بھی بحث کو لکھتے وقت جو چیز بحث کے سطور میں جابجا موجود ہوتی اور اس کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے وہ اس بحث کے تیار کرنے میں کی جانے والی جدو جہد ہوتی ہے۔ایک طالب علم اپنی بحث میں جس قدر محنت کرتا ہے۔جس قدر اپنا پسینہ بہاتا اور خون جلاتا ہے۔اللہ تعالى اسى قدر اس بحث میں برکت دیتا اور اس باحث کو حسن توفیق سے نوازتا ہے۔چنانچہ کسی بھی بحث کے تئیں ایک باحث کی سنجیدگی اور اس کی کدوکاوش در اصل اس بحث کی روح ہوتى ہے۔جو اس بحث کے سطر سطر کو زندگی عطا کرتی اور اس کے حرف حرف میں توانائی پیدا کرتى ہے۔
اللہ کے فضل وکرم سے دونوں مناقشین نے طالب علم کی جدو جہد اور بحث لکھنے میں اس کی محنت اور کاوشوں کو کھل کر سراہا۔چنانچہ پہلے مناقش نے جہاں یہ کہا کہ پوری بحث میں دلائل وشواہد کے جمع کرنے اور انھیں بحث کی تعمیر وبنا میں بحسن وخوبی استعمال کرنے میں باحث کی جدو جہد عیاں وبیاں ہے۔وہیں دوسرے مناقش نے فرمایا کہ طالب علم نے اس بحث کو تیار کرنے میں کافی محنت کی ہے اور یہ چیز اس بحث میں بہت ہی کھل کر سامنے آئی ہے۔
پہلے مناقش نے بحث کے امتیازات گناتے ہوئے آخرى بات بہت ہی حوصلہ افزا کہی،
کسی بھی عمدہ بحث کی ایک خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اسے تیار کرنے میں بکثرت مصادر ومراجع کی طرف رجوع کیا جائے۔اور جس قدر ممکن ہو سکے بحث کو تیار کرنے میں ان کا بحسن وخوبی استعمال کیا جائے۔
دوسرے مناقش نے اس چیز کو بھی بخوبی ذکر کیا اور کہا کہ طالب علم نے بکثرت مصادر ومراجع کی طرف رجوع کیا ہے اور تقریبا چار سو صفحات پر مشتمل بحث کو تیار کرنے میں دو سو مصادر ومراجع کی طرف رجوع کیا ہے۔
عام حالات میں دو سو مصادر ومراجع ایم اے اور پی ایچ ڈی کی بحث کے لیے بہت زیادہ نہیں ہوتے۔مگر بحث کی نوعیت ایسی تھی کہ اس سے بہت کم مصادر ومراجع میں بحث ختم ہو سکتی تھی۔کیونکہ بحث کا اصل محور پانچ مجلات کا دراسہ اور ان کی تحلیل تھی اور ان کی روشنی میں جماعت اہل حدیث کے دعوتی جہود کو اجاگر کرنا تھا۔اس کے باوجود تقریبا دو سو مراجع ومصادر کی طرف رجوع کرنا اور اس بحث کو تیار کرنے میں ان کو اساس بنانا اس بحث کی ایک بڑی خوبی بن گئی۔
کسی بھی اچھے بحث کی ایک بڑی خوبی اس کے حوالہ جات میں پائی جانے والی دقت وباریکی اور مسائل کی توثیق میں موجود امانت داری ہوتی ہے۔یہاں بھی باحث موفَّق رہے۔مناقش ثانی نے اس کو کھل کر سراہا اور اس خوبی کو بحث کے جملہ امتیازات میں شمار کیا۔
اس بحث میں ایک فصل دعوت اور مدعویین سے متعلق تھی۔مناقش ثانی نے اس فصل کی خصوصی تعریف کی اور فرمایا کہ اس فصل میں طالب نے کمال کردیا ہے اور اس فصل کا ایسا معالجہ کیا ہے کہ یہ فصل اپنے علمی قدر وقیمت اور تحقیقی مقام ومنزلت میں بالکل الگ اور انوکھی محسوس ہوتی ہے۔
بسا اوقات بحث فی الحقیقت کسی بلیغ وصف کی اس قدر مستحق نہیں ہوتی جس قدر مناقشین کہتے ہیں۔مگر مناقش کریم النفس ہو تو ایک محنتی طالب کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کرتا ہے۔دونوں مناقشین نے اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔دوران مناقشہ برابر حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ان کے کلمات اس قدر تکریم وتقدیر اور محبت وشفقت میں ڈوبے ہوئے تھے کہ ان کے بعض تبصروں پر بسا اوقات آنکھوں میں آنسو آگئے۔
