تنگ آگئی ہے آنکھ جہان خراب سے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اڑنے لگا ہے رنگ سخن اضطراب سے
کردوں کہیں رہا نہ اسے اپنے خواب سے
واضح ہے میری ذات کے لب لباب سے
کرتا ہوں استفادہ جنوں کی کتاب سے
پھیلی ہیں جاناں وحشتیں تیرے غیاب سے
اللہ ہی بچائے ہمیں اس عذاب سے
اب اور کوئی بدعت منظر کی بات ہو
تنگ آگئی ہے آنکھ جہان خراب سے
وہ پاس آکے ایسے بچھڑتا چلا گیا
جیسے دعائیں کھینچے خدا مستجاب سے
ہم نے بھی گفتگو کو وہیں پر کیا تمام
جب بات تو تک آگئی جی اور جناب سے
میں تھا کہ مجھ کو کوئی کہیں پوچھتا نہ تھا
مشہور ہوگیا ہوں ترے انتخاب سے
پھر موسم طرب میں وہی دل اداسیاں
خالی نہیں ہے رت کوئی غم کے نصاب سے
جس کے لئے خموشی ہی کافی تھی اب اسے
قانع نہ کرسکا میں جواب الجواب سے
کھنچتی ہے آہ دل میں کہ دل نے جہان کا
نظارہ کر لیا ہے نگاہ شباب سے
اس کی ہر ایک شے میں تھا حصہ مرا حسن
گھبرا گیا ہے وہ تو فقط انتساب سے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