مناقش ثانی نے تو مناقشہ کے ابتدائی مرحلہ میں ہی کہا کہ اس بحث کے حجم اور اس میں کی گئی جدو جہد کو دیکھ کر ایسا بالکل نہیں لگتا کہ یہ ایم اے کا رسالہ ہے بلکہ یہ پی ایچ ڈی کا رسالہ محسوس ہوتا ہے۔یہ بات انھوں نے تاکیدا دوبار کہی۔ظاہر ہے ان کی یہ بات حوصلہ افزائی اور تشجیع کے لیے تھی۔تاہم ایک طالب علم کے لیے یہ بہت بڑا تمغہ ہے کہ اس کے ایم اے کی بحث کو پی ایچ ڈی کے برابر قرار دیا جائے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے جب ہم ایم اے (M.A)کے پہلے سال میں تھے تو ہمارے محترم استاذ پروفیسر محمد یعقوب ترکستانی نے مجھے یہ مشورہ دیا کہ تم اپنی فصلی بحث (یہ مختصر بحث عموما دس سے بیس صفحات پر مشتمل ہوتی تھی اور اس پر دس سے پندرہ نمبرات مقرر کیے جاتے تھے ) میں یورپی زبان دانوں کے بعض اعتراضات کا دراسہ کرو۔اسى طرح یورپ کے بعض لغوی مکاتب فکر کا دراسہ کرکے علماء عرب کے جہود کو درشاؤ۔اور دلیل سے یہ ثابت کرو کہ ان افکار ونظریات کا ان عربوں نے بہت پہلے ہی کتنى باریکی سے جائزہ لیا ہے؟ آج بعض یورپی محققین جن لغوی افکار ونظریات پر فخر کر رہے ہیں اور دنیا کو بتا رہے ہیں کہ وہ ان کے موجد اول ہیں،
چنانچہ میں نے اپنی فصلی بحث (النحو العربي بين التقليد والوصف والتحويل والتجميم والسياق) کے عنوان پر ایک سو بیس صفحات میں مکمل کی۔تفصیل سے چند یورپی افکار ونظریات اور بعض مکاتب فکر کا تقابلی دراسہ کیا۔جب بحث پیش کی تو آپ بہت خوش ہوئے۔فرمایا:اسے بحث کہتے ہیں۔میں جیسے چاہتا تھا تم نے بالکل ویسے ہی لکھا ہے۔حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مزید فرمایا:میرے نزدیک تم اس بحث پر ایم اے کی ڈگرى کے مستحق ہو۔
در اصل مدینہ منورہ میں اساتذہ عموما بہت وسیع الظرف اور کشادہ دل ہوتے ہیں،
اساتذہ کرام کے منہ سے نکلے اس طرح کے تشجیعی کلمات بھی اسی تعاون کا حصہ ہوتے ہیں۔جبکہ ہماری کم مائیگی اور کم علمی قطعا اس کی مستحق نہیں ہوتی۔
عموما ایک طالب علم ایک تجربہ کار،
ہم اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اس طرح کی باتیں حقیقی کم مجازی زیادہ ہوتی ہیں۔اور ہم طلبہ کی علمی کسمپرسی اس کی بعینہ مستحق نہیں ہوتی ہے۔مگر یہ وسیع القلب اساتذہ ہماری حوصلہ افزائی کی خاطر ایسے کلمات کہا کرتے تھے۔جو ہمارے لیے اکسیر کا کام کرتے تھے اور ہمارے قدم تعلیم وتعلم کی راہ سے نہ صرف ہٹنے نہیں دیتے تھے بلکہ ہمیں مزید جدو جہد پر ابھارتے اور آمادہ کرتے تھے۔
اسی طرح پی ایچ ڈی کے لےف لکھے گئے میرےتھیسس (کتاب المغازی فی صحیح البخاری-دراسۃ بلاغیۃ تحلیلیۃ )کا مناقشہ پروفیسر مبارک شتیوی حفظہ اللہ نے یہ کہہ کر شروع کیا کہ یہ پی ایچ ڈی کا ایک رسالہ نہیں،
اس طرح کی باتیں کریم النفس اساتذہ عموما طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے کہتے ہیں تاکہ طالب کو اعتماد کی قوت حاصل ہو۔وہ اپنی قدر وقیمت کو سمجھے اور حصول علم کے لیے مزید محنت کرے۔
کوئی طالب علم کتنی بھی محنت کرلے،
دونوں مناقشین نے اس قیمتی بحث میں چند غلطیوں کی بھی نشاندہی کی اور انھیں دور کرنے پر زور دیا تاکہ جس قدر ممکن ہو رسالہ کا معیار اچھے سے اچھا ہو جائے۔
درست کتابت اور الفاظ وتراکیب کی عام غلطیوں سے پاک تحریریں نہ صرف پڑھنے میں لطف دیتی ہیں بلکہ قاری کو غیر محسوس طریقہ سے متاثر بھی کرتی ہیں۔اس کے برعکس املا وطباعت کی غلطیاں نہ صرف بحث کے حسن کو متاثر کرتی ہیں بلکہ اچھے سے اچھی تحریرمیں بھی اگر وہ عیب ہوتو قاری اس سے بیزار ہونے لگتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی تحریر کو نشر کرنے سے پہلےاسے بار بار پڑھا جائے اور حتى الامکان اس کی لغوی املائی اور طباعتی غلطیوں کو قاری تک پہنچنے سے پہلے درست کردیا جائے۔
اس بحث میں بھی املاء و طباعت کی کچھ غلطیاں تھیں دونوں مناقشین نے ان غلطیوں کی نشاندہی کی اور انھیں درست کرنے کی تلقین کی۔
بحث میں ایک اہم مسئلہ متعدد شکلوں میں اضطراب کا ہوتا ہے۔یہ اضطراب چاہے بحث کی بنا وتعمیر میں مستعمل اسلوب میں ہو یا دلائل و شواہد کی توظیف واستخدام میں یا پھر باحث کے طریقہ استدلال اور طرز تحلیل وتعلیل میں؛
اس باب میں اصل یہ ہے کہ باحث ایک طریقہ اور ایک منہج بنا کر چلے۔پوری بحث میں یہ منہج کہیں بھی اضطراب و تناقض یا اختلاف وانتشار کا شکار نہ ہو۔بصورت دیگر بحث ایک بڑے خلل کا شکار ہو جاتی ہے۔
اس بحث میں کسی قسم کا کلیدی اضطراب تو نہیں تھا تاہم فصول ومباحث کی تمہید اس سے سلامت نہیں رہ سکی تھی۔چنانچہ بعض تمہیدیں قدرے طویل تھیں جبکہ بعض بہت ہی مختصر۔اگرچہ یہ تمہیدیں آنے والے موضوع کے اعتبار سے باندھی جاتی ہیں اور ان کا طول وقصر بہت حد تک ان موضوعات پر منحصرہوتا ہے پھر بھی ان کی ایک حد ہوتی ہے اور جملہ تمہیدوں میں باعتبار حجم ایک تناسب ہوتا ہے۔اس بحث میں یہ خامی رہ گئی تھی۔جس کے دور کرنے پر مناقش ثانی نے زرو دیا۔
تالیف وتصنیف کی دنیا میں ایک بڑا عیب احکام میں تعمیم کا اسلوب ہوتا ہے۔عموما یہ یا اس طرح کی غلطیاں تعلیم وتعلم کے ابتدائی مرحلہ میں،
اس بحث میں دو سے تین جگہوں پر باحث سے اس سلسلے میں چوک ہوئی تھی۔اگرچہ باحث کا کہنا تھا کہ اس نے جو بات لکھی ہے وہی درست ہے اور جہاں اس نے عمومی حکم لگایا ہے وہ واقعتا ویسے ہی ہے جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے۔تاہم مناقش ثانی نے اس عموم کو حذف کرنے پر زور دیا اور اس سے بچنے کی تلقین کی۔
اسی ضمن ایک اہم چیز جس کی طرف مناقش ثانی نے ضمنا اشارہ کیا وہ تھا حکم لگانے اور کسی بھی اختلافی مسئلہ کا معالجہ کرنے،
منہج سلف سے بیزار اور بھٹکے ہوئے افراد کی کتابوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے یا نہیں؟ ان کی کتابوں سے کب فائدہ اٹھانا چاہیے کب نہیں؟ اور کسے اٹھانا چاہیے کسے نہیں؟ یہ ایک تفصیل طلب مسئلہ ہے۔اس پر عموما بحث ہوتی رہتی ہے۔
سلف صالحین کی تعلیمات سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ گمراہ افراد کے لٹریچر سے جس قدر ممکن ہو دوری ہی میں عافیت ہے۔ان کی تحریریں کب دل ودماغ میں جگہ بنالیں اور بندہ شکوک و شبہات کا شکار ہوجائے یا گمراہی کے راستہ پر چل پڑے بسا اوقات احساس تک نہیں ہوتا۔
موجود دور میں یہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔آج جس طرح بہت سارے عقلانیوں کو شرعی مسائل میں موشگافیاں کرتے اور اپنی آراء کو نصوص کی طرح پیش کرتے ہوئے ہم دیکھ رہے ہیں بلا شبہ اس کا ایک بڑا سبب جادہ حق سے بھٹکے ہوئے افراد کی کتابوں کو پڑھنا،
باحث نے اپنی اس بحث میں بعض ایسے افراد کی بعض کتابوں کا بھی حوالہ دیا تھا جو عقیدہ ومنہج کے باب میں جادہ حق پر نہیں ہیں۔منہج سلف سے انھیں بیزاری ہے یا پھرمنہجی انحراف کا شکار ہیں۔مناقش اول نے ایسے تمام احالات کو حذف کرنے کا سختی سے حکم دیا اور اس بات کی تاکید کی کہ اس طرح کی بحثوں میں حتى الامکان ایسے افراد کی کتابوں کو مرجع نہ بنایا جائے۔
علم ادب سے خالی ہو تو محض بحث و مباحثہ،
ایسا علم صاحب علم سے صرف انا انا کی گردان کرواتا اور مخالف کے لے ہر اسلوب و انداز کو حلال بلکہ مستحب و واجب ٹھہرا دیتا ہے۔ایسے علم کا حامل حقیقی معنوں میں عالم نہیں ہوتا بلکہ اس کا شمار علماء سوء مں کا،
یی علم جب کردار و عمل سے مزیّن،
علم سے نسبت رکھنے والا کوئی بھی شخص علم کے کسی بھی مقام پر پہنچ جائے۔تعلیم وتعلم کے کتنے بھی منازل وہ طے کرلے۔فکر وفن کے کتنے ہی معرکے وہ سر کر لے۔اگر علم کے ساتھ ساتھ حسن خلق اور حسن ادب سے اس کی آشنائی نہیں ہے تو وہ علم نہ صرف اپنی قدر و قیمت،
اس پورے مناقشے میں جس بات پر مجھے سب سے زیادہ خوشى ہوئی اور فرحت و مسرت کا ایک عجیب سا احساس ہوا وہ مناقش ثانی کی آخری بات تھی جو انھوں نے اپنے مناقشہ کے بالکل آخر میں مسک الختام کے طور پر کہی۔
انھوں نے عزیزم کے حسن اخلاق،
اللہ کا فضل ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب ان کے اساتذہ نے اس طرح کی شہادت دی ہو۔گزشتہ اور پیوستہ مہینے عزیزم کے کالج میں بکثرت میرا جانا ہوا۔ان کے ڈیپارٹمنٹ کے سینئر اساتذہ سے جب بھی ان کا ذکر چھڑا انھوں نے ان کے حسن اخلاق اور حسن ادب کا خصوصی ذکر کیا۔
میرے لیے سب سے زیادہ خوشی کی بات یہی تھی۔مناقس ثانی کے اس تبصرہ نے مجھے جو مسرت عطا کی اسے میں الفاظ میں نہیں بیان کر سکتا۔بلا شبہ یہ پورے مناقشہ کا مسک الختام تھا۔اسی پر مناقشہ ختم ہوگیا۔پھر کچھ دیر بعد نتیجہ سنایا گیا جس میں انھیں ممتاز نمبرات سے ایم اے کی ڈگرى حاصل کرنے کی نوید سنائی گئی۔
اس شاندار مناقشے سے جو خوشی ہوئی ہوئی ہی۔حسن اتفاق اگلے ہی دن عزیزم کے پی ایچ ڈی میں فائنل داخلہ کی نوید بھی مل گئی۔طبیعت میں سرشاری کی ایک عجیب کیفیت تھی۔بہت دنوں کے بعد تعلیم وتعلم کے میدان سے جڑی اس طرح کی خوشیاں بیک وقت میسر آئی تھیں۔سرور وانبساط سے طبیعت لرزاں تھی۔خوشی کے اس مبارک موقع پراسی شام احباب کے لیے وادی عقیق کے کنارے ایک شاندار عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔اور دوسرے دن ہم خوشیوں سے لدے پھندے مدینہ منورہ سے اپنے جائے سکونت حائل کی طرف روانہ ہوگئے۔
اللہ تعالى عزیزم کی زندگی میں برکت عطا فرمائے۔انھیں سعادت سے بھرپور زندگی عطا کرے۔ان کے والدین،






